یورپ میں کورونا ختم نہیں ہوا، احتیاط ترک نہ کی جائے، سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول

رپورٹ کے مطابق ایسے وقت میں جبکہ رکن ممالک گرمیوں کی چھٹیوں سے قبل پابندیوں میں نرمی دکھا رہی ہیں، لوگ بتائے گئے احتیاطی اقدامات پر عمل نہیں کریں گے

یورپ میں کورونا ختم نہیں ہوا، احتیاط ترک نہ کی جائے، سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول

بیماریوں سے بچاؤ اور ان کی روک تھام کیلئے یورپین مرکز نے خبر دار کیا ہے کہ یورپ میں وباء ابھی ختم نہیں ہوئی۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے کورونا وائرس دوبارہ پھیل سکتی ہے۔  یورپین سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن ECDC کی جانب سے اس خطرے کی نشاندہی ایک نئی رسک اسیسمنٹ رپورٹ میں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایسے وقت میں جبکہ رکن ممالک گرمیوں کی چھٹیوں سے قبل پابندیوں میں نرمی دکھا رہی ہیں، لوگ بتائے گئے احتیاطی اقدامات پر عمل نہیں کریں گے۔

سینٹر کے تجزیے کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومتی پابندیوں کے اٹھائے جانے کے  بعد سماجی دوری اور دیگر حفاظتی اقدامات کے بارے میں اختیار کردہ عوامی رویے سے اس بات کا شدید خطرہ ہےکہ وہ لوگ جو دیگر خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہیں وہ آنے والے ہفتوں میں کورونا وائرس کا دوبارہ شکار ہوجائیں۔ ای سی ڈی سی کی ڈائریکٹر آندریا ایمن کے مطابق یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وباء ابھی ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں مسلسل کمی کا ٹرینڈ نظر آرہا ہے، وہیں کچھ ممبر ریاستوں سے کورونا وائرس کے کمیونٹیز کے درمیان پھیلاؤ کے جاری رہنے کی اطلاعات بھی آرہی ہیں۔ 

اسی طرح یہاں ہونے والی sero- epidemiological اسٹڈی میں بھی یہ بات سامنے آرہی ہے کہ یورپ میں قوت مدافعت کی سطح بھی کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپ میں لاک ڈاؤن کے باعث کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آئی اور 9 اپریل کے مقابلے میں 9 جون تک 14 دن کے لیے قرنطینہ یا علیحدگی اختیار کرنے والے افراد میں 80 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس وقت پولینڈ اور سویڈن کے علاوہ تمام یورپین ممالک کورونا کے انتہائی حد تک بڑھ جانے کا وقت گزار چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ بات درست ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں نے معاشرتی اور معاشی دونوں طرح کے نقصان اٹھائے ہیں۔