ایم ایم عالم کا ناقابل یقین کارنامہ

ایم ایم عالم سائرن کی آواز سنتے ہی آدھا کپ چائے کا چھوڑ کر اٹھے اور بھاگتے ہوئے رن وے پر آئے جہاں ان کا سیبر کھڑا تھا وہ کاک پٹ میں بیٹھے اور انجن سٹارٹ کرکے جہاز کو فضا میں بلند کیا اور ایک منٹ میں بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے اور واپس لینڈ کرکے جہاز سے نکل کر کنٹین میں جاکر اپنا چائے کا کپ اٹھا کر باقی ماندہ چائے پینے لگے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، اس کارنامے پر ان کانام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہے

ایم ایم عالم کا ناقابل یقین کارنامہ

ایم ایم عالم کے نام سے معروف ہونہار پائلٹ کا اصلی نام محمد محمود عالم تھا اور پاکستانی فضائیہ میں جنگی ہوا باز کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے 1965ءپاک بھارت جنگ میں کار ہائے نمایاں انجام دئیے اس دوران وہ سرگودھا ایئر پورٹ کی کنٹین میں بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ اچانک فضا سائرن کی آواز سے گونج اٹھی جس کا مطلب تھا کہ بھارتی جنگی طیارے ہم پر حملہ آور ہوئے ہیں بھارت کے پاس ان دنوں روسی ساختہ مگ 21 جنگی طیارے تھے جبکہ پاکستان کے پاس سیبر بھارتی طیارے ہر لحاظ سے اعلیٰ تھے اور پرواز بھی بہت بلندی تک کرسکتے تھے۔

ایم ایم عالم سائرن کی آواز سنتے ہی آدھا کپ چائے کا چھوڑ کر اٹھے اور بھاگتے ہوئے رن وے پر آئے جہاں ان کا سیبر کھڑا تھا وہ کاک پٹ میں بیٹھے اور انجن سٹارٹ کرکے جہاز کو فضا میں بلند کیا اور ایک منٹ میں بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے اور واپس لینڈ کرکے جہاز سے نکل کر کنٹین میں جاکر اپنا چائے کا کپ اٹھا کر باقی ماندہ چائے پینے لگے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، اس کارنامے پر ان کانام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہے۔بہر حال اس زبردست مار کے بعد بھارتی فضائیہ میں دوبارہ حملے کی ہمت نہ ہوئی اور اگر کبھی کہیں پاکستانی ہوا بازوں سے سامنا ہوبھی جاتا تو بھارتی پائلٹ ایسے بھاگتے جیسے بھوت دیکھ لیا ہو۔

ایم ایم عالم 6 جولائی 1935ءکو کلکتہ کے ایک خوش حال اور تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ثانوی تعلیم 1951ءمیں سندھ گورنمنٹ ہائی اسکول ڈھاکہ (سابقہ مشرقی پاکستان )سے مکمل کی۔ 1952ءمیں فضائیہ میں آئے اور 2 اکتوبر 1953ءکو کمیشنڈ عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے بھائی ایم شاہد عالم نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر تھے، اور ایک اور بھائی ایم سجاد عالم SUNY البانی میں طبعیات دان تھے۔ ایم ایم عالم نے 1965ءکی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کے لیے نمایاں کارنامہ انجام دیا۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد ان کی فیملی پاکستان میں قیام پزیر رہی۔

1965ء کی جنگ کے بعد 1967ءمیں آپ کا تبادلہ بہ طور اسکواڈرن کمانڈر برائے اسکواڈرن اول کے طور پر ڈسالٹ میراج سوم لڑاکا طیارہ کے لیے ہوا جو پاکستان ایئر فورس نے بنایا تھا۔ 1969ءمیں ان کو اسٹاف کالج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ 1972ءمیں انہوں نے 26ویں اسکواڈرن کی قیادت دو مہینے کے لیے کی۔ بنگالی ہونے کی وجہ سے 71 کی جنگ میں آپ کو ہوائی جہاز اڑانے کی اجازت نہیں دی گئی 1982ءمیں ریٹائر ہو کر کراچی میں قیام پزیر ہوئے۔

سکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم کو یہ اعزاز جاصل ہے کے انھوں نے 1965ءکی پاک بھارت جنگ میں سرگودھا کے محاذ پر پانچ انڈین ہنٹر جنگی طیاروں کو ایک منٹ کے اندر اندر مار گرایا جن میں سے چار 30 سیکنڈ کے اندر مار گرائے تھے۔ یہ ایک عالمی ریکارڈ تھا۔ اس مہم میں عالم صاحب ایف 86 سیبر طیارہ اڑا رہے تھے جو اس زمانے میں ہنٹر طیارے سے تین درجے فرو تر تھا۔ مجموعی طور پر آپ نے 9 طیارے مار گرائے اور دو کو نقصان پہنچایا تھا۔ جن میں چھ ہاک ہنٹر طیارے تھے۔

ایم ایم عالم کے آبائی علاقے کی مختصرتاریخ

711ءمیں اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں محمد بن قاسم برصغیر (موجودہ پاکستان و ہندوستان) کے خاصے حصے کو فتح کرتا ہے اور یوں برصغیر (موجودہ پاکستان) دنیا کی سب سے بڑی عرب ریاست کا ایک حصہ بن جاتا ہے، جس کا دار الحکومت دمشق، زبان عربی اور مذہب اسلام تھا۔ یہ علاقہ سیاسی، مذہبی اور ثقافتی طور پر عرب دنیا سے جڑ جاتا ہے۔ اس واقعہ نے برصغیر اور جنوبی ایشیا کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

1947ءسے پہلے بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش برطانوی کالونیاں تھیں اور برّصغیر کے نام سے جانے جاتے تھے۔ انگریزوں سے ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے دوران میں ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک علےحدہ ملک کا مطالبہ کیا۔ "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ" اس تحریک کا مقبول عام نعرہ تھا۔ اس مطالبے کے تحت تحریک پاکستان وجود میں آئی۔ اس تحریک کی قیادت محمد علی جناح نے کی۔ 14 اگست 1947ءکو پاکستان وجود میں آیا۔

تقسیم برصغیر پاک و ہند کے دوران میں انگریزوں نے کچھ ایسے سقم چھوڑے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان میں 1948ءاور 1965ءمیں کشمیر کے مسئلہ پر دو جنگوں کا سبب بن گئے۔ اس کے علاوہ چونکہ پاکستانی پنجاب میں بہنے والے تمام دریا بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہوکر آتے ہیں، لہذا پاکستان کو 1960ءمیں انڈیا کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کرنا پڑا، جس کے تحت پاکستان کو مشرقی دریاو¿ں، ستلج، بیاس اور راوی سے دست بردار ہونا پڑا۔ جبکہ دریائے سندھ، چناب اور جہلم پر پاکستان کا حق تسلیم کر لیا گیا۔

1947ءسے لے کر 1948ء تک پاکستان کو بڑی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بھارت نے پاکستان کے حصہ میں آنے والی رقم پاکستان کو ادا نہ کی۔ اس کے علاوہ صنعتی ڈھانچے کے نام پر پاکستان کے حصے میں گنتی کے چند کارخانے آئے اور مزید برآں کئی اندرونی و بیرونی مشکلات نے بھی پاکستان کو گھیرے رکھا۔ سندھ طاس معاہدے کے بعد بھارت نے پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاﺅں پر بھی ڈیم بنانا شروع کردئیے اس کی سازش یہ تھی کہ پاکستان کا پانی بند کرکے ہمیں بلیک میل کرسکے۔ لیکن ایم ایم عالم جیسے لاکھوں سپوت ہماری بری، بحری اور فضائیہ میں موجود ہیں، ابھی حال ہی میں ہمارے ایک شاہین نے بھارت کے دو جنگی طیارے خاک میں ملادئیے اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار بھی کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ جنگیں ہتھیاروں کی بنیاد پر نہیں جیتی جاتیں بلکہ جنگ میں جذبہ اور ایمان ہی فتح یاب ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بھارت پاکستان کے مقابلے میں پانچ گنا بڑا ہے اور اسی لحاظ سے اس کی آبادی، وسائل، آلاتِ حرب اور مسلح افواج بھی بڑی ہیں اگر جنگیں اسلحے کے زور پر جیتی جاتیں تو پاکستان کبھی بھی بھارت کو مغلوب نہ کرسکتا۔ حقیقت یہ ہے جنگیں ایم ایم عالم جیسے ہوا باز ہی جیتتے ہیں اور ہماری مسلح افواج میں وہ خواہ بری فوج ہو یا بحریہ یا پھر فضائیہ ایک سے بڑھ کے ایک سپوت شیر جوان موجود ہے، اسی لئے ہم سینہ تان کر بھارت کی ہر جارحیت کا دندان شکن جواب دیتے ہیں۔