خدا ر ا ریاست اور عدلیہ ہر شخص کی جان، مال، عزت،آبرو کی حفاظت کویقینی بنائیں: صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی

 پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع کشمور میں کمسن بچی اور اس کی والدہ کے ساتھ ریپ کرنے والے ملزمان کونشان عبرت بنایا جائے: چیئر مین مرکزی علماء کونسل پاکستان و سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان

خدا ر ا ریاست اور عدلیہ ہر شخص کی جان، مال، عزت،آبرو کی حفاظت کویقینی بنائیں: صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی

 پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع کشمور میں کمسن بچی اور اس کی والدہ کے ساتھ ریپ کرنے والے ملزمان کونشان عبرت بنایا جائے۔ خدا ر ا ریاست اور عدلیہ ہر شخص کی جان، مال، عزت،آبرو کی حفاظت کویقینی بنائیں۔ایسے واقعات سے انسانیت کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔سندھ سمیت ملک بھر میں بچے اور بچیوں کے ساتھ ریپ کرنے والے ملزمان کے عدالتی ٹرائل تیز سے تیز تر کئے جائیں اور مجرموں کو جلد کیفر کردار تک پہنچا کر سزا دی جائے۔

چیئر مین مرکزی علماء کونسل پاکستان و سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں ریپ کے کیسز بڑھتے جارہے ہیں۔ آئے روز ملک کے کسی نہ کسی حصہ میں معصوم بچے اور بچیوں کے ساتھ درندگی کا مظاہرہ ہورہا ہے۔والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور ہر والد اپنی اولاد کو ایک اچھا مثالی ماحول فراہم کرے اور معاشرتی بے راہ روی سے محفوظ بنانے میں خود اپنی نگہداشت اور نگرانی کو یقینی بنائے اور کسی پر بھی اندھا اعتبار نہ کیا جائے۔والدین اپنی اولاد کو تعلیمی اداروں میں خود اپنی نگرانی میں پہنچائیں اور اپنی نگرانی میں خود لے کر آئیں۔

تمام والدین بیداری کا ثبوت دیں اور اپنی آنکھیں بند نہ رکھیں بلکہ اپنی اولادپر نظر رکھیں۔ ریاست اور عدلیہ کو اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ معاشرے میں بڑھتے ہوئے ریپ کیسز کو روکنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کے ساتھ ساتھ عدالتی ٹرائل مہینوں کی بجائے دنوں میں کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں جو درندہ صفت انسان ہیں ان سے اس سے معاشرے کو پاک کرنا ہے اور محفوظ بھی بنانا ہے۔اولاد اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور بیٹیاں اللہ کی رحمت ہیں۔

بدقسمتی سے آج بھی بہت سے علاقوں اور مختلف طبقات میں لڑکی کو ایک بوجھ اور مصیبت سمجھا جاتا ہے لیکن اسلام سے پہلے عربوں میں بھی ایسے ہی خیالات عورت کے بارے میں پائے جاتے تھے۔بہت سے شقی القلب انسان اپنے ہاتھوں سے اپنی بچی کا گلا گھونٹ کر اس کا خاتمہ کردیتے تھے یا اس کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی فضا اور پس منظر کو پیش نظر رکھ کر اپنے ارشادات سے امت کی راہنمائی فرمائی۔ اسلام میں بیٹی کا بڑا مقام ہے اور بیٹیوں کی حسن تربیت اور اعلیٰ تعلیم دینے کی ترغیب دی گئی اور ایساکرنے والے کو جنت کی بشارت دی گئی۔