تحفظ ناموس رسالت و تحفظ نامو س صحابہ واہلبیت ریلی کا اعلامیہ 

نامو س رسالت کیلئے ہر قربانی کیلئے تیار،یور پ کے حکمران اسلام وفوبیا سے باہر نکلیں:تحفظ ناموس رسالت محاذ

تحفظ ناموس رسالت و تحفظ نامو س صحابہ واہلبیت ریلی کا اعلامیہ 

لاہور(پ ر)فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے اعلان، پاکستان میں بڑھتی فرقہ ورانہ سرگرمیوں کیخلاف تحفظ ناموس رسالت محاذ لاہور کے زیر اہتمام تحفظ ناموس رسالت و تحفظ نامو س صحابہ واہلبیت ریلی کے اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیاکہ  نامو س رسالت کے تحفظ کیلئے ہر قسم کی قربانی دینا ایک مسلمان اپنے لیے سب سے بڑا اعزازاور اپنی دنیا وآخرت کی کامیابی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔یور پ کے حکمران اسلام وفوبیا سے باہر نکلیں۔اپنے ممالک میں مسلم امہ کی دل آزاری کا سبب بنے والے واقعات کو روکیں۔فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کو فوری طور پر روکا جائے۔عالمی برادری مستقبل میں ایسے واقعات کے سد باب کیلئے عالمی سطح پر مؤثر قانون سازی کرے۔سانحہ سیالکوٹ موٹرو ے کے ذمہ داران کو فی الفور گرفتار کر کے قرار واقعی سزادی جائے۔ریاست مدینہ کی دعوے دار حکومت پورے ملک میں فی الفور نظام مصطفی ﷺکے مکمل عملی نفاذ کا اعلان کرے تاکہ مملکت خداداد پاکستان میں بسنے والے تمام افراد کی جان ومال، عزت وآبرو کا تحفظ یقینی بن سکے۔حکومت ملک کی اکثریت پر امن، محب وطن،اہلسنت وجماعت کو دیوار سے نہ لگائے جس کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔اہل سنت کے علماء اور تنظیمی کارکنوں پر بلا جواز فورتھ شیڈول لگانے کے سلسلہ کو فی الفور بند کیا جائے اور جن افراد پر بلا جواز فورتھ شیڈول لگایا گیا ہے اسے فوری ختم کیا جائے۔مولانا ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی صاحب کو حکومت فوری طور پر رہا کرے۔ عظیم الشان ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے تحفظ ناموس رسالت محاذ کے صدر مولانا رضائے مصطفی نقشبندی نے کہا کہ نبی کریم ﷺآپ کے اصحاب واہلبیت کی محبت ایمان کا تقاضا اور اس کی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔

فرانس میں ایک مرتبہ پھر نبی کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکون کی اشاعت کا اعلان، عالمی امن وسلامتی کو سبوتاژ کرنے کا سبب ہے۔ جس سے پوری مسلم امہ میں شدید تشویش پائی گئی ہے۔ عالمی راہنما بالخصوص مسلم حکمران اس کے سد باب کیلئے اپنا کردار ادا کریں وگرنہ پوری دنیا میں اس پر شدید احتجاج ہو گا۔ او رمسلم امہ اپنا شدید رد عمل دے گی ۔ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ نعیمیہ کے پرنسپل ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے کہاکہ اسلامیان پاکستان کو بالخصوص اور مسلم امہ کو بالعموم دو طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔خارجی مسائل اور داخلی مسائل، خارجی مسائل میں یورپ اور دیگر غیر مسلم ممالک میں قرآن مجید کی توہین، نبی کریم ﷺکی شان اقدس میں گستاخان خاکے اور اسلام مخالف پروپیگنڈہ سر فہرست ہے۔ اس سلسلہ میں ہم حکومت سے کئی بار مطالبہ کر چکے ہیں کی انبیاء کرام علیہم السلام، مقدس شخصیات اور مذہبی شعائر کے تحفظ کے بین الاقوامی سطح قانون سازی کی جائے۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی بھی مذہب کے شعائر اور مقدس شخصیات کی توہین وتنقیص نہ کی جائے اور اس پر عالمی سطح پر پابندی لگائی جائے جس طرح کہ ہولو کاسٹ پر پابندی ہے۔ داخلی سطح پر پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کو مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کا سامنا ہے۔ریاست نے مذہبی انتشار اور فرقہ واریت کو ختم کرنے کیلئے پیغام پاکستان جیسے متفقہ ڈاکومنٹ کو عملی طور پر ایک مرتبہ پھر پس پشت ڈال دیا ہے۔ جب یہ طے ہو گیا کہ کسی شخص کو بھی کسی مسلک کی مقدس شخصیات کی اہانت وتنقیص کی اجازت نہ دی جائے گی تو اس سال مختلف فورمز پر صحابہ کرام و اہل بیت اطہار اور دیگر مقدس شخصیات کی توہین کرنے والے مجرم قانون سے بالا تر کیوں ہیں؟ایسے افراد کو ریاست فوری طور پر قانونی شکنجہ میں جکڑے اور ان کے خلاف مؤثر کاروائی کرے۔ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ نظامیہ رضویہ،لاہور کے ناظم اعلیٰ صاحبزادہ عبدالمصطفیٰ ہزاروی نے کہا کہ محرم الحرام میں صحابہ کرام خصوصا خلیفہ اوّل حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور امہات المومنین،اہل بیت اطہار کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے افراد کے خلاف مؤثر قانونی کاروائی کرکے انہیں نشان عبرت بنایا جائے تاکہ ملکی امن وسلامتی برقرار رہے۔حکومتی ادارے ایسے افراد اور ان کی سر پرستی اور پشت پناہی کرنیوالے ملکی وبین الاقوامی عناصر کو بے نقاب کریں۔ اہل سنت وجماعت ہمیشہ پر امن رہے ہیں اور رہیں گے۔

لیکن ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ شعائر اسلام اور ذوات مقدسہ کی ناموس کے تحفظ کیلئے ہم کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں اور اسے اپنی ایمانی واعتقادی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔تحفظ ناموس رسالت وتحفظ ناموس صحابہ واہل بیت ریلی میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی راہنما قاری زوار بہادر صاحب نے کہا کہ ذوات مقدسہ کی توہین اسلامیان پاکستان کی دل آزاری کا سبب اور کھلی نظریاتی دہشت گردی ہے۔ بانیان پاکستان کے وارث اہل سنت وجماعت ملک میں فرقہ واریت اور ہر قسم کی دہشت گردی کو قطعا پروان نہیں چڑھنے دیں گے۔ تحفظ ناموس رسالت وتحفظ ناموس صحابہ واہل بیت ریلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد علی نقشبندی سیکرٹری جنرل تحفظ ناموس رسالت محاذ نے کہا کہ علمی دلیل کی بنیا دپر رائے کا اظہار کرنے پر علماء کے خلاف مقدمات کا اندارج بلا جواز ہے اس سے ملک میں مزید انارکی پھیلے گی۔ مولانا ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب کے خلاف مقدمہ بلا جواز ہے۔ حکومت انہیں فوراً رہا کرے۔ علماء اہلسنت کے خلاف بلا جواز فورتھ شیڈول بنانے کے سلسلے کو فی الفور بند کیا جائے۔ تحریک دعوت حق کے مرکزی امیر مولانا پیر اصغر نورانی نے کہا:کہ تحفظ ناموس رسالت کے ساتھ تحفظ عقیدہ ختم نبوت کیلئے ہم کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔صدر نعیمیین ایسوسی ایشن پاکستان ڈاکٹر مفتی محمد حسیب قادری نے کہا کہتمام مکاتب فکر کے ذمہ داران شر پسند اور فتنہ پرور افراد سے برات کاعملی اظہار کریں۔ایسے افراد کو سوسائٹی میں تنہا کیا جائے۔ وزیر اعظم پاکستان، وزرائے اعلیٰ، چیف جسٹس صاحبان، چیف آف آرمی سٹاف ودیگر ملکی اہم اداروں کے سربراہان حالیہ واقعات کا سختی سے نوٹس لیں اور فتنہ فساد پھیلانے والے افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔محافظان ختم نبوت کے سربراہ مولانا ذوالفقار مصطفی ہاشمی نے کہا کہ دربار بی بی پاکدامن اہلسنت کے مزارات میں سے ہے۔ اور یہ اہل سنت کی وقف پراپرٹی ہے۔سرکاری املاک پر پرائیویٹ ٹرسٹ کا قیام اور چند مخصوص افراد کی خواہش پر اہل سنت وقف کو کسی دوسرے مسلک کے تسلط میں دینا ہر گز قابل قبول نہیں۔عاصمہ ممدوٹ نامی خاتون کا اس سلسلہ میں سوشل والیکٹرانک میڈیا پر بیانات دینا کار سرکار میں کھلی مداخلت ہے اور پنجاب میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی مذموم کوشش ہے۔ محکمہ اوقاف پنجاب اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنی وقف پراپرٹی اور اہل سنت کے مزار کا تحفظ کرے وگرنہ اہلسنت وجماعت خود اپنے مزارات اور حقوق کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ ادارہ صراط القرآن کے ناظم اعلیٰ مفتی انتخاب احمد نوری نے کہا کہ سیالکوٹ موٹر وے پر گزشتہ دنوں ہونیوالا واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے جو پوری دنیا میں ملک وملت کی بدنامی کا سبب بنا ہے۔ حکومت رعایا کے جان ومال، عزت وآبرو کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری نبھائے۔ اس واقعہ میں ملوث افراد کو قرار واقعہ سزا دے کر نشان عبرت بنایا جائے۔ ادارہ صراط مستقیم و تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مرکزی راہنما مولانا قاری فرمان علی جلالی نے کہاکہ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف اسلامی نظام کا نفاذ ہے۔ ریاست مدینہ کی دعوے دار حکومت ملک میں فوری طور پر مکمل اسلامی نظام نافذ کرے۔ آستانہ عالیہ قادریہ شاہ پور کانجراں کے سجادہ نشیں پیر معاذ المصطفیٰ قادری نے کہا کہ مملکت خدادا دپاکستان سنی سٹیٹ ہے۔ اس میں اہل سنت کے حقوق کو کسی طور پر بھی غصب نہیں ہونے دیا جائے گا۔انجمن اشاعت اسلام و حلقہ یوسفیہ کے راہنما پیر بشیر احمد یوسفی نے کہا کہگورنر پنجاب کا صوبے بھر کی جامعات میں تمام کلاسز میں ترجمہ قرآن کی تعلیم شروع کرنا ایک مستحسن اقدام ہے جس پر ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک اور صوبہ پنجاب کی غالب اکثریت اہل سنت وجماعت ہے لہٰذا تعلیمی اداروں میں اہل سنت کے علماء کے تراجم قرآن،ترجمہ قرآن کی تعلیم کیلئے منظور کیے جائیں۔پاکستان سنی تحریک کے مرکزی راہنما جناب شاداب رضا قادری نے کہا: بیوروکریسی میں شامل افراد اپنے مسلک کو پروموٹ کرنا چھوڑ دیں۔ریلی میں ہزاروں غیور زندہ دلان لاہور نے شرکت کی،اس کے علاوہ ریلی میں علماء ومشائخ اور سنی تنظیمات کے راہنماؤں کی کثیر تعداد بھی شریک ہوئی۔جن میں بالخصوص مولانا طاہر شہزاد سیالوی، مولانا نعیم جاوید نوری،مولانا راحت عطاری، مولانا عبداللہ ثاقب،مولانا مفتی عمران حنفی، مولانا قاری اصغر نورانی، مولانا پیر معاذ المصطفیٰ،مولانا پیر بشیر احمد یوسفی،مولانا پیر حفیظ احمد اظہر، مولانا مفتی بشیر احمد نقشبندی، مولانا صادق فریدی، مولانا رمضان سعیدی، محترم سید رفاقت شاہ، مولانا ڈاکٹر رضا محمد شاہ، مولانا احمد بخش سیالوی، مولانا شفیق اللہ اجمل، مولانا قیصر شہزاد نعیمی، مولانا عمران الحسن فاروقی،مولانا پیر محمد ارشد نعیمی،مولانا پیر محمد صدیق نقشبندی، مولانا محمد اعظم نعیمی،مولانا مفتی مسعود الرحمن، مولانا طارق لطیف نقشبندی، مولانا رب نواز حقانی، مولانا ممتاز ربانی، مولانا نصیر احمد نورانی،مولانا مشتاق احمد نوری، مولانا ڈاکٹر مفتی کریم خان،مولانا صاحبزادہ منیر احمد سیفی، محترم جناب طاہر ڈوگر شامل ہیں شرکاء ریلی نے بھی مطالبہ کیاکہ صحابہ کرام بالخصوص خلیفہ اوّل حضرت سید نا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی توہین کرنے والے افراد کو قانون کے مطابق سزادی جائے۔ توہین سید نا صدیق اکبر کے مرتکب آصف رضا علوی کو انٹر پول کے ذریعے ملک میں واپس لا کر اس کے خلاف قانونی کاروائی کے جائے۔ذوات مقدسہ کی توہین روکنے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں قوانین کو مزید مؤثر بنائیں۔محکمہ اوقاف پنجاب دربار بی بی پاکدامن جو کہ سرکاری وقف املاک اور اہل سنت کے مزارات میں سے ہے۔اس پر قائم کیے گئے پرائیویٹ ٹرسٹ کو فی الفور ختم کرے اور اپنی املاک کے تحفظ کو یقینی بنائے۔محکمہ اوقاف پنجاب کے زیر اہتمام وقف پراپرٹی دربار حضرت تکیہ سائیں لالواورمسجد پر کالعدم تنظیم کا قبضہ فی الفور ختم کرایا جائے۔ محکمہ اوقاف پنجاب اس سلسلہ میں اپنی رٹ بحال کرے۔ریلی کے اختتام پر ملک وقوم کی سلامتی کیلئے خصوصی دعاکرائی گئی۔