پی آئی اے کے پائلٹ، فلائٹ اٹینڈنٹ میں کورونا وائرس کی تصدیق

پائلٹ کو قرنطینہ مرکز لے جایا گیا جبکہ فلائیٹ اٹینڈنٹ کو ایک ہوٹل میں آئی سولیشن میں رکھا گیا ہے

پی آئی اے کے پائلٹ، فلائٹ اٹینڈنٹ میں کورونا وائرس کی تصدیق

راولپنڈی(عالمین نیوز)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے پائلٹ اور فلائیٹ اٹیننڈنٹ کا اسلام آباد کے ہوٹل کے قرنطینہ مرکز میں کورونا وائرس کی ٹیسٹ مثبت آگیا۔پائلٹ کو قرنطینہ مرکز لے جایا گیا جبکہ فلائیٹ اٹینڈنٹ کو ایک ہوٹل میں آئی سولیشن میں رکھا گیا ہے۔پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے 14 عملے کا ٹیسٹ کیا گیا جن میں سے 5 میں کورونا وائرس مثبت آیا جبکہ دیگر 9 میں تصدیق نہیں ہوسکی جس کے بعد انہیں واپس گھر بھیج دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پائلٹ اور فلائیٹ اٹینڈنٹ جو ایک روز قبل ہی میں کینیڈا سے آئے تھے، کو بالترتیب اسلام آباد میں قرنطینہ مرکز اور آئی سولیشن میں بھیج دیا گیا ہے۔جہاز کے عملے کے دونوں اراکین 2 اپریل کو چلنے والی کراچی سے ٹورنٹو کی خصوصی پرواز میں شامل تھے جو 8 اپریل کو اسلام آباد واپس آئی تھی۔ان دونوں کو اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں دیگر عملے کے اراکین کے ہمراہ قرنطینہ مرکز لے جایا گیا جہاں دونوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔ترجمان کا کہنا تھا کہ 20مارچ کو کورونا وائرس کا شکار ہونے والے پی آئی اے کے عملے کے اراکین کو 22 روز بعد ڈسچارج کردیا گیا ہے۔پاکستان ایئرلائنز پائلٹ ایسوسی ایشن (پالپا) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دعویٰ کیا کہ کورونا وائرس کا شکار ہونے والے پائلٹ کو پولیس ایسے لے کر گئی جیسے کسی جرم میں گرفتار کرکے لے جارہی ہو۔تاہم پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ معیاری کام کرنے کے طریقہ کار (ایس او پی) کے مطابق جب کسی عملے کے رکن میں علامات سامنے آتی ہیں اور اسے قرنطینہ منتقل کرنے کی یا آئی سولیشن میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تو ایک ایمبولینس بھیجی جاتی ہے جس کے ساتھ پولیس بھی موجود ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں کورونا کا شکار ہونے والے ایک اور عملے کے رکن کے ساتھ بھی معیاری طریقہ کار ہی اپنایا گیا تھا۔