ماحولیاتی تبدیلی اور بچوں کا مستقبل؟

آج کے بچے اپنے والدین کے بچپن سے زیادہ درجہ حرارت، فضائی آلودگی اور صفائی کے فقدان کا شکار ہیں

ماحولیاتی تبدیلی اور بچوں کا مستقبل؟

زمانہ بدل رہاہے، ماحولیات بھی تبدیلی کی زد میں ہے لیکن خطرے کی بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی مثبت کے بجائے منفی نظر آتی ہے۔ آج کے بچے اپنے والدین کے بچپن سے زیادہ درجہ حرارت، فضائی آلودگی اور صفائی کے فقدان کا شکار ہیں۔ یہ نسل جب بڑ ی ہوگی تو اس کی آنے والی نسل اس سے زیادہ ماحولیاتی آفات و حادثات کا سامنا کررہی ہوگی۔ 

اس کا سیدھا مطلب یہ ہےکہ اگر ابھی ہم نے اقدامات نہ کیےتو وہ ساری سائنس فکشن کی کہانیاں سچ ثابت ہو جائیں گی جن میں ایک تباہ حال، ویران اور قحط زدہ دنیا دکھائی جاتی ہےاور وہاں انسانوں کا گروہ پانی اور سبزے کو ترس رہا ہوتاہے۔ ماضی کے مقابلے میں آج دنیا کا درجہ حرارت بڑھ چکاہے، اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ آج پیدا ہونےوا لا بچہ پیدائشی طور پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے ہرگز محفوظ نہیں ہے۔ اس سے پہنچنے والے نقصانات کا اثر ساری زندگی اس پر رہےگا اور اگر عوامی صحت میں بہتری نہ لائی گئی تو پوری نسل بیمار پڑ سکتی ہے۔

شاید یہی سوچ کر یورپین انویسٹمنٹ بینک نے اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کے ساتھ شراکت کی ہے تاکہ بچوں کو آب و ہوا میں ہونے والے اثرات سے بچایا جاسکے۔ دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوچکے ہیں، جس کے تحت انتہائی کمزور بچوں کے لئے معیاری تعلیم اور مہارت کی تربیت میں سرمایہ کاری بڑھانے کو یقینی بنایا جائے گا۔ 

یورپین انویسٹمنٹ بینک اور یونیسیف، کمیونٹی پر مبنی اسکولوں اور صحت کی سہولیات میں آب و ہوا کی موافقت کے اقدامات اور مالیاتی جدت (Financial innovation)کو فروغ دے گا۔ اس میں سرمایہ کاری کا مقصد دیر تک صاف رہنے والے پانی، حفظانِ صحت اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی مالی اعانت بڑھانا ہے۔پائلٹ منصوبے جلد ہی یورپ ، وسطی ایشیا اور جنوبی اور مشرقی افریقہ کے ممالک میں شروع کیے جائیں گے۔