آئی جی پنجاب کی زیر صدارت سنٹرل پولیس آفس میں ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 

 اجلاس میں پولیس یونیفارم، خطرناک ملزمان کی گرفتاری اور پروموشن پالیسی سمیت دیگر امور زیر بحث آئے  سنگین جرائم میں ملوث خطرناک اشتہاریوں کی گرفتاری میں غفلت برتنے والے فیلڈ افسران کو جواب دینا ہو گا : آئی جی پنجاب 

آئی جی پنجاب کی زیر صدارت سنٹرل پولیس آفس میں ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 

لاہور: انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر نے ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں تمام افسران سے  مشاورت کے بعد پولیس فورس کی وردی کے لئے مزید بہترمعیار کے کپڑے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس کی وردی کے لئے ایسے آرام دہ اور بہتر کپڑے کا انتخاب کیا جائے جو ہرطرح کے موسمی حالات سے نبرد آزما ہونے کے ساتھ ساتھ دفاتر اور فیلڈ دونوں طرز ڈیوٹی میں معاون ثابت ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے تھانوں کے لئے فراہم کی گئی 500نئی گاڑیوں کی اضلاع میں تقسیم کے حوالے سے جرائم کی شرح، آبادی کا تناسب،تھانے کا رقبہ، جغرافیہ او رضلع میں گاڑیوں کے فلیٹ کو ہر صورت مد نظر رکھا جائے تاکہ صوبہ بھر میں جرائم کے شرح  کو کم سے کم کیا جا سکے اور حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی اس سہولت سے صوبہ کے تمام اضلاع مستفید ہو ں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس میں ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کیا۔اجلاس میں پولیس یونیفارم، خطرناک ملزمان کی گرفتاری اور پروموشن پالیسی سمیت  دیگر محکمانہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ  فیصلہ سازی کیلئے تمام افسران نے زیر بحث امور کے حوالے سے تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔ اجلاس میں سنگین جرائم میں ملوث خطرناک اشتہاریوں، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جاری کاروائیوں کا بھی تفصیلی جائز ہ لیا گیا اور معاشرے کے ان ناسوروں کو قانون کی گرفت میں لانے کے لئے جاری آپریشنز کو تیز تر کرنے کے ساتھ ساتھ ان آپریشنز میں کام کرنے والی ٹیموں کو زمینی حقائق کے مطابق مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک پر اعتماد کے علاوہ جدید اورڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بامقصد استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

آئی جی پنجاب نے فیلڈ افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر بالخصوص دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جاری آپریشن کو تیز تر کیا جائے اورفیلڈ افسران خطرناک ملزمان کی گرفتاری کے لیے بنائی گئی پولیس ٹیموں کی کمانڈ اور نگرانی خود کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث خطرناک اشتہاریوں کی گرفتاری میں غفلت کا مظاہرہ کرنے والے فیلڈ افسران یہ نہ سمجھیں کہ انہیں پوچھا نہیں جائے گا بلکہ غفلت اور کوتاہی کے مرتکب افسران کو اس کاجواب دینا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جزا و سزا کا متوازی عمل فورس کے مورال کو بلند رکھنے کے علاوہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے اور پروفیشنل مقابلوں کی فضا قائم کرنے کے ساتھ ساتھ بہتر نتائج حاصل کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے لہذا افسران واہلکاروں کی کارکردگی رپورٹ اور پیشہ ورانہ تربیت سمیت دیگر امورپر بطور خاص نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ فورس کو سہولیات کی فراہمی بھی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرٹ اور سنیارٹی کے مطابق محکمانہ پروموشن فورس میں شامل ہر اہلکار و افسرکا بنیادی حق ہے چنانچہ دفاتر اور فیلڈ میں فرائض سر انجام دینے والے افسران واہلکاروں کی کارکردگی جانچنے کیلئے پرفارمنس انڈیکٹرز کوکسی صورت نظر انداز نہ کیا جائے اور پروموشن رولز میں افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت، فیلڈ تجربے اور پرفارمنس ایویلوئیشن رپورٹ سمیت دیگر امور کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی، کیپٹن (ر) ظفر اقبال اعوان، ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس طارق مسعودیٰسین، ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی اظہر حمید کھوکھر، ایڈیشنل آئی جی لاجسٹکس علی عامر ملک،،ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ شاہد حنیف،ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ بی اے ناصر، ایڈیشنل آئی جی آر اینڈڈی غلام رسول زاہد،کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ کیپٹن (ر) احسان طفیل، ایڈیشنل آئی جی ایلیٹ فاروق مظہر، ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن فیاض احمد دیو،ایڈیشنل آئی جی ٹریفک صاحبزادہ شہزاد سلطان، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی محمد طاہر رائے اور ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ زعیم اقبال شیخ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔