خواتین کی ترقی کے راستے میں چیلنجزاور مسائل کی نشاندہی کر لی گئی : صوبائی وزیر ویمن ڈویلپمنٹ آشفہ ریاض

صنفی توازن کے قیام کے لیے محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ تمام متعلقہ اداروں کو کوآرڈینیشن آف ایمپلیمنٹیشن کی مشترکہ چھت تلے لانے کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا

 خواتین کی ترقی کے راستے میں چیلنجزاور مسائل کی نشاندہی کر لی گئی : صوبائی وزیر ویمن ڈویلپمنٹ آشفہ ریاض

لاہور:صوبائی وزیر ویمن ڈویلپمنٹ آشفہ ریاض نے صنفی امتیازی رویے اور تشدد پر قابو پانے کے لیے موثر میکانزم کے تعین کے حوالے سے کہا ہے کہ صنفی تشدد سے متاثرہ خواتین اور بچیوں کو سروسز کی فراہمی سے متعلق پیکج کی لانچنگ محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ اور ملحقہ اداروں کی جانب سے کی جاچکی ہے۔اس امر کا اظہار صوبائی وزیر نے اپنے دفتر میں ترقی خواتین سے متعلق این جی اوز کے نمائندگان سے ملاقات کے دوران کیا انہوں نے مزید کہا کہ صنفی توازن کے قیام کے لیے محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ تمام متعلقہ اداروں کو کوآرڈینیشن آف ایمپلیمنٹیشن کی مشترکہ چھت تلے لانے کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی ترقی کے راستے میں چیلنجزاور مسائل کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ خواتین کو صنفی امتیازی اور پرتشدد رویوں کی بھرپور حوصلہ شکنی کے لیے اہم اقدامات کررہا ہے۔وزیر ویمن ڈویلپمنٹ نے کہا کہ محکمہ WDD پولیس صحت سمیت دیگر تمام سٹیک ہولڈرزاداروں کے باہمی اشتراک سے لائحہ عمل مرتب کررہا ہے۔آشفہ ریاض نے مزیدکہا کہ صوبائی ضلعی تحصیل اور یوسی کی سطح تک اداروں کی جانب سے پریکٹیکل رسپانس میں تیزی اور بہتری لائی جارہی ہے۔تمام اداروں کو صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے فرنٹ لائن پر کام کرتے ہوئے جینڈر فوکل ٹیمیں تشکیل دے کر خودکار سوشل جسٹس کے فارمولے کو فعال بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں اور معاشرتی سطح پر صنفی تشدد کی شکارخواتین کو نفسیاتی معاشی سماجی کونسلنگ اور سپورٹ دینے کے لیے اپنی اپنی جگہ پرقابل عمل میکانزم ترتیب دینا اور اس پر عملدرآمد انسانی اخلاقی و سماجی فرض ہے۔آشفہ ریاض کا کہنا تھاہمیں صنفی تشدد سے متاثرہ عورت اور اسکے خاندان کوتمام اداروں کے مشترکہ پلیٹ فارم سے انصاف کی فراہمی سے متعلق بھی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔وزیر ویمن ڈویلپمنٹ نے مزید کہاکہ سوشل میڈیا پر اس طرح کے کیسز سے متعلق آئی ٹی کالجز اور یونیورسٹیز کے ذریعے کیمپین چلانا ہوں گی ہمیں اپنی نئی نسل کو بتانا ہے کہ سوشل میڈیا پربھی اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھنا کتنا ضروری ہے۔اس موقع پرمحکمہ ویمن ڈویلپمنٹ کے متعلقہ افسران موجود تھے۔