آئی جی پنجاب کا لاہور سیالکوٹ موٹر وے کا دورہ۔ پی ایچ پی اور ایس پی یو کی سیکیورٹی ٹیموں کی پٹرولنگ کا جائزہ لیا۔

پی ایچ پی اور ایس پی یو کی ٹیمیں موثر پٹرولنگ اور سیکیورٹی اقدامات کا مقصد مسافروں کو ہر ممکن تحفظ اور سہولیات فراہم کرنا ہے۔

آئی جی پنجاب کا لاہور سیالکوٹ موٹر وے کا دورہ۔ پی ایچ پی اور ایس پی یو کی سیکیورٹی ٹیموں کی پٹرولنگ کا جائزہ لیا۔

لاہور:-انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے کہاہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے پرشہریوں کے تحفظ اور سہولت کیلئے پنجاب ہائی وے پٹرول اور سپیشل پروٹیکشن یونٹ کی ٹیمیں سیکیورٹی فرائض کیلئے تعینات کر دی گئیں ہیں جو سفر کرنے والوں کو مسافروں کو ہرممکن تحفظ، مدد اور راہنمائی فراہم کریں گی۔ انہوں نے مزیدکہاکہ پی ایچ پی اور ایس پی یو کی ٹیموں تین شفٹوں میں 24گھنٹے لگاتار پٹرولنگ کریں گی جو جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں کا قلع قمع کرتے ہوئے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں گی۔ انہوں نے ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی کیپٹن (ر) ظفر اقبال اعوان کو ہدایت کی کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے کی سیکیورٹی انتظامات کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے وہ خود فیلڈ وزٹ کرکے انسپکشن اور مانیٹرنگ کرتے رہیں اور جامع حکمت عملی کے تحت سیکیورٹی انتظامات کو بہتر سے بہتر بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر پی ایچ پی اور سپیشل پروٹیکشن یونٹ کی سکیورٹی ٹیموں کی تعیناتی اور پٹرولنگ کے آغازکے موقع پر افسران کو ہدایات اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی کیپٹن (ر) ظفر اقبال اعوان، ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی اظہر حمید کھوکھر، ڈی آئی جی سپیشل پروٹیکشن یونٹ بلال صدیق کمیانہ سمیت دیگر افسران موجود تھے۔

لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر سیکیورٹی انتظامات بہتر سے بہتر بنانے کے حوالے سے سنٹرل پولیس آفس میں ویڈیولنک کانفرنس کا انعقادکیا گیاجس میں فیڈرل سیکرٹری کمیونیکیشن ظفر حسن، آئی جی موٹر وے ڈاکٹر سید کلیم امام، آئی جی پنجاب انعام غنی،ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی کیپٹن (ر) ظفر اقبال، ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی اظہر حمید کھوکھر، ڈی آئی جی ایس پی یو بلال صدیق کمیانہ اور ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر نے شرکت کی۔ کانفرنس میں سیکرٹری کمیونیکیشن ظفر حسن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی تعمیر شدہ موٹر وے پر شہریوں کے تحفظ اور سہولت کیلئے ہر ممکن وسائل فراہم کیے جائینگے۔آئی جی پنجاب نے دوران گفتگو کہاکہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے کی سیکیورٹی کیلئے پنجاب پولیس سے ڈیپوٹیشن پر 100اہلکارموٹر وے پولیس کودئیے جائینگے جبکہ ایس پی یو اور پی ایچ پی کی مشترکہ ٹیمیں تین شفٹوں میں پٹرولنگ اور سکیورٹی فرائض انجام دیں گی اوران اقدامات کا مقصد موٹر وے پر سفر کرنے والے مسافروں کوجرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ آئی جی موٹروے ڈاکٹر سید کلیم امام نے دوران کانفرنس بتایاکہ ڈیپوٹیشن پر آنے والے لاہور پولیس کے اہلکاروں کو موٹر وے پولیس کی ٹیمیں تربیت فراہم کریں گی۔انہوں نے مزیدکہاکہ موٹر وے پولیس کی گاڑیاں بھی لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر فرائض کی انجام دہی میں معاونت فراہم کریں گی اور ابتدائی طور پرموٹر وے پولیس کی ٹیمیں ٹریفک کی بے ضابطگیوں کو روکنے کے حوالے سے فرائض انجام دیں گی۔

؎ مزید برآں خواتین پارلیمنٹرینز کے وفد نے سنٹرل پولیس آفس میں آئی جی پنجاب انعام غنی سے ملاقات کی۔فد میں شائستہ پرویز ملک، حناپرویز بٹ، عائشہ رضا فاروق،کرن ڈار، کنول لیاقت،ثانیہ عاشق، سابق ایم این اے سائرہ افضل تارڑ سمیت سول سوسائٹی کی نامور خواتین شامل تھیں۔ خواتین پارلیمنٹرینز کے وفد نے آئی جی پنجاب کو گجر پورہ واقعہ کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگا ہ کرتے ہوئے کہاکہ معاشرے میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کو بہتر سے بہتر بنایاجائے۔ آئی جی پنجاب نے گجر پورہ موٹر وے واقعہ میں ہونے والی پیش رفت سے خواتین پارلیمنٹرینز کے وفدکو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گجرپورہ موٹروے زیادتی کیس میں ملوث جنسی درندوں کو گرفتار کرنے کیلئے پولیس ٹیمیں شب و روز متحر ک ہیں اورکیس کی تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کی لمحہ بہ لمحہ خود نگرانی کر رہا ہوں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ خواتین اور بچوں کو ہر قسم کے جرائم سے محفوظ رکھنا پنجاب پولیس کی اولین ترجیحات میں ہے اور آزاد ملک کا شہری ہونے کے ناطے کوئی بھی مرد یا خاتون صوبے کے کسی بھی شہر میں بلا خوف و خطر سفر کر سکتا ہے اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ خواتین پارلیمنٹرینز کے وفد نے آئی جی پنجاب کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید کی کہ اس ہولناک واقعہ کے ملزمان کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

قبل ازیں ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی کیپٹن (ر) ظفر اقبال اعوان اور ڈی آئی جی سپیشل پروٹیکشن یونٹ بلال صدیق کمیانہ نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر تعینات ہونے والی پنجاب پولیس کی سکیورٹی ٹیموں اور پٹرولنگ پلان کا جائزہ لینے کے لیے دورہ کیا اور سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کو جاری کردہ ایس و پیز کے حوالے سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام افسران و اہلکار ہائی الرٹ ہو کر اپنے فرائض پور ی تندہی کے ساتھ سر انجام دیں اور 24گھنٹوں کے سکیورٹی پلان کے مطابق گشت کو پوری ذمہ داری کے ساتھ سر انجام دیں۔

مزید برآں گجرپورہ، موٹر وے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کی تحقیقات میں پنجاب پولیس روایتی اور جدید دونوں طریقہ تفتیش کے استعمال کو یقینی بنا رہی ہے اوروزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر آئی جی پنجاب کیس میں ہونے والی پیش رفت کی لمحہ بہ لمحہ خود نگرانی کر رہے ہیں۔کھوجیوں کی مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف 5کلو میٹر کا علاقہ چیک کرکے مشتبہ پوائنٹس مارک کر لئے گئے ہیں جبکہ کھوجیوں کی نشاندہی سمیت مختلف شواہد پر سات مشتبہ افراد محمدکاشف، عابد، سلمان، عبدالرحمن، حیدر سلطان، ابوبکر، اصغر علی کو حراست میں لیا گیاہے جن کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں اور انکی رپورٹس کے حصول کیلئے تندہی سے فالو اپ کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ آئی جی پنجاب کی تشکیل کردہ اعلیٰ سطحی سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تفتیش کے معاملات کے ہر پہلو کو باریک بینی سے دیکھ رہی ہے۔ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان سے ملتے جلتے حلیہ جات کے حامل15مشتبہ افرادکی پروفائلنگ کی گئی ہے جبکہ تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ ڈیٹاکا تجزیہ کیا جارہا ہے اورلوکل کیمرہ جات سے مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کرکے شناخت کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔آئی جی پنجاب نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کوہدایت کی ہے کہ زیادتی کے مرتکب درندہ صفت ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے اورمتاثرہ خاتون اوراسکے اہل خانہ کوہر ممکن ریلیف اور انصاف مہیا کیا جائے۔