ملک میں ہو کیا رہا ہے، شاہد خاقان

ایک وزیر نے کہاکہ روزانہ 40 ہزار ٹیسٹ ہورہے ہیں، کل وزیر خارجہ نے بتایا 20 ہزارٹیسٹ کی صلاحیت ہے ،آخر کون ٹھیک کہہ رہاہے بتایا جائے۔

ملک میں ہو کیا رہا ہے، شاہد خاقان

مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھا تے ہوئے کہا کہ ملک میں کنفیوژن ہے، یہاں ہو کیا رہا ہے؟ بتایا جائے ملک میں کورونا سے متعلق کیا حکمت عملی ہے؟اس وباءسے نمٹنے کےلیے کس وزارت کو ذمہ داری دی گئی ہے؟ایک وزیر نے کہاکہ روزانہ 40 ہزار ٹیسٹ ہورہے ہیں، کل وزیر خارجہ نے بتایا 20 ہزارٹیسٹ کی صلاحیت ہے ،آخر کون ٹھیک کہہ رہاہے بتایا جائے۔

شاہد خاقان عباسی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وزیراعظم نے کہا تھا لاک ڈاؤن نہیں کریں گے پھرانہوں نے کہا کہ اشرافیہ نے لاک ڈاؤن کردیا ہے، وزیراعظم بتائیں یہ اشرافیہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ حکومت کہتی ہے ملک کے 70 فیصد علاقوں میں لاک ڈاؤن ہی نہیں ہوا، کورونا وائرس کا انفیکشن ریٹ 19 فیصد ہے،کوئی وزیرسننے والا بھی ہونا چاہیے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں نہ ٹیسٹنگ پروٹوکول ہے نہ ٹریٹمنٹ پروٹوکول ہے، حکومت کورونا روکنے کے لیے کچھ نہیں کرے گی، عوام کو بھگتنا پڑے گا۔

شاہد خاقان نے کہاکہ وزیراعظم اپوزیشن سے مشاورت کے لیے ایک گھنٹہ نہیں نکال سکے، نہ ہی وہ پارلیمنٹ میں آئے ہیں،ٹائیگر فورس میں کون لوگ ہیں ؟ کیسے کام کریں گے ، بجٹ کون دےگا ؟، اللہ نہ کرے یہ کل عوام کی جنازے اٹھاتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے حکومت سوتی رہی اور چینی کا بحران آیا اور عوام نے بھگتا، اب بھی ایساہی ہوتا نظر آ رہا ہےحکومت کورونا روکنے کے لیے کچھ نہیں کرے گی، عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ مسلم لیگ نون کے رہنما نے کہا کہ وزرا دو دو تین تین ٹیسٹ کرواچکے ہیں، جن کے ٹیسٹ ضروری ان کے نہیں ہوتے، یہاں ماسک کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی، وینٹی لیٹرز پر کمیشن کھائے جارہے ہیں جبکہ وزیراعظم خود کہہ چکے ہیں کہ مئی کے آخر میں بہت لوگ مریں گے، اب موجودہ اعداد و شمار اور حالات دیکھ کر لگتاہے ٹھیک ہی کہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ میں فیصلہ ہوا صوبوں کو پی پی ای نہیں دی جائے گی، این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ زیرو کردیں وفاق کو پھر بھی فائدہ نہیں ہوگا، صوبوں کا حصہ کرنے سے ملک تباہ ہوجائے گا۔ شاہد خاقان نے کہا کہ وزیراعظم کے ٹوئیٹر ہینڈلر کو پولیو پروگرام کا انچارج بنایا گیا، پولیو بڑھا تو اس ٹوئیٹر ہینڈلر کو نکال دیا ، یہ پولیو پر قابو پانے کا حل نکالا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہاؤس کا ماحول ٹھیک رکھنا ہے تو پھر ہاؤس کو طریقہ کار پر چلائیں، وزیراعظم اپوزیشن سے مشاورت کے لیے ایک گھنٹہ نہیں نکال سکے، نہ ہی وہ پارلیمنٹ میں آئے ہیں ۔

شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ ویب سائٹس لمبی لمبی میٹنگوں کی تفصیل سے بھری ہوئی ہیں، بتایا جائے کورونا کے خلاف اسٹریٹیجی کیا ہے، ہاؤس کو ایک کاغذ دے دیں جس میں لکھا ہو یہ کورونا سے متعلق اسٹریٹیجی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دہاڑی دار مزدوروں سے متعلق ہمیں بھی تشویش اور پریشانی ہے ،وزیراعظم نے کہا تھا کہ لاک ڈاون نہیں کریں گے ،پھر وزیراعظم نے بتایا کہ اشرافیہ نے لاک ڈاؤن کردیا، یہ اشرافیہ کون ہے ؟ جس دن وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاون نہیں ہوگا اسی دن ان کےگھر کے سامنے کرفیو لگا تھا ، لاک ڈاون نہیں، پھر ایک نیا لفظ آیا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کریں گے ۔