قومی اسمبلی نے بنک دولت پاکستان (ترمیمی) بل 2022ء کی کثرت رائے سے منظوری دے دی

 قومی اسمبلی نے بنک دولت پاکستان (ترمیمی) بل 2022ء کی کثرت رائے سے منظوری دے دی

اسلام آباد :قومی اسمبلی نے بنک دولت پاکستان (ترمیمی) بل 2022ء کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ہے جس کے مطابق بنک کے گورنر و ڈپٹی گورنرز سمیت8 رکنی بورڈ کی نامزدگی حکومت کرے گی، بل کی منظوری سے سٹیٹ بنک کی جانب سے ملک میں افراط زر پر قابو پانے اور اوور ڈرافٹس روکنے کے حوالے سے سٹیٹ بنک آزادانہ اقدامات اٹھا سکے گا۔

جمعرات کو وزیر خزانہ شوکت ترین نے تحریک پیش کی کہ بنک دولت بنک پاکستان (ترمیمی) بل 2022ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے۔ سپیکر نے پہلی رائے شماری پر ایوان سے رائے طلب کی تو اپوزیشن ارکان نے بل کی شدید مخالفت کی۔ مسلم لیگ ن کے رکن احسن اقبال نے کہا کہ قائداعظم نے سٹیٹ بنک کا افتتاح کیا اور اسے قومی مالیاتی خودمختاری کا حامل ادارہ قرار دیا۔

اس قانون سازی پر پوری قوم کو تشویش ہے۔ یہ ملک کی خودمختاری کا سوال ہے اس پر ہر رکن کو بات کرنے کا موقع دیں۔ اس بل کے لئے دو دن دیئے جائیں۔ سید نوید قمر نے کہا کہ یہ اتنی اہم قانون سازی ہے، عجلت میں اس میں غلطیاں بھی ہوں گی، یہ تاثر نہیں ہونا چاہیے کہ یہ گن پوائنٹ پر قانون سازی ہو رہی ہے۔ یہاں مل کر بھی قانون سازی ہوتی رہی ہے۔

وزیر خزانہ کے ہاتھ باندھے جارہے ہیں۔ سٹیٹ بنک (ترمیمی) بل پر اپوزیشن اراکین کی تنقید اور اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں اور وہ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ 20,20 سال سے سیاست کرنے والے شکست خوردہ لشکر کے سیاستدانوں کو جمہوریت صرف تین سالوں میں یاد آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بنک (ترمیمی) بل پہلے قائمہ کمیٹی کو ریفر ہوا وہاں پر اس میں ترامیم پیش ہوئیں، ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ اسی ہال میں پی آئی اے کا بل ایجنڈے میں شامل نہیں تھا یہ لوگ ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ہمارے پاس آئے اور پانچ منٹ میں انہوں نے قانون سازی کی تھی۔ اسد عمر نے کہا کہ مہنگائی کا رونا رویا جارہا ہے لیکن قیمتوں کے حساس اعشاریہ ایس پی آئی میں پاکستان کی تاریخ میں دو بار 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور دونوں بار یہ اضافہ پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بنک (ترمیمی) بل کا مقصد دنیا میں رائج بہترین طریقہ کار کے مطابق سٹیٹ بنک کو چلانا ہے۔ افراط زر کو قابو میں رکھنا سٹیٹ بنک کی ذمہ داری مقرر کی گئی ہے۔ موجودہ حکومت نے سٹیٹ بنک سے کوئی قرضہ نہیں لیا ہے۔ اپوزیشن کو تکلیف اس لئے ہے کہ سٹیٹ بنک پر قرضہ لینے کی پابندی کی وجہ سے اب سرے محل، پاناما کے ذریعے لندن میں فلیٹس اور سوئس بنکوں میں ہار نہیں رکھے جاسکتے۔ ہم نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان پر یہ دروازے بند کردیئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود مانیٹرنگ فسکل پالیسی بورڈ کی صدارت کر چکے ہیں۔ مانیٹری پالیسی کے پاس کون سا اختیار تھا کہ وہ سٹیٹ بنک کو مجبور کرسکیں۔ اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور اگر مسلم لیگ ن کے لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہے تو ان کے سابق وزیراعظم کو فوری طور پر ملک میں آنا چاہیے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ بل واقعی ملکی معیشت کے لئے انتہائی خطرے کا باعث بنے گا اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ یہ بل واپس ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس بل کو ہم قومی سلامتی کے لئے خطرہ اس لئے کہتے ہیں کہ کیونکہ اس کے تحت یہ قدغن لگا دی گئی ہے کہ ہمارے دفاعی اخراجات صرف ایک اکائونٹ سے کئے جائیں گے جس کی مانیٹرنگ بڑی آسانی سے کوئی بھی کر سکے گا۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپوزیشن کے اٹھائے گئے نکات کے جواب میں کہا کہ 60 کی دہائی کے بعد بدقسمتی سے ہمارے ادارے غیر ضروری مداخلت کی وجہ سے کمزور ہوئے ہیں، اگر ادارے مضبوط ہوتے تو ہماری معیشت کا اتنا برا حال نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی مانیٹری پالیسی اور ایکسچینج ریٹ کے حوالے سے مداخلت نہیں کی جاتی۔ اداروں کو خودمختاری دینا پی ٹی آئی کے منشور میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے ملکی معیشت کی سمت درست کرنی ہے تو ہمیں اپنے اداروں کو خودمختاری دینی ہوگی، دنیا بھر کے مرکزی بنک خودمختار ہوتے ہیں۔ سٹیٹ بنک کے آٹھ ڈائریکٹرز حکومت نامزد کرے گی، ہمارے پاس اس کو چلانے کی پوری اتھارٹی ہوگی۔ یہ قدغن اس لئے لگائی گئی ہے کہ ساڑھے سات کھرب روپے کا اوور ڈرافٹ ہوا۔ ہم نے مداخلت کو روکنے کی کوشش کی ہے۔

جے یو آئی ف کے پارلیمانی لیڈر مولانا اسعد محمود نے کہا کہ اس بل کی منظوری آئی ایم ایف کے مطالبے پر کرائی جارہی ہے۔ انہوں نے بل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایوان سے پہلی خواندگی کی منظوری کے بعد ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع کیا۔ بل کی مختلف شقوں میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم جمع کرائی گئی تھیں تاہم اپوزیشن ارکان نے پہلی خواندگی پر زبانی رائے شماری کو چیلنج کیا مگر ڈپٹی سپیکر نے بل کی شق وار منظوری کا عمل جاری رکھا۔