پنجاب میں گندم کی کاشت کا ہدف1 کروڑ70 لاکھ ایکڑ مقرر؛ 2 کروڑ ٹن سے زائد پیداوار متوقع

 گندم کی آئندہ فصل کی پیداواری حکمت عملی طے؛ ہدف حاصل کریں گے:  سید حسین جہانیاں گردیزی وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی کی زیر صدارت زراعت ہاؤس لاہور میں اہم اجلاس

 پنجاب میں گندم کی کاشت کا ہدف1 کروڑ70 لاکھ ایکڑ مقرر؛ 2 کروڑ ٹن سے زائد پیداوار متوقع

لاہور:اس سال گندم کی کاشت کا ہدف 1 کروڑ70 لاکھ ایکڑ مقرر جس سے 2 کروڑ60 لاکھ ٹن پیداوار ہوگی۔ امسال حکومت نے گندم کے کاشتکاروں کو سستا اور معیاری بیج فراہم کرنے کے لئے پنجاب سیڈ کارپوریشن کے تیار کردہ بیج کے تھیلے کی قیمت2850 روپے فی50 کلوگرام قیمت مقرر کی ہے۔ کاشتکارگندم کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کے لئے محکمہ زراعت کے منظور شدہ بیج کی زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کاشت کریں۔  

ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے گندم کی پیداواری حکمت عملی کے لئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔اجلاس میں سیکرٹری زراعت ساؤتھ پنجاب ثاقب علی،ڈائریکٹر جنرل زراعت(توسیع) ڈاکٹر محمد انجم علی،ڈائریکٹر جنرل زراعت(اصلاح آبپاشی) ملک محمد اکرم، منیجنگ ڈائریکٹر پنجاب سیڈ کارپوریشن ناصر جمال ہتیانہ سمیت زراعت(توسیع) کے تمام ڈویژنل ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔

وزیر زراعت نے کہا کہ کاشتکارگندم کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کے لئے محکمہ زراعت کے منظور شدہ بیج کی زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کاشت کریں اور اس ضمن میں وزیر زراعت نے شعبہ توسیع کے افسران کوآؤٹ ریچ(out-reach) بڑھانے اور گندم کی کاشت کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے فیلڈ سٹاف کو کاشتکاروں کی فنی راہنمائی اور مدد کرنے کی ہدایت کی۔

وزیر زراعت نے حکام کو ہدایت کی کہ گندم کا بیج،کھادو دیگرزرعی لوازمات کی مارکیٹ میں دستیابی یقینی بنائی جائے جس کے لئے انھوں نے مانیٹرنگ میکنزم کی منظوری دی۔وزیر زراعت نے کہا کہ گندم کی بروقت کاشت کے بعد نہروں کی بندش سے قبل ایک آبپاشی یقینی بنائی جائے۔ اجلاس میں و زیر زراعت پنجاب کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاگیا کہ امسال گذشتہ سال کی نسبت گندم کا محکمہ زراعت کا منظور شدہ اقسام کا تصدیق شدہ بیج زیادہ مقدار میں موجود ہے۔

اس کے علاوہ آبپاشی کے لئے پانی کی بھی کمی نہیں ہے اور محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے مطابق ماہ نومبرمیں بارش کا امکان موجود نہیں ہے اس لئے گندم کی کاشت کا بروقت ہدف یقینی بنایا جائے گا۔وزیر زراعت پنجاب نے معیاری زرعی مداخل کی دستیابی کو یقینی بنانے اور جعلی زرعی ادویات اور غیر معیاری کھادوں کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرلینس کی پالیسی پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت کی۔