چائلڈ لیبر پر قابو پانے سے ہی بچے کی پیدائش بطور  ذریعہ معاش کی سوچ میں کمی آئے گی

بچے کی پیدائش میں وقفے کے لئے امام، خطیب کو آن بورڈ لیا جا رہا ہے:  ہاشم ڈوگر

چائلڈ لیبر پر قابو پانے سے ہی بچے کی پیدائش بطور  ذریعہ معاش کی سوچ میں کمی آئے گی

 لاہور: وزیر بہبود آبادی پنجاب کرنل ر ہاشم ڈوگر نے کہا ہے کہ حکومت چائلڈ لیبر کے خلاف سخت قانون سازی کرنے جا رہی ہے تاکہ وہ لوگ جو 8 سے 9 بچے صرف  ذریعہ معاش کی غرض سے پیدا کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ والدین یہ سب ایک سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت کرتے ہیں۔ وہ آج لاہور میں محکمہ بہبود آبادی پنجاب اور پاپولیشن ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام فیملی پلاننگ بطور انسانی حقوق کے حوالے سے منعقدہ ڈسکشن سیشن  میں بطور مہمان خصوصی شرکت کر رہے تھے۔

سیکرٹری پاپولیشن علی بہادر قاضی، ڈائریکٹر جنرل محمد مالک بھلہ سمیت محکمہ بہبود آبادی کے افسران، پاپولیشن ایسوسی ایشن آف پاکستان اور این جی او پاتھ فائنڈر انٹرنیشنل کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ قانون سازی کے بعد اگر 16 سال سے کم عمر بچہ کسی گھر، فیکٹری یا دوکان پر کام کرتا پایا گیا تو مالک اور بچے کے والدین دونوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعظم پاکستان اس حوالے سے بہت سنجیدہ کاوشیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم پیدائش کی موجودہ شرح سے آگے بڑھیں گے تو ہمارا ملک کبھی ترقی نہیں کر سکے گا۔ ہاشم ڈوگر نے کہا کہ ہمارا فوکس علماء کرام کو ساتھ ملا کر عوام کو بچے کی پیدائش میں وقفے کے رحجان کے متعلق موثر آگہی دینا ہے۔ بچوں کی تعداد اور ان میں مناسب وقفے کے متعلق فیصلہ ہر شادی شدہ جوڑے کا ذاتی اور بنیادی حق ہے۔سالانہ 12000 خواتین دوران زچگی پیچیدگیوں کے باعث اپنی جان گنوا دیتی ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم بڑھتی آبادی کے مسئلے کی سنگینی سے بخوبی آگاہ ہیں اور  اس کو ہر فورم پر بھرپور طریقے سے اٹھایا جا رہا ہے۔حکومت پنجاب پاپولیشن جیسے سنگین مسئلے، فیملی پلاننگ کے رحجان کے فروغ اور زچہ بچہ کی جان کی حفاظت اور صحت کی بہتری کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔