پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں کمرشل کورٹس و اوورسیز کورٹس ججز کےلئے چھ روزہ ٹریننگ ورکشاپ کی اختتامی تقریب

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان تربیتی ورکشاپ کے اختتامی سیشن میں خصوصی شرکت

پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں کمرشل کورٹس و اوورسیز کورٹس ججز کےلئے چھ روزہ ٹریننگ ورکشاپ کی اختتامی تقریب

لاہور:۔ (عالمین نیوز ) ورلڈ بینک اور محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے تعاون سے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں کمرشل کورٹس و اوورسیز کورٹس ججز کےلئے منعقدہ چھ روزہ ٹریننگ ورکشاپ مکمل ہو گئی. چھ روزہ تربیتی ورکشاپ کے اختتامی سیشن میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد، سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس امین الدین خان، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان، جسٹس ملک شہزاد احمد، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عاطر محمود، جسٹس جواد حسن، جسٹس عالیہ نیلم، جسٹس شاہد کریم، جسٹس سردار نعیم احمد، چودھری محمد اقبال، جسٹس اسجد جاوید گورال، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ ملک مشتاق احمد اوجلہ، سیشن جج کیس مینجمنٹ صفدر سلیم شاہد، ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے علاوہ چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ حامد یعقوب شیخ، سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ عمران سکندر بلوچ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس، آئی جی پنجاب، پاکستان و پنجاب کونسل کے ممبران، لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن و لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدور و عہدیداران، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور راولپنڈی کے سیشن ججز، انتظامی و پولیس افسران اور چیمبرز آف کامرس کے صدور بھی موجود تھے.  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ٹریننگ ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارا یہاں اکٹھا ہونا ہمارے سرمایہ کار اور کاروباری طبقے کے لئے بہترین اقدامات کو یقینی بنانا ہے. پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار سرمایہ کاری پر ہے، کاروباری معاملات میں مختلف مراحل پر مسائل پیدا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے اور یہ کاروباری معاملات عدالتوں میں آتے ہیں تاکہ انہیں حل کیا جاسکے لیکن کاروباری معاملات کا عدالتوں میں لٹک جانا مزید مسائل کو جنم دیتا ہے. چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جن ممالک میں بہترین عدالتی نظام موجود ہوتا ہے وہاں سرمایہ کاری بھی زیادہ آتی ہے. اگر ہم سرمایہ کاری میں اضافہ کے خواہشمند ہیں تو بہترین عدالتی نظام وقت کا اہم تقاضا ہے. انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم کی زیر نگرانی قائم ورکنگ گروپ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اور انویسٹمنٹ بورڈ کی رہنمائی کررہا ہے. کمرشل عدالتوں میں جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی کےلئے بہترین کیس مینجمنٹ سسٹم بھی ضروری ہے. چیف جسٹس پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی بھی سادہ کمرشل معاملہ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ میں حل ہو جائے اور اس کےلئے لاہور ہائیکورٹ نے بہترین اقدام کرتے ہوئے پنجاب کے 5 اضلاع میں ماڈل کمرشل کورٹس قائم کی ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاروں اور کارباری طبقے کو پولیس سے متعلقہ مسائل پولیس اپنی سطح پر جلد اور میرٹ پر حل کرے لیکن پولیس کی اعلیٰ سطح پر حالیہ تبدیلیاں تشویش کا باعث ہیں، اگر کسی پولیس آفیسر کو اپنا تحفظ حاصل نہیں ہوگا تو وہ عوام کے جان مال اور عزت کی حفاظت نہیں کرسکے گا. حکومت کو چاہیے کہ عدالتوں کو بہترین انفراسٹرکچر فراہم کرے کیونکہ سازگار ماحول فراہم کئے بغیر جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا. اس لئے یاد رکھیں ہم سب نے مل کر اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے...

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں چھ روزہ ٹریننگ ورکشاپ کے انعقاد پر ورلڈ بنک، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اور پی آئی یو کے مشکور ہیں، انہوں نے کہا ہم امید کرتے ہیں کہ ٹریننگ کورس مکمل کرنے والے ججوں کی صلاحیتوں میں نکھار آئے ہوگا. موجودہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی عدالتوں اور ججز کو جدید خطوط پر استوار کریں. ججز کے سیکھنے کا عمل ہمیشہ جاری رہنا چاہیے. پنجاب جوڈیشل اکیڈمی ججز کو تربیت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے. فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں کے بغیر کوئی بھی قانون کوئی معنی نہیں رکھتا، عدالتیں ہی کسی بھی ملک میں کسی بھی قانون کے نفاذ کو یقینی بناتی ہیں اور آئین میں موجود تمام حقوق کی یقینی بنانے میں عدالتیں اپنا کردار ادا کررہی ہیں. چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ہمارے ججز کو بہترین اور جدید تربیت فراہم کرنے والے ججز، وکلاء اور ماہرین کے مشکور ہیں. کمرشل کورٹس اور اوورسیز کا قیام وقت کا اہم تقاضا ہے. چیف جسٹس پاکستان کی رہنمائی میں پہلے مرحلے میں پنجاب کے پانچ اضلاع میں کمرشل ماڈل کورٹس قائم کی گئی ہیں. سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقے کو آسان اور معیاری انصاف کی فراہمی سے ہی ملکی ترقی ممکن ہو سکے گی. ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اپنے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہی‍ں. 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا کہ آج بانی پاکستان کا یومِ وفات ہے اور آج ہی ہم انکے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیتے ہوئے اکٹھے ہوئے ہیں. پاکستان کو ترقی کی منازل طے کرتا دیکھنا قائداعظم کا خواب تھا اور کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہاں سرمایہ کاری کےلئے سازگار ماحول نہ ہو. انہوں نے کہا کہ پاکستان اندرون و بیرون سرمایہ کاروں کو متعدد سہولیات فراہم کررہی ہے. سرمایہ کاروں کے اعتماد کےلئے عدالتوں میں کاروباری معاملات پر جلد اور معیاری فیصلے بہت ضروری ہیں. کمرشل مقدمات میں عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے کےلئے لاہور ہائیکورٹ نے متعدد اقدامات کئے ہیں... 

جسٹس شاہد کریم کا اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کاروباری معاملات میں اے ڈی آر سسٹم خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے. لاہور ہائیکورٹ اس حوالے سے سہولیات فراہم کررہا ہے. شفاف تجارت سے کاروباری حضرات کا اعتماد بڑھتا ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ سرمایہ کاری بڑھانے کا بنیادی پہلو شفاف اور پر اعتماد عدالتی نظام ہوتا ہے، اس حوالے سے پنجاب حکومت سرمایہ کاروں کے لئے مستقل لاء کمیشن بھی قائم کرے جو وقتاً فوقتاً اس سارے مراحل کی نگرانی کرے...

جسٹس جواد حسن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر کاروباری مقدمات کو نمٹانے میں بہت پیچھے ہے جبکہ پاکستانی آئین میں کمرشل کنٹریکٹس کے حوالے سے مکمل قوانین اور تحفظ موجود ہے. انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایت پر پنجاب میں خصوصی کمرشل کورٹس بنائی گئی ہیں اور ان کمرشل کورٹس میں زیر التواء مقدمات کو نمٹانے کے ساتھ ساتھ جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا. فاضل جج نے کہا کہ پاکستان بہت جلد دنیا کی بہترین کمرشل کورٹس کی فہرست میں شامل ہو جائے گا. پاکستان میں کاروباری معاملات کےلئے بہترین قانون سازی موجود ہے. جسٹس جواد حسن نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی پاکستانی اکانومی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات کے جلد فیصلوں کے بھی خصوصی عدالتیں قائم کی گئی ہیں کیونکہ جب تک اوورسیز پاکستانیوں کے لئے آسانیاں نہیں ہونگی تو بیرونی سرمایہ کاری کو بڑھایہ نہیں جا سکے گا...

اختتامی سیشن سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی حبیب اللہ عامر کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کمرشل اور اوورسیز مقدمات کے لئے خصوصی عدالتوں کو قائم کیا ہے اور ابتدائی مرحلے میں پانچ اضلاع میں کمرشل و اوورسیز کورٹس کا قیام عمل میں لایا گیا. ان کا کہنا تھا کہ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور راولپنڈی میں کمرشل و اوورسیز مقدمات کےلئے کورٹس قائم کی گئی ہیں اور کمرشل و اوورسیز کورٹس میں تعینات ججز کےلئے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیتی کورس منعقد کیا جارہا ہے. کمرشل مقدمات کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام سے کارباری طبقے کو بہت سہولت ہوگی. 

چھ روزہ تربیتی ورکشاپ کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے ججز، حاضر و ریٹائرڈ جوڈیشل افسران اور معروف وکلاء سمیت دیگر ماہرین نے لیکچرز دیئے...

 تقریب کے اختتام پر ٹریننگ کورس مکمل کرنے والے ججز، پنجاب جوڈیشل اکیڈمی، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اور دیگر معاونین کو شیلڈز بھی دی گئیں