حکومت پنجاب سموگ پر کنٹرول کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اُٹھا رہی ہے: عمر خرم شہزاد

وفاقی مشیر برائے ماحولیات و موسمی تغیرات ملک امین اسلم کی جانب سے بھی پی ڈی ایم اے کو سموگ پر کنٹرول کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے

حکومت پنجاب سموگ پر کنٹرول کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اُٹھا رہی ہے: عمر خرم شہزاد

لاہور: ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی عمر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب سموگ پر کنٹرول کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اُٹھا رہی ہے۔ وفاقی مشیر برائے ماحولیات و موسمی تغیرات ملک امین اسلم کی جانب سے بھی پی ڈی ایم اے کو سموگ پر کنٹرول کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک بسوں کی خریداری کی اجازت دے دی گئی ہے۔ دھواں چھوڑنے والے صنعتی یونٹس میں سکربرز کی تنصیب کے لیے منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

بھٹوں کی جلد از جلد زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقلی کے لیے بنک آف پنجاب کی معاونت سے مالی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے محکمہ ماحولیات آلودگی پر کنٹرول کے لیے جدید مشینوں کی خریداری کو یقینی بنا رہا ہے۔ گرین پنجاب پروگرام کے تحت درختوں کی تعداد میں اضافے کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ دیگر ترقیاتی منصوبوں کی طرح کوویڈ کے اچانک اور خطرناک حملہ نے سموگ  کے خاتمے کے لیے پائیدار ا قدامات کی رفتار کو بھی متاثر کیا۔

ان خیا لات کا اظہار ڈی جی عمر خرم شہزاد نے مختلف محکموں کے تحت انسداد سموگ کی کاروائیوں بارے بریفنگ کے دوران کیا۔ عمر خرم بابر نے بتایا کہ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے سموگ سیزن سے قبل ہی سموگ کی شدت میں کمی کے لیے دھوئیں کا سبب بننے والی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

اختیارات کی منظوری کے بعد بلا تاخیر پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ سموگ پر کنٹرول کے لیے 20اکتوبر سے اب تک کی کاروائیوں کے نتیجہ میں 27,740,140روپے کے جرمانے کیے گئے۔ 1,193صنعتی یونٹ بند کئے گئے۔323گرفتاریاں عمل میں آئیں۔6,371گاڑیاں بند کی گئیں۔صرف کل کے دن میں مختلف کاروائیوں کے دوران1,345,500روپے کے جرمانے کئے گئے۔294گاڑیاں بند ہوئیں،159صنعتی یونٹ سیل کئے گئے جبکہ 5اڈوں کو وارننگ جاری ہوئی۔

چوبیس گھنٹوں میں سموگ کے خاتمے کے لیے پابندیوں کی خلاف ورزی پر28 گرفتاریاں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاریوں اور جرمانوں کا مقصد سموگ کی شدت میں اضافہ کرنے والی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہے۔عوام سے اپیل ہے کہ وہ آفت سے تحفظ کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔جرمانوں اور گرفتاریوں کی تعداد میں اضافے کی بجائے مضر صحت سرگرمیوں میں کمی کو یقینی بنائیں۔بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلنے سے اجتناب کریں۔ضرورت کے وقت باہر نکلتے ہوئے ماسک اور عینک کے استعمال کو یقینی بنائیں۔