محکمہ لیبر کا اہم اقدام،  بزنس کمیونیٹی کا درینہ مطالبہ منظور

جدید ٹیکنالوجی سے افسران کی جانب سے فیکٹریوں کے وزٹ محدود کررہے ہیں، عنصر مجید

محکمہ لیبر کا اہم اقدام،  بزنس کمیونیٹی کا درینہ مطالبہ منظور

لاہور : صوبائی وزیرِ لیبر عنصر مجید خان کی زیر صدارت لیبر ڈپارٹمنٹ میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ سیکرٹری لیبر احمد جاوید قاضی، ڈی جی لیبر ویلفیئر فیصل نثار، کمشنر پنجاب سوشل سکیورٹی انسٹیٹیوشن تنویر اقبال، سیکرٹری ورکرز ویلفیئر انیس الرحمان  سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ لیبر ڈپارٹمنٹ کے ماتحت تینوں محکموں کے سربراہان نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دی جبکہ سوشل سکیورٹی افسران کی جانب سے فیکٹریوں کے وزٹ کو محدودکرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

صوبائی وزیر نے سیکرٹری ورکرز ویلفیئر سے صوبہ میں موجود تمام لیبر کالونیز کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ انہوں نے لیبر کالونیز کی صورتحال اورناجائز قابضین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس کے بعد صوبائی وزیر نے میڈیا کو بتایا کہ افسران کی جانب سے بزنس کمیونیٹی کو حراساں کرنے کی شکایات کے تدارک کیلئے جامع حکمت عملی بنائی ہے۔ قانون کے تحت فیکٹری مالکان سیلف اسسمنٹ  (self assessment) کے ذریعے ورکرز کو رجسٹر کروا سکتے ہیں۔

جبکہ موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ورکرز کا ماہانہ کنٹری بیوشن آن لائن جمع کروایا جا سکتا ہے۔ جس سے سوشل سکیورٹی افسران کے وزٹ کا جواز باقی نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانی سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق انسپکٹر لیس سسٹم کی طرف جا رہے ہیں۔اگر فیکٹری یا اسٹبلشمنٹ اپنے ورکرز کا صحیح ڈیٹا فراہم کریں تو سوشل سکیورٹی آفیسر کے وزٹ کی ضرورت نہیں۔سیلف اسسمنٹ کی صورت میں سوشل سکیورٹی آفیسر کے پاس سال میں ایک مرتبہ ریکارڈ اور اکاؤنٹ بکس چیک کرنے کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبر آفیسر کی جانب سے انسپیکشن کو کسی مناسب سسٹم  کے بغیر ختم نہیں کر سکتے۔

لیبر ویلفیئر کے افسران کی ذمہ داریوں میں کم از کم اجرت کی فراہمی یقینی بنانا، کام کی جگہ پر سہولیات کی فراہمی، چائلد لیبر اور کام کے اوقات کار چیک کرنا شامل ہیں۔ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ اور کام کی جگہ پر بہتر ماحول کی فراہمی کیلئے افسران کی جانب سے انسپیکشن ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ نے لیبر آفیسر کی کارکردگی چیک کرنے کیلئے لیبر انسپیکشن مینجمنٹ سسٹم پر کام مکمل کر لیا ہے۔

لیبر انسپیکشن مینجمنٹ پورٹل کے ذریعے جیو ٹیگنگ، وزٹ کی جگہ کی تصاویر اور دیگر مواد کے زریعے ڈیٹا حاصل کیا جائے گا۔ہمارا مقصد مزدوروں کے حقوق کے تحافظ کے ساتھ ساتھ بزنس کمیونیٹی کے تحفظات دور کرنا بھی ہے۔تھرڈ پارٹی انسپکشن اور لیبر آفیسرز کی مانیٹرنگ سے نظام میں شفافیت آئے گی جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کرپشن کے خاتمہ میں مدد ملے گی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ کاروباری حضرات کو سہولت فراہم کرنے کیلئے آن لائن رجسٹریشن کی جا رہی ہے جبکہ نئے آٹومیٹڈ سسٹم سے کاروباری حضرات کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔

سیکرٹری لیبر احمد جاوید قاضی نے سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن اور لیبر ڈپارٹمنٹ کو  گزشتہ 25 سال کے ڈیٹا کا تجزیہ کرانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا کے تجزیہ اور تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے بہتر نظام قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ اجلاس میں گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن اور سہولیات کی فراہمی کیلئے سوشل سکیورٹی آرڈیننس میں ضروری ترمیم پر بھی گفتگو ہوئی۔