محکمہ تحفظ ماحولیات اور رہنماء فیملی پلاننگ ایشیا ء کے باہمی اشتراک سے ورکشاپ کا انعقاد

ورکشاپ میں ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام بارے ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر زور صوبائی وزیر تحفظ ماحولیات محد رضوان اور متعدد پارلیمنٹرینز کی خصوصی شرکت خواہاں ہیں کہ ورکنگ گروپ تشکیل دیکر ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام یقینی بنائی جائے:محمد رضوان

محکمہ تحفظ ماحولیات اور رہنماء فیملی پلاننگ ایشیا ء کے باہمی اشتراک سے ورکشاپ کا انعقاد

لاہور: رہنماء فیملی پلاننگ ایشیا ء اور صوبائی محکمہ تحفظ ماحولیات کے باہمی اشتراک سے لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام یقینی بنانے کے حوالے سے ایک روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا، جس میں صوبائی وزیر تحفظ ماحولیات محمد رضوان نے بحیثیت مہمان خصوصی جبکہ پارلیمینٹرینز بشریٰ بٹ،سعدیہ سہیل،کنول پرویز،سمیراا حمد نے خصوصی طور پر شرکت کی۔سی ای او رہنماء ایف پی اے پی سید کمال شاہ نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ خواہاں ہیں کہ سول سوسائٹی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے لئے ورکنگ گروپ تشکیل دیئے جائیں تاکہ عوا م کو اس موضوع کی حساسیت بارے آگاہ کیا جا سکے۔

صوبائی وزیر تحفظ ماحولیات محمد رضوان نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جدھر کاربن کے مسائل زیادہ ہیں جبکہ دنیا بھر میں ری سائیکلنگ کا نظام زور پکڑ رہا ہے مگر پاکستان بالخصوص پنجاب میں ہسپتالوں کی ویسٹ کو غلط طریقوں سے استعما ل کر نے کی شکایات بڑھ رہی ہیں۔ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں سالانہ 04کروڑ بچے متاثر ہورہے ہیں کیونکہ پائرو لائسس پلانٹس،سمال ریکوری یونٹس،ٹائرز کو جلا کر تانبے کی تار نکالنا وغیرہ کی غیر قانونی پریکٹس کی شکایات بڑھ رہی ہیں،اسلئے ہم سب کو چاہیئے کہ جدھر بھی ایسی خلاف ورزی دیکھیں فوری طور پر محکمہ ماحولیات کے نوٹس میں لائیں تاکہ اسکا سد باب یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی واضح پالیسی موجود ہے کہ سمال ریکوری یونٹس کا خاتمہ کیا جائے،پائرولائسس پلانٹس کو بند کیا جائے اور یورو فائیو کو استعمال میں لایا جائے تاکہ ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہاکہ ہم سب کو ملکر عوام میں آگاہی پھیلانا ہوگی اور آج ملکر ایک جامع حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی تاکہ اپنی آنیوالی نسلوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے دیگر شرکاء نے شجرکاری کی اہمیت کو اجاگر کیاجبکہ پارلیمنٹرینز نے فلاحی اداروں کی وساطت سے سیمینارز وغیرہ میں آگاہی مہم پر زور دینے کی بات کی۔میڈیا نمائندگان سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہاکہ نوجوان نسل کے ساتھ ملکر احسن طریقے سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں تاہم ہم سب کو ملکر شجرکاری کی اہمیت بارے عوام کو مزید آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کلین اینڈ گرین پاکستان کا خواب مکمل ہو سکے۔

انہوں نے کہاکہ ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی فیکٹریوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں جبکہ صوبہ بھر میں باقی ماندہ تمام بھٹوں کی زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقلی کے لیے جامع منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاہم حکومت پنجاب سموگ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے بھٹوں کی جدید ٹیکنالوجی پر منتقلی کے مالی معاونت کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہاکہ سٹرکوں پر دھواں چھوڑنیوالی پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر گاڑیوں کی بندش سے قبل عوامی آ گاہی مہم کا آ غاز کیا جا رہا ہے تاہم پلاننگ کر رہے ہیں کہ اس مرتبہ صرف چالان کی بجائے گاڑیوں کو 10سے 15روز کے لئے بند کیا جاسکے جبکہ مالکان چالان اور بندش کی زحمت سے بچنے کے لیے گاڑیوں کے معائنے اور فٹنس کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ سموگ سیزن سے قبل حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

صوبائی وزیر نے ایک سوا ل کے جواب میں کہا کہ سب سے زیادہ خطرناک اور مضر صحت دھواں ویسٹ برننگ سے ہی پیداہوتا ہے جو بالخصوص بچوں کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کرتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس پر کنٹرول کیا جائے۔ ورکشاپ میں پراؤڈ پاکستان فاؤنڈیشن،برگد،آگاہی،پی پی ایف،یوتھ ایڈووکیسی نیٹ ورک کے نمائندگان کے ہمراہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تحفظ ماحولیات سے آئے ہوئے طلباء نے بھی شرکت کی۔