متحدہ عرب امارات نے ویزا پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں کردیں

متحدہ عرب امارات نے ویزا پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں کردیں

وزٹ ویزا کی مدت 30 سے بڑھا کر 60 دن کردی گئی‘ ابوظہبی آنے والے نئے لوگوں کے لیے کفالت حاصل کرنے کی شرط ختم کردی گئی‘ ملازمت کے خواہشمندوں گریجویٹس کیلئے ملک کا دورہ آسان بنانے کے لیے نئے انٹری ویزے دستیاب ہوں گے‘ گولڈن ویزا سسٹم کو بھی وسعت دے دی گئی

ابو ظہبی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 19 اپریل 2022ء ) متحدہ عرب امارات نے ویزا پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں کردیں ، جس کے تحت وزٹ ویزا کی مدت 30 سے بڑھا کر 60 دن کردی گئی ہے ، ملازمت کے خواہشمندوں گریجویٹس کیلئے ملک کا دورہ آسان بنانے کے لیے نئے انٹری ویزے دستیاب ہوں گے‘ ابوظہبی آنے والے نئے لوگوں کے لیے کفالت حاصل کرنے کی شرط ختم کردی گئی ‘ والدین مرد بچوں کو 25 سال کی عمر تک اسپانسر کر سکتے ہیں ‘ گولڈن ویزا سسٹم کو بھی وسعت دے دی گئی ، یو اے ای کی کابینہ نے ویزا سسٹم میں ترمیم کی منظوری دے دی ۔ 

خلیجی میڈیا کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے نئی ترمیم کی منظوری یو اے ای کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد نے دی ، نئی تبدیلیوں کا مقصد پوری دنیا سے عالمی ہنر مندوں اور کارکنوں کو راغب کرنا ہے ، ویزوں میں مزید لچک سے مسابقت اور ملازمت کے مواقع ملیں گے اور متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں اور خاندانوں میں استحکام کو فروغ ہوگا۔

بتایا گیا ہے کہ نئی ویزا پالیسی کے تحت والدین اب 25 سال کی عمر تک کے مرد بچوں کو اسپانسر کرسکیں گے ، والدین کے لیے غیر شادی شدہ بیٹی کو غیر معینہ مدت تک کفالت ممکن بنادی گئی جب کہ معذور بچوں کو ان کی عمر سے قطع نظر مستقل طور پر رہائشی اجازت نامہ دیا جاسکے گا۔ 

اس کے علاوہ پیشہ ور افراد کے لیے کفیل کی شرط ختم کردی گئی ہے، جس کے تحت اب یو اے ای میں نوجوان ہنر مندوں اور پیشہ ور افراد کے لیے کسی کفیل یا میزبان کی ضرورت نہیں ہوگی ، ویزا ان لوگوں کو دیا جائے گا جو وزارت انسانی وسائل کی طے شدہ پہلی ، دوسری یا تیسری درجہ بندی کے معیار پر پورا اترتے ہوں ، یہ ویزا دنیا کی بہترین 500 یونیورسٹیوں کے نئے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے بھی ہوگا ، جس کے لیے کم از کم تعلیمی سطح بیچلر ڈگری یا اس کے مساوی ہونی چاہیے۔ 

معلوم ہوا ہے کہ یو اے ای کی طرف سے ریگولر ٹورسٹ ویزا کے علاوہ 5 سالہ ملٹی انٹری ٹورسٹ ویزا بھی متعارف کرایا گیا ہے ، اس ویزا کے لیے کفیل کی ضرورت نہیں ہے اور اس ویزا کے تحت کوئی بھی شخص ملک میں مسلسل 90 دنوں تک رہ سکتا ہے اور اس میں اتنی ہی مدت کے لیے توسیع کی جا سکتی ہے بشرطیکہ قیام کی پوری مدت ایک سال میں 180 دنوں سے زیادہ نہ ہو ۔ اسی طرح گولڈن ویزا رکھنے والے افراد اپنے اہلخانہ کو عمر کی تخصیص کے بغیر اسپانسر کرسکتے ہیں جب کہ گولڈن ویزا کے حامل افراد پر ایسی بھی کوئی پابندی نہیں ہوگی کہ وہ گولڈن ویزا کو فعال رکھنے کے لیے مقررہ مدت کے دوران لازمی یو اے ای کا دورہ کریں۔