دنیا بھر میں حساس مقامات پر خدمات سرانجام دینے والے اقوام متحدہ امن مشنز کے اہلکاروں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں ، پاکستان

دنیا بھر میں حساس مقامات پر خدمات سرانجام دینے والے اقوام متحدہ امن مشنز کے اہلکاروں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں ، پاکستان

اقوام متحدہ :پاکستان نے اقوام متحدہ امن مشنز کے خلاف ہونے والے حملوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نئے خطرات کے دوران دنیا بھر میں حساس مقامات پر خدمات سرانجام دینے والے امن مشنز کے اہلکاروں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عامر خان نے گزشتہ روز پیس کیپنگ آپریشنز پر سلامتی کونسل کے ورکنگ گروپ کو بتایا کہ گزشتہ 6 دہائیوں کے دوران ہم نے اپنے 160 امن فوجی اہلکار وں کو کھو دیا جن میں سے 3 گزشتہ سال جاں بحق ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ میں امن آپریشنز میں مرکزی فوجی شراکت کی حیثیت سے امن اہلکاروں کے تحفظ اور سلامتی پر بات چیت میں انتہائی دلچسپی رکھتا ہے اور اس تناظر میں پاکستان امن و امان کے قیام کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھنے اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ پاکستان کے امن فوجی اہلکار مغربی افریقی ملک سیرا لیون، برونڈی ، لائبیریا اور تیمور لیستے کی طرح اقوام متحدہ کے امن مشنز میں انتہائی کامیابی حاصل کی ہے۔

انہوں نے امن مشن کے اہلکاروں کے خلاف حملوں اور اموات میں اضافے کے حوا لہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ اسے اپنے امن اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ان پر ہونے والے حملوں کو روکنے کی ضرورت ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے تک لایا جائے۔ انہوں نے امن اہلکاروں کے مضبوط تحفظ اور سلامتی کے لیے چند سفارشات پیش کیں جن میں خصوصی مہارتوں جیسے مقامی ساختہ بموں اور بارودی سرنگوں سے نمٹنے میں تربیت دینے ، امن مشن کے شراکت داروں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے اور امن وا مان کے قیام میں سیاست کا کردار بہت ضروری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ قیام امن صرف امن اہلکاروں کا ہی کام نہیں ہے بلکہ سیاسی حل اور ثالثی عمل بھی اس کے لیے بہت ضرروی ہے۔ پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ نے کہا کہ اس کے علاوہ پاکستان جموں کشمیر میں لائن آف کنٹرول کی نگرانی کرنتے والے اقوام متحدہ کے انتہائی پرانے امن مشنز یونائیڈ نیشنز ملٹری آبزرور گروپ ان انڈیا اینڈ پاکستان( یو این ایم او جی آئی پی) کا بھی میزبان ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان متنازع علاقےمیں امن و امان کے قیام کو برقرار رکھنے میں یو این ایم او جی آئی پی کے اہم کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کے مینڈیٹ کے احترام اور امن اہلکاروں کی سلامتی اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشیدگی کا شکار علاقوں میں اقوام متحدہ کے امن مشنز کے اہلکاروں کو آزاد محفوظ مستقبل کی امید اور زندگی کا ضامن سمجھا جاتا ہے اور اس امید کو قائم رکھنے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہو گا