ممبرنیشنل کمیشن برائے حقوق چائلڈ رائٹس، پاکستان روبینہ فیروز بھٹی کی پنجاب آمد 

صوبائی وزیر اعجاز عالم آگسٹین کے ہمراہ سول سوسائٹی،میڈیا،وکلاء وغیرہ کے نمائندگان سے ملاقات. ملاقات میں صوبہ پنجاب میں بچوں کی حقوق بارے مسائل اور ان کے حل پر تفصیلی تبادلہ خیال  .

ممبرنیشنل کمیشن برائے حقوق چائلڈ رائٹس، پاکستان روبینہ فیروز بھٹی کی پنجاب آمد 

لاہور :.ممبرنیشنل کمیشن برائے حقوق چائلڈ رائٹس، پاکستان روبینہ فیروز بھٹی نے صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین کے ہمراہ نمائندگان سول سوسائٹی،میڈیا،وکلاء اور مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں سے نیو منسٹر بلاک میں ایک اہم ملاقات کی۔ملاقات میں ڈائریکٹر انسانی حقوق محمد یوسف،کالم نگار ضمیر آفاق،یو سی اے نیوز سے کامران چوہدری، نیا دور سے نبیلہ فیروز، چیئرمین بین الاقوامی لیگل افئیرز ایڈووکیٹ اسامہ ملک،چیئرمین چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی لاہور بار وحید احمد چوہدری، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ سمیرا شفیق، ایڈووکیٹ مقداد مہدی، چائلڈلیبر فرنٹ مہر صفدر علی، خواجہ سراؤں کی ترجمانی نایاب علی نے کی جبکہ فلاحی اداروں سرچ فار جسٹس سے افتخار مبارک، یوتھ ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن سے شاہد رحمت، ایس پی او سے شاہنواز اور ادارہ تعلیم و آگاہی سے ڈاکٹر بیلہ رزا جمیل نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ ملاقات میں صوبہ پنجاب کے بچوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔شرکاء کی جانب سے بچوں کے حقوق کو لیکر مختلف تجاویز پیش کی گئیں، جس میں چائلڈ لیبر ایکٹ کو چلڈرن ایکٹ میں شامل کرنا،ورکرز ایکٹ میں بہتری لاکر عام آدمی کی رسائی کے لئے ہیلپ لائن کا قیام،پنجاب بھر میں لیبر انسپکٹروں کی تعداد میں اضافہ،ڈسٹرکٹس لیول پر کوارڈینیشن میں مزید بہتری،برتھ رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا جانا،،نادرا میں سمارٹ کارڈ بنانا،پنجاب بھر کے تھانوں میں بچوں کو بڑوں سے علیحدہ رکھا جانا اور آبزرویشن روُمز بنانا، بچوں کے حوالے سے پولیس ریفارمز کو اہمیت دیا جانا شامل تھیں۔ ممبرنیشنل کمیشن برائے حقوق چائلڈ رائٹس، پاکستان روبینہ فیروز بھٹی نے شرکاء کو یقین دلایا کہ تمام تجاویز کو ایجنڈے کی صورت میں کمیشن کے فورم میں رکھا جائیگا تاکہ ہم اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کر سکیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے سی آر سی پر دستخط کیئے ہوئے ہیں جبکہ اس میں دنیا بھر میں بچوں کے حقوق کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے ایک لائحہ عمل موجود ہے تاہم پاکستان اپنی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے،اس لئے تحریک انصاف کی حکومت خواہاں ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر آگے بڑھا جاسکے۔نبیلہ فعروز بھٹی نے مزیدکہاکہ آج کی ملاقات کے بعد سب کو اعتماد میں لیکر مختلف ورکنگ گروپ تشکیل دیئے جائیں گے تاکہ ہر کوئی ذمہ داری سے اپنے اپنے اداروں وغیرہ میں بچوں کے حقوق کی حفاظت یقینی بنا سکے۔ صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹین نے کہاکہ بد قسمتی سے ماضی میں بچوں کے حقوق کی بات تو سبھی کرتے تھے مگر اس کو اتنی اہمیت نہیں دیجاتی تھی جبکہ تحریک انصاف کی حکومت میں صوبہ بھر میں ٹاسک فورس کا قیام ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہا ہے کیونکہ لاہور سے دور دراز کے علاقوں میں بچوں کے مسائل زیادہ سننے میں آتے ہیں اور ابھی بھی بہاولپور میں موہم رام اور ملتان میں زین کیس کے حوالے سے دورہ کرنے جا رہا ہوں تاکہ بچوں کے حقوق کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کے تحفظ اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لئے تمام متعلقہ محکموں کے تعاون کی ضرورت درکار ہے جبکہ  پنجاب حکومت چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے ساتھ پنجاب بھر میں بچوں کے حقوق کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات یقینی بنا رہی ہے۔صوبائی وزیر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہاکہ آج کی اہم ملاقات میں جو تجاویز پیش کی گئی ہیں وہ واقعی ہی قابل عمل ہیں اور ان کو ضرور ایجنڈے کا حصہ بنایا جا ئیگا۔