"دعا" ازقلم ریم ممتاز

السلام علیکم!

اپنے پچھلے کالم میں، میں نے دعا کا ذکر کیا تھا۔ اس کالم میں بھی میں دعا کے بابت ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہوں۔

ہم دعا میں عموما وہی چیز اپنے لیے طلب کر رہے ہوتے ہیں، جو ہمیں لگتا ہے کہ ہماری ضرورت ہے اور ہر انسان کی فہرست میں کوئی نہ کوئی ایسی تمنا، ایسی حسرت، اسی دعا بھی ضرور ہوتی ہے، جو ادھوری ہوتی ہے۔ کسی چیز کے نہ ملنے کو، کسی دعا کے نہ قبول ہونے کو ہم عموما ناپسندیدہ اور برا خیال کرتے ہیں، جب کہ میرا ماننا ہے کہ نہ ملنے والی چیزوں اور نہ قبول ہونے والی دعاؤں کے ساتھ ہمارا معاملہ اس سے الٹ ہونا چاہیے۔ صرف اس لیے نہیں کہ نہ ملنے میں بھلائی ہوتی ہے بلکہ اس لیے بھی کہ بعض اوقات مل جانے میں کڑی آزمائش ہوتی ہے۔

من چاہی شے اگر دسترس سے باہر ہو تو یہ کیفیت انسان کے لیے مکمل بے بسی سے لبریز ہوتی ہے۔ انسان کچھ نہیں کر سکتا... سوائے صبر کے... مگر من چاہی شے کا دسترس میں آ جانا انسان کو بہت کچھ کرنے پہ مجبور کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر... کوئی بہت محبوب شخص، محبوب رشتہ یا دوست آپ کو نہیں مل پایا یا وہ آپ سے دور کر لیا گیا ہے یا آپ کے جہان سے دوسرے جہان میں منتقل کر دیا گیا ہے تو کیا کر سکتے ہیں آپ؟ کیا اسے واپس لا سکتے ہیں؟ کیا آپ کا اختیار وقت پہ ہے کہ اس کی سوئیاں واپس موڑ کر، اس واقعے کو اپنی مرضی سے ترتیب دے لیں؟ مگر نہیں.... انسان کے پاس چیزوں کو اپنی مرضی پہ ڈھالنے یا ان کے اپنی مرضی سے وقوع پذیر ہونے جیسا کوئی اختیار نہیں ہے۔ وہ روتے، غم سے بلبلاتے ہوئے بھی اور نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو صبر کرنے پہ ہی پابند پائے گا۔

اب تھوڑی دیر کے لیے اس صورت حال کو الٹ کر کے بھی دیکھتے ہیں... یعنی من چاہی تمنا، مانگی ہوئی دعا حقیقت کا چغہ پہنے روبرو آ جائے تو انسان کی کیفیت میں وہ "بے بسی" نہیں رہتی۔ وہ جو نہ ملنے پر صبر والی، بے بسی والی، ہاتھ بندھے ہونے والی کیفیت ہوتی ہے نا... وہ مفقود ہو جاتی ہے۔ کسی چیز کا مل جانا ایک طرح سے انسان کو مغرور، باغی یا پھر مالک بننے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہ اس انسان یا چیز کو اپنی دسترس، اپنی ملکیت میں سمجھتے ہوئے خود کو اس کا خدا بنا لیتا ہے۔ وہ اس چیز کا صحیح اور غلط ہر طرح سے استعمال کرتا ہے۔ آخرت میں ہم سے صرف انسانوں کے ساتھ برتے گئے معاملات کا ہی حساب نہیں دینا بلکہ وہ انصاف پسند خدا ہم سے چیزوں کے ساتھ برتے گئے معاملات پہ بھی سوال کرے گا کہ اے بندے! وہ جو دولت مجھ سے مانگی تھی، کن کاموں پہ خرچ کی... وہ جو عزت مجھ سے چاہی تھی، اسے کہاں لٹایا.... وہ جو ساتھی مجھ سے طلب کیا تھا، اس کے ساتھ کیا بھلائی کی.... وہ جو اولاد کی تمنا کی تھی، اسے کیسی زندگی بخشی.... وہ جو جوانی و تندرستی کی مجھ سے آرزو کی تھی، اسے کہاں خرچ کیا... تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ ان مانگی ہوئی دعاؤں اور ان مل جانے والی چیزوں کا حساب آپ دے پائیں گے؟ کیا واقعی آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے مال، دولت، عزت، مرتبے، اولاد، رشتوں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا ہے؟.... دوسری طرف وہ شے.... جو آپ نے مانگی مگر ملی ہی نہیں، اس کا کیا حساب.... الٹا وہ تو آپ کے لیے خیر ثابت ہو گی۔

غرض یہ کہ نہ ملنا چھوٹی آزمائش ہے مگر مل جانا بہت بڑی آزمائش ہے۔ اگر یقین نہیں آتا یا ہنوز آپ انکاری ہیں تو ذرا ایک کاغذ، قلم لیں اور فہرست بنائیں.... ملی ہوئی چیزوں کی اور نہ ملی ہوئی چیزوں کی... اور پھر ذرا حساب کتاب کی تختی اٹھائیں کہ زیادہ کس میں آزمائے گئے ہیں؟ زیادہ کس نے مصائب میں ڈالا ہوا ہے؟ زیادہ کس نے اضطراب بپا کیا ہوا ہے؟ زیادہ کس نے غمگین کیا ہوا ہے؟ آپ کا جواب آپ کو مل جائے گا۔

ہم انسانوں کے لیے اصل خوشی یہ نہیں ہونی چاہیے کہ ہم نے اللہ سے جو مانگا، وہ مل جائے۔ اصل خوشی تو جب ہے کہ مل جانے کے بعد بھی ہمارا رویہ، ہمارا ردعمل اس خوشی یا اس شے کے لیے اتنا ہی خالص اور کھرا رہے۔ مل جانے کے بعد بھی وہ شے ہماری نظروں میں اپنی قدر نہ کھو دے اور نہ ہم اپنی اوقات کھو دیں۔

میں یہ نہیں کہتی کہ انسان اللہ سے کچھ مانگنا ہی چھوڑ دے۔ نہیں!... مانگنا انسان کا حق ہے اور انسان کا اپنے خدا سے کچھ مانگنا اللہ کو بھی بہت محبوب ہے۔ بس اس پورے معاملے میں ہمارا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ درست نیت سے مانگا جائے، مل جانے پہ شکر بجا لایا جائے، نہ ملنے کو اصل خیر سمجھ کر خوشی سے قبول کیا جائے اور مل جانے کے بعد چھن جانے والے کو بھی برا نہ سمجھا جائے اور خدا سے برا گمان نہ باندھا جائے۔ ہم اکثر کسی کو یہ دعا کہتے سنتے ہیں کہ اللہ پاک آپ کی دعاؤں کو آپ کے حق میں نیک ثابت کرے۔ اس سے مراد بھی یہی ہے کہ وہ قبول ہوں یا نہ ہوں... مگر ہمارے حق میں نیک، بھلی اور مفید ہی رہیں۔

جزاک اللہ!