اگلے ماہ سے واٹس ایپ کا ڈیٹا فیس بک کے ساتھ شیئر کیاجائے گا

اگلے ماہ سے واٹس ایپ کا ڈیٹا فیس بک کے ساتھ شیئر کیاجائے گا

فون پر رابطے اور ویڈیو کالنگ کی مشہور ایپ ’’واٹس ایپ ‘‘ کا ڈیٹا اگلے ماہ فیس بک کے ساتھ شیئر ہو گا ۔اس ڈیٹا میں آپ کے کوائف، محلِ وقوع اورشاید دوستوں کے نمبر تک بھی شامل ہوسکتےہیں۔ 

واٹس ایپ نے سال کے آغاز پر اپ گریڈیشن کےساتھ نئی شرائط بھی جاری کی ہیں۔ اور اب اگلے ماہ سے واٹس ایپ کمپنی آپ کا نام، کوائف، آئی پی ایڈریس، فون ماڈل، آپریٹنگ سسٹم، بیٹری چارجنگ کی مقدار، سگنل کی شدت، براؤزر کی قسم، موبائل نیٹ ورک، آئی ایس پی، زبان، ٹائم زون اور یہاں تک کہ آئی ایم ای اے بھی معلوم کرے گی اور یہ ساری معلومات فیس بک کو بھی دی جائے گی۔

 

اس دوران واٹس ایپ کمپنی نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر جاری کسی بھی کاروباری یا تجارتی معلومات کے تبادلے پر بھی نظر رکھے گی۔

اس لیے واٹس ایپ آپ کے پیغامات کی سن گن بھی لے سکے گا،کیوں کہ بعض کاروبار تھرڈ پارٹی سافٹ ویئر یا سافٹ ویئر( بشمول فیس بک) استعمال کررہے ہیں ،تاکہ وہ اپنے صارفین سے رابطے میں رہ سکیں۔دوسری جانب 2021 ء کے آغاز میں بہت سے اسمارٹ فون میں واٹس ایپ نے کام کرنا بند کردیا ہے۔لیکن اکاؤنٹ ڈیلیٹ ہونے کے بہت عرصے بعد بھی آپ کا ڈیٹا اور معلومات واٹس ایپ پلیٹ فارم پر موجود رہیں گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یورپی یونین کے 27 ممالک اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے۔ یورپی ممالک نے حال ہی میں جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (جی ڈی پی آر) متعارف کرایا ہے ،جس کے تحت تمام کمپنیوں کو صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ اور یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے، خواہ وہ کمپنی دنیا کے کسی بھی ملک میں قائم ہوں۔