پاکستانی فلاحی ادارے نے امارات میں مقیم افراد کو گھروں پرراشن پہنچانا شروع کر دیا

پاکستان ایسوسی ایشن ان دْبئی رابطہ نمبر بھی فراہم کر دیا گیا، جس پر کال کر کے مشکلات میں گھرے افراد راشن منگوا سکتے ہیں، راشن میں آٹا، چاول، دالیں، آئل، چینی پتی اور دیگر اشیاء شامل ہیں

پاکستانی فلاحی ادارے نے امارات میں مقیم افراد کو گھروں پرراشن پہنچانا شروع کر دیا

دْبئی(عالمین نیوز) متحدہ عرب امارات میں لاکھوں پاکستانی آباد ہیں، جو کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بننے والے مشکل حالات اور لاک ڈاؤن کے باعث دو وقت کی روٹی کھانے سے بھی عاجز ہو گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی ایک پاکستانی فلاحی تنظیم نے اس کڑے وقت میں لوگوں کی مدد کرنے کی ٹھان لی ہے۔ PAD (پاکستان ایسوسی ایشن ان دْبئی) کی جانب سے پریشان حال پاکستانیوں سمیت دیگر غیر ملکیوں کو بھی ان کے گھروں کی دہلیز پرراشن پہنچایا جا رہا ہے۔پاکستان ایسوسی ایشن کے ویلفیئر وِنگ کے رضا کاروں کی جانب سے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 1500 ضرورت مند خاندانوں کو کھانے پینے کی اشیاء کے پیکٹس ان کے گھروں تک پہنچائے گئے ہیں۔ویلفیئر ونگ کے ڈائریکٹر رضوان فینسی نے بتایا کہ ہماری تنظیم کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر 100 گھرانوں کوراشن پہنچایا جا رہا ہے۔اس راشن بیگ میں آٹے کا تھیلا، چاول، خشک دودھ، چینی، چائے کی پتی، خوردنی تیل، نمک اور تین قِسم کی دالیں شامل ہیں۔یہ راشن بیگ چار افراد کے خاندان کی تین ہفتوں کی ضرورت کے لیے کافی ہے۔ تاہم ہمیں روزانہ مزید سینکڑوں خاندانوں کی جانب سے غذائی سامان کی امداد کی اپیل کی جا رہی ہے، جس کے باعث اب روزانہ زیادہ گھروں تک راشن پہنچایا جائے گا۔ ہمارے رضاکار لوگوں کو راشن کا سامان دیتے وقت سماجی فاصلے کا بھی خاص خیال رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ضرورت مند افراد کو PAD کے دفتر پر بْلا کر ہجوم اکٹھا کرنے کی بجائے ان کے گھروں تک ہی راشن پہنچایا جا رہا ہے۔ہماری تنظیم کی جانب سے سوشل میڈیا پر تو راشن کی تقسیم کی مہم نہیں چلائی گئی،تاہم لوگ ہمیں واٹس ایپ گروپس اور فیس بْک میسجز کے ذریعے امداد کی اپیل کی جا رہی ہے۔امارات میں مقیم جن پریشان حال افراد کو روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہ PADکے رابطہ نمبر 043373632 پر کال کر کے راشن کی اپیل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ای میل welfare@pad.ae پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔راشن کے معاملے میں ان افراد کو ترجیح دی جا رہی ہے جو وزٹ ویزہ پر امارات آئے، مگر پھر پروازوں کی بندش کے باعث وطن واپس نہیں جا سکے، اس کے علاوہ جن افراد کو ان کی کمپنیوں کی جانب سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی یا پھر کورونا وائرس کے باعث جنم لینے والے معاشی بحران کے باعث جو افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہوگئے ہیں، ان سب کو یہ امداد فراہم کی جا رہی ہے۔فی الحال ہم دْبئی اور شارجہ میں کھانا پہنچا رہے ہیں، تاہم اگلے چند روز میں دیگر اماراتی ریاستوں تک اپنا دائرہ کار بڑھا دیں گے۔ دیگر افراد کو بھی ہمارے اس نیکی کے کام میں بڑھ چڑھ کر ساتھ دینا چاہیے، تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحقین کی امداد ہو سکے۔ ہماری یہی کوشش ہوتی ہے کہ جو بھی لوگ ہمیں فون کال کر کے کھانا حاصل کرنے کی درخواست کر رہے ہیں، ان سب کو کھانا پہنچایا جائے۔