ایک تھا رکشے و الا، ایک تھا کار والا!

ایک تھا رکشے و الا، ایک تھا کار والا!

یہ کافی پرانی بات ہے علامہ اقبال ٹائون کے مین بلیوارڈ پر ایک رکشہ ڈرائیور چند قدم کے فاصلے پر میرے بائیں ہاتھ فراٹے بھرتا جا رہا تھا اچانک رکشے والے نے اپنا ہاتھ باہر نکالا اور اس یقین کے ساتھ کہ ’’بادشاہ سلامت‘‘ کے اس ادنیٰ سے اشارے پر پیچھے آنے والا ٹریفک فوری طور پر جامد و ساکت ہو گیا ہے،رکشے کا رخ دائیں جانب موڑ دیا یعنی موصوف عین میری گاڑی کے سامنے آ گئے میں نے اپنا پائوں بریک میں گاڑ دیا مگر گاڑی کا میکنیزم تو میرے تابع نہیں تھا چنانچہ اس نے میرے ’’فرمان‘‘کی اتنی ہی تعمیل کی جتنی اس کے انجینئر نے اس میں رکھی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں گاڑی رکتے رکتے بھی آہستہ سے رکشے سے جا ٹکرائی مگر اس آہستگی کے باوجودگاڑی کے بائیں ہاتھ کی بتی اور جالی ٹوٹ گئی اور بونٹ اندر کو دھنس گیا۔رکشے کو خراش تک نہ آئی کہ اس کے پچھلے حصے میں لوہے کی جالیاں وغیرہ لگی ہوئی تھیں میں نے گاڑی ایک طرف کھڑی کرکے رکشے والے کو نیچے اترنے کے لئے کہا اس نے نیچے اترتے ہی ’’عام معافی ‘‘ کا مطالبہ کیا اور دلیل یہ دی کہ وہ غریب آدمی ہے میں نے اسے کہا کہ اس گاڑی کے علاوہ میرے امیر ہونے کی کوئی دلیل اگر تمہارے پاس ہےتو وہ پیش کرو جس پر وہ خاموش رہا ۔میرے نقصان کی مالیت اس زمانے میں تقریباً چھ ہزار روپیہ تھی جو میری آدھی تنخواہ کے برابر تھی، رکشے والا بھی مہینے کے تقریباً اتنے ہی پیسے کماتا ہو گا جتنی میری تنخواہ تھی میں بچت کی پوزیشن میں نہیں تھا کیونکہ میں نے رکھ رکھائو کےساتھ رہنا ہے جبکہ رکشے والے کو اس طرح کا کوئی پرابلم نہیں چنانچہ وہ بچت کے حوالے سے مجھ سے کہیں زیادہ بہتر پوزیشن میں ہے میں مہنگائی کے پیش نظر اپنی تنخواہ میں اضافہ بھی نہیں کر سکتا جبکہ رکشے والا اپنی آمدنی میں مسلسل اضافہ کرتا رہتا ہے اور گاہکوں سے منہ مانگے دام وصول کرتا ہے اور یوں اس پہلو سے بھی اس کا پلہ بھاری ہے ،میں نے یہ سب باتیں اپنے دل میں سوچیں مگر ان کا اظہار نہیں کیا کہ اس سے پبلک میں ’’بیستی‘‘ خراب ہوتی تھی چنانچہ میں نے صرف اتنا کہا کہ میرا جو نقصان ہوا ہے اس میں تم شرکت کرو میرے اس مختصر سے مطالبے کا اس نے ایک بار پھر مختصر سا جواب دیا جو یہ تھا ’’معاف کر دیں میں غریب آدمی ہوں‘‘ اس کے اس جملے سے میرا دل ہل جاتا تھا مگر میرے پاس بینک میں حسب معمول چند ایک سو روپے سے زیادہ نہیںتھے اور گاڑی چھ ہزار کے لئے اپنا بھاڑ سا منہ کھولے کھڑی تھی چنانچہ میں نے رکشے والے سے نظریں ملائے بغیر نقصان میں شرکت کا مطالبہ دہرا دیا ۔اتنے میں کافی لوگ جمع ہو گئے تھے۔

ایک نوجوان نے کہا ’’قاسمی صاحب اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قصور رکشے والے کا ہے لیکن اللہ نے آپ کو عزت دی ہے آپ اسے معاف کر دیں ‘‘ میں نے کہا ’’مجھے کسی ایسی ورکشاپ کا پتہ بتائو جہاں گاڑی کی مرمت عزت سے ہو سکتی ہو‘‘ اس نوجوان کو یقیناً ایسی کسی ورکشاپ کا علم نہیں تھا ورنہ وہ مجھے اس کا پتہ ضرور بتاتا۔تاہم مجھے سب سے زیادہ مضبوط دلیل اس نوجوان کی محسوس ہوئی جس کے چہرے پر ننھی منی داڑھی تھی جس نے اپنا ویسپا اسٹینڈ پر کھڑا کیا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا میرے پاس آیا، اس نے میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور کہا ’’قاسمی صاحب !سچی بات یہ ہے کہ نہ قصور آپ کا ہے اور نہ رکشے والے کا، بلکہ یہ سڑک ہی ’’بھاری ‘‘ ہے یہاں دن میں تین چار حادثے ہوتے ہیں آپ کہیں گے کہ کوئی وجہ ہوتی ہو گی کوئی وجہ نہیں جب یہاں سڑک نہیں تھی بلکہ چاروں طرف کھیت ہی کھیت تھے اس زمانے میں ایک آدمی چنگا بھلا ادھر سے گزر رہا تھا وہ چلتے چلتے گرا اور پھڑک کر مر گیا‘‘اتنے قابل قدر خیالات کا مالک یہ نوجوان یقیناً نا قدری زمانہ کا شکار تھا ورنہ اسے کم از کم کسی بڑے عہدے پرتوہونا ہی چاہئے تھا ۔اس سلسلے کی مزید کارروائی کے بیان سے میں قارئین کو خواہ مخواہ بور نہیں کروں گا قصہ مختصر یہ کہ میں نے رکشے والے کو معاف کر دیا اس نے شکریہ ادا کیا، رکشے کو ایڑلگائی اور ایک بار پھر ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کر نظروں سے اوجھل ہو گیا ،تاہم یہ سوال میرے ذہن میں ابھی تک موجود ہے کہ جب کبھی کسی سڑک پر اس قسم کا حادثہ ہوتا ہے عموماً یہی منظر کیوں دیکھنے میں آتا ہے جو میں نے اوپر بیان کیا ہے لوگ کمزور پارٹی کے ساتھ ہو جاتے ہیں جن میں سے زیادہ تر ارد گرد کے دکاندا ہوتے ہیں اور ہمیشہ یہی جملہ سننے میں آتا ہے معاف کر دیں غریب آدمی ہے جبکہ یہی غریب آدمی انہی دکانداروں میں سے کسی کے پاس کپڑا خریدنے جاتا ہے تو اس سے دوگنی قیمت وصول کی جاتی ہے، یہ غریب آدمی دوا خریدنے کے لئے گھر سے نکلتا ہے تو کوئی اس کی غربت پرترس کھا کر اسے مفت دوا نہیں دیتا لیکن جب یہی غریب آدمی قانون شکنی کرتا ہے کسی کی جان لیتا ہے یا کسی کا مالی نقصان کرتا ہے تو یہی سب لوگ جمع ہو جاتے ہیں کہ جناب معاف کر دیں غریب آدمی ہے ۔حلوائی کی دکان پرنانا جی کی فاتحہ پڑھنے کی یہ رسم بہت پرانی ہے لہٰذا اسے کلچر کا حصہ سمجھ کر قبول کرنا ہی پڑے گا بلکہ سچی بات یہ ہے کہ ہم اسے قبول کر چکے ہیں اسی لئے پروین شاکر کی جان لینے والا بس ڈرائیور قانون کی گرفت سے آزاد ہو گیا تھا۔ ممتاز دانشور پروفیسر مجتبیٰ حسین کے قاتل ٹرک ڈرائیور کو معاف کر دیا گیا تھا کہ وہ غریب آدمی تھا چنانچہ وہ پورے اطمینان سے اپنی پوری زندگی بسر کر رہا ہے۔ سڑکوں پر روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں مسافروں کو ہلاک کرنے والے غریب ڈرائیور اکثر موقع واردات سے فرار ہو جاتے ہیں یا ان رحمدل راہگیروں کی سفارش پر معاف کر دیئے جاتے ہیں جو خود یا ان کا کوئی عزیز اس نقصان کی زد میں نہیں آیا ہوتا۔کیا ایسا ممکن نہیں کہ جس قانون شکنی کو ہمارا معاشرہ ’’کلچر‘‘ کے طور پر قبول کر چکا ہے اسے ایک آرڈیننس کے ذریعے قانونی شکل دے دی جائے۔ غریب ڈرائیور اپنی غربت اور امیر ڈرائیور اپنی امارت کی وجہ سے بچ جاتے ہیں باقی مڈل کلاس رہ جاتی ہے جس نے اپنے سینے پر ؎

تو مشق ناز کر خونِ دو عالم میری گردن پر

کی تختی لٹکا رکھی ہے اور میں مڈل کلاس کے نمائندے کے طور پر اس قانون کی پیشگی منظور ی دیتا ہوں۔