سرکاری اثاثہ جات کو فروخت کی بجائے وسائل میں اضافے کا ذریعہ بنایا جائے

سرکاری اثاثہ جات کو فروخت کی بجائے وسائل میں اضافے کا ذریعہ بنایا جائے

لاہور:۔ بورڈ آف ریونیونجکاری پالیسی اور پرائیویٹائزیشن بورڈ ایکٹ 2010ء کے تحت اب تک نیلام کی جانے والی سرکاری اراضی کی تفصیلات سے آگاہ کرے۔ قائد اعظم سولر پاور لمیٹڈ کی نجکاری کافیصلہ محکمہ توانائی کی سفارشات کے مطابق اخراجات اور محاصلات کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ نجکاری کمیٹی کابینہ کو اپنی تجاویز سے آگاہ کرے گی۔ حتمی فیصلے کا اختیار مکمل کابینہ کا ہو گا۔  

ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے محکمہ خزانہ کے کمیٹی روم میں کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے 22واں اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔صوبائی وزیر نے کہ پہلے سے محدود صوبائی اثاثہ جات کا تحفظ اور منافع بخش استعمال حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سولر پاور پلانٹ کے معاملات وفاق کے ساتھ بھی زیر بحث لائے جا سکتے ہیں۔ پنجاب بورڈ آف ریونیو اراضی کے معاملات اور پائپ لائن منصوبہ جات کی تکمیل کے لیے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے ساتھ مشاورت کرے اس مقصد کے لیے چیف سیکرٹری کی خدمات بھی لی جائیں۔ اجلاس کے دیگر شرکاء میں صوبائی وزراء برائے آبپاشی محمد محسن لغاری، برائے زراعت نعمان احمد لنگڑیال، برائے معلومات و ثقافت فیاض الحسن چوہان، چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق، سیکرٹری خزانہ عبداللہ سنبل، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بابر حیات تارڈاور متعلقہ محکموں کے افسران شامل تھے۔ممبر بورڈ آف ریونیو نے اجلاس کو پنجاب پرائیویٹائزیشن بورڈ اور کابینہ کمیٹی برائے پرائیویٹائزیشن کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے تین نکاتی ایجنڈہ پیش کیا جس میں پنجاب کے مختلف اضلاع میں سرکاری اراضی کی نیلامی کے لیے بورڈ برائے نجکاری سے آکشن کمیٹیوں کو منتقلی، موجوداراضی کی ضلعی کمیٹیوں کے ذریعے فروخت کے معاملات کا جائزہ اور قائد اعظم سولر پاور لمیٹڈ کی نجکاری کا معاملہ شامل تھا۔ ممبر بورڈ آف ریونیو نے اجلاس کو بتایا کہ پنجاب بورڈ آف ریونیو نجکاری پالیسی اور پنجاب پرائیویٹائزیشن بورڈ ایکٹ،2010کے تحت پراؤیٹائزیشن بورڈ کو اب تک 1171جائیدادیں نیلامی کے لیے منتقل کر چکا ہے جن میں سے 497جائیدادوں کی نیلامی عمل میں لائی جا چکی ہے۔ قائد اعظم سولر پاور پلانٹ کی نجکاری کے لیے مارچ 2018ء میں بڈنگ کی دستاویز منظور کر لی گئی تھی بعد ازاں آڈٹ اور انکوائری کے معاملات کی وجہ سے موخر کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کے قانون کے مطابق پلانٹ کی نجکاری کا حتمی فیصلے کا اختیار حکومت کا ہے۔ تاہم بورڈ کی جانب سے محکمہ خزانہ کے تحفظات کی روشنی میں انرجی ڈیپارٹمنٹ سے مطلوبہ معلومات طلب کر لی گئی ہیں۔

٭٭٭٭٭