کورونا وائرس کی تیسری لہر میں شدت کی وجہ عوام کی جانب سے ایس او پیز پر عمل نہ کرنا ہے، وفاقی وزیر اسد عمر

کورونا وائرس کی تیسری لہر میں شدت کی وجہ عوام کی جانب سے ایس او پیز پر عمل نہ کرنا ہے، وفاقی وزیر اسد عمر

اسلام آباد :وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی ، اصلاحات و خصوصی اقدامات اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر میں شدت کی وجہ عوام کی جانب سے ایس او پیز پر عمل نہ کرنا ہے، روزانہ 70 ہزار ڈوز لگائی جا رہی ہیں، ملک میں اب تک تیرہ لاکھ لوگوں کوکورونا سے بچاؤ کی ویکسین ڈوزلگائی جا چکی ہے جبکہ ابھی بھی ہمارے پاس نو لاکھ ڈوز باقی ہیں، صدر مملکت اور وزیراعظم سمیت آئینی عہدوں پر براجمان لوگوں نے بھی اپنی باری کا انتظار کیا اورویکسین لگوائی،تعلیمی اداروں کی بندش اور کھولنے کا فیصلہ بین الصوبائی وزارتی کمیٹی کرتی ہے این سی او سی انہیں صرف خطرات سے آگاہ کرتی ہے، ایک دفعہ کورونا کا شکار افراد میں دوبارہ وائرس ہونا پانچ سو میں سے ایک فرد میں چانسز ہیں، نیشنل پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و سربراہ این سی او سی اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہمیں تقریباََ ایک ماہ قبل یہ نظر آنا شروع ہوا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آ رہی ہے ہمیں شک ہوا کہ کہِیں یہ برطانوی وائرس تو نہیں آگیا تحقیق پر معلوم ہوا کہ واقعی یہ برطانوی وائرس ہی ہے کیونکہ یہاں سے بڑی تعداد میں لوگ برطانیہ آتے جاتے ہیں جس کے بعد ہم نے کوشش کی کہ انتظامیہ اور میڈیا کے ذریعے عوام تک کورونا سے بچاؤ اور حفاظتی تدابیر کے حوالے سے اپنا پیغام عوام تک پہنچایا جائے مگر شائد لوگوں کے دل سے اسکا خوف ختم ہو گیا کہ کیونکہ نہ عوام نے اس طریقے سے ایس او پیز پر عمل کیا اور نہ ہی انتظامیہ لوگوں سے اس پر عملدرآمد کروا سکی جس کی وجہ سے یہ وباء ملک بھر میں بہت تیزی سے پھیلی

، پنجاب اسلام آباد، کے پی آزاد کشمیر کے بعد اب بلوچستان اور سندھ میں بھی برطانوی وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کے بعد ہم نے پچھلے آٹھ دس دنوں سے سختی کی ہے جس کی وجہ سے اب اس وائرس میں کمی تو نہیں ہوئی تاہم اس میں کچھ ٹھہراؤ نظر آرہا ہے، اب چونکہ رمضان شروع ہو رہا ہے جس کے آخری عشرے میں لوگ اعتکاف بیٹھتے ہیں، عبادات میں مصروف ہوتے ہیں اور بازاروں میں شاپنگ کے لئے نکلتے ہیں جہاں پر رش ہوتا ہے اس لئے یہاں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ خدانخواستہ اگر یہ وباء زیادہ پھیلی تو پھر حکومت کو زیادہ سخت اقدامات کرنے پڑیں گے اور اس کا اثر لوگوں کے روزگار پر پڑیگا اور پھر یہ اثر گھوم پھر کر حکومت پر آئے گا،

اسد عمر نے مزید کہا کہ دنیا میں جتنی ویکسین کی طلب ہے اتنی سپلائی نہیں ہے ۔امریکہ ویکسین بنانے والوں ممالک میں سرفہرست ہے تاہم اس کی اپنی آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ ویکسین زیادہ مقدار میں دوسرے ممالک نہیں بھیجی جا سکتی اس کے بعد چین، بھارت اور روس سب سے بڑا ذریعہ ہیں جن سے پاکستان سمیت ہر ملک ویکسین لینے کا خواہشمند ہے، پاکستان میں روزانہ ستر ہزار ڈوز لگائی جا رہی ہیں، ملک میں اب تک تیرہ لاکھ لوگوں کوکورونا سے بچاؤ کی ویکسین ڈوزلگائی جا چکی ہے جبکہ ابھی بھی ہمارے پاس نو لاکھ ڈوز سے زائد باقی ہیں، اور ہماری کوشش ہے کہ عید کے بعد روزانہ دو لاکھ سے زائد لوگوں کو ویکسین لگائی جا سکے،

صدرمملکت اوروزیراعظم سمیت آئینی عہدوں پر براجمان لوگوں نے بھی اپنی باری کا انتظار کیا اورویکسین لگوائی، وزیراعظم عمران خان کو ویکسین لگانے سے قبل انفیکشن ہو چکا تھا، وفاقی وزیر نے بتایا کہ عمر رسیدہ افراد میں نوجوانوں کی نسبت وائرس سے متاثر ہونے کے زیادہ چانسز ہوتے ہوتے ہیں، اٹھارویں ترمیم کے بعد ایک ٹیکہ تک نہیں لگایا پرایئویٹ سطح پر 18700 جبکہ سرکاری تیرہ لاکھ لوگوں کو ڈوز لگائی جا چکی ہیں، اس کیلئے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے اسلئے اس پر تنقید غیر ضروری ہے، انہوں نے مزید کہا کہ انکے ذاتی خیال میں پرائیویٹ سیکٹر کوویکسین درآمد کی بالکل اجازت ہونی چاہیئے،

تعلیمی اداروں کی بندش اور کھولنے کا فیصلہ بین الصوبائی وزارتی کمیٹی کرتی ہے این سی او سی انہیں صرف خطرات سے آگاہ کرتی ہے، ایک دفعہ کورونا کا شکار افراد میں دوبارہ وائرس ہونا پانچ سو میں سے ایک فرد میں چانسز ہیں۔ اس وائرس سے اموات کی تعداد پچاس برس میں کم ساٹھ سال میں اس سے زیادہ جبکہ ستر سال میں بہت زیادہ ہے۔

ہماری عوام سے گزارش ہے کہ وہ کم از کم اپنی رجسٹریشن ضرور کروا لیں تاکہ جیسے جیسے ویکسین آتی جائے انہیں لگتی جائے،اس وقت پچاس برس سے زائد عمر کے سترہ لاکھ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی رجسٹریشن کروائی ہے جبکہ یہ تعدادٹوٹل کا دس فیصد بنتی ہے جو کہ انتہائی کم تعداد ہے، انہوں نے کہا کہ اٹحارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو یہ ویکسین نہیں لگائی جائے گی۔ اس موقع پر صدر این پی سی شکیل انجم سیکرٹری این پی سی انور رضا نے بھی وفاقی وزیر کو نیشنل پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں شرکت کرنے پر خوش آمدید کہا، قبل ازیں وفاقی وزیر اسد عمر کے نیشنل پریس کلب پہنچنے پر صدر این پی سی شکیل انجم سیکرٹری انور رضا جوائنٹ سیکرٹری ندیم چوہدری اور دیگر سینئر صحافیوں نے پر تپاک استقبال کیا ار انہیں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔