مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا ۔۔۔جہاں ہمارا

 چین و عرب ہمارا، ہندوستان ہمارا   مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

 مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا ۔۔۔جہاں ہمارا

 مودی سرکار نے بھارتی آئین میں غیر جمہوری طریقے سے تبدیلی کرکے جب سے مقبوضہ کشمیر کوبھارت میںصنم کرنے کا اعلان کیاہے۔ ہندو انتہا پسند تنظیموں کے پریوارسنگھ کے ظلم اوربربریت کاسورج سوانیزے پر آگیا ہے کہ سنگھ پر یوار نے اعلان کردیا ہے کہ اگلے دو سال میں ہندوستان بھرسے مسلمانوں اور عیسائیوں کا سفایا کردیا جائے گا ۔ خواب دیکھنے پرپابندی ہے، نہ اس کابل آتاہے کہ کوئی نہ دیکھے۔ سنگھ پر یورا یہ اعلان کرتے ہوئے بھول رہاہے کہ

 چین و عرب ہمارا، ہندوستان ہمارا

 مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

کہ آج اگر سنگھ پریوار کو آمرانہ اورجابرانہ انداز اختیا ر کرنے کے مواقع میسر آئے ہیں تو اس کی وجہ ملت اسلامیہ میں میر جعفروں اورمیر صادقوں کی فرا وانی ہے کہ عبداللہ بن ابی کی یہ ذریّت آج بھی یزید کی باقیات کی طرح دنیا بھر میںپائی جاتی ہے مگریہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ” وہ شمع کیا مجھے جسے روشن خدا کرے“ اس حقیقت پرچودہ سوسال کی تاریخ شاہد ہے کہ جتنے بھی ہلاکو اور ہٹلر پیدا ہوئے آخرخالی ہاتھ دنیا چھوڑ کرچلے گئے اگر شداد کوخود ساختہ جنت کی سیر نصیب نہیں ہوئی تھی توسنگھ پریوار بھی ہندو

¿ستان سے جودراصل اجمیر شریف والوں کی سرزمین ہے، اسلام کی شمع نہیں بجھا سکتاہے کہ آج بھی ہندوﺅں اورسکھوں میں درپردہ ہزاروں لوگ شمع توحید و رسالت کے پر وانے اہل بیت غظام اورصحابہ کرام رضوان اللہ کے نوکر چاکر کہلاتے ہیں۔ سنگھ پریوار کواس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ یہ عرش اورفرش اللہ کابنایا ہواہے اس پراسی کی حکمرانی ہے اس میں چلنے والی ہوائیں ،پیدا ہونے والا اناج اوردیگر نعمتیں اسی کی رحیمی اورکریمی کاثمر ہیں ۔اس نے انسان کو بااختیار ضروربنایاہے مگراتنا کہ بیک وقت زمین سے دونوں پاﺅں اٹھا کر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ سنگھ پریوار کس باگ کی مولی ہے ۔ہندوستان پر آٹھ صدیاں اسلا م کاعلم پوری آب وتاب سے لہراتا رہاہے اب بھی25کروڑ سے زائد شمع تو حید و رسالت کے پروانے ہندوستان کی سرزمین پرآباد ہیں جن کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے کہ جوقوم قربانی کے فلسفہ کو سمجھتی ہے اور اللہ کی راہ میں لڑ کر مرنے کو اعزاز سمجھتی ہے۔ اس کانام و نشان مٹانے کادعویٰ کرنا احمقانہ سوچ کی غمازی کرتاہے۔ سنگھ پریوار کو اپنی خیرمنانی چاہیے ۔ اسلام کے قلعہ (پاکستان) کی شان وشوکت سے ان کی آنکھیں چند ھیا رہی ہیں مسلمان جہاں بھی آباد ہو ،اگراس میںشرم وحیا کا عنصر موجود ہو تو اس کی آنکھ ننگی، فرنگی اورہندو تہذیب سے خیرہ نہیں ہوسکتی۔ سنگھ پر یوار میں غیرت نام کی کوئی چیز ہے تو ہندوستان میں فن اورفیشن کے نام پر پروان چڑھتی عریانی اورفحاشی روکیں ۔ وہ دولت کس کام کی جو دخترحوا کا جسم نہ ڈھانپ سکے اس گندی تہذیب وثقاقت سے وہ آنکھیں کبھی خیرہ نہیں ہوسکیں جو خوف خدا سے پرنم ہوتی ہیں۔ سادہ لوح مسلمانوں کوسنگھ پریوار کی کیڈر بھبھکیوں سے حراساں ہونے کی ضرورت نہیں، ضرورت اس امرکی ہے کہ آئیں سب دین میں پورے کے پورے داخل ہوجائیں۔ اُمہ سے نسلی ولسانی تعصب ختم ہوگا، سب وحدت کی دیوارکی اینٹیں بنیں گے توقبلہ اوّل بھی واگذار ہوگا اورفلسطین وکشمیر کامسئلہ بھی حل ہوگا۔ اُمہ کونسلی ولسانی تعصبات کے بُت پاش پاش کردینے چاہیں۔ جغرافیائی سرحدیں برقرار رہتے ہوئے بھی اُمہ اسی طرح متحدہ رہ سکتی ہے جس طرح ایک باپ کئی بیٹے مختلف گھروں میں رہتے ہوئے ایک خاندان کہلاتے ہیں ۔آئیں فلسفہ اتحاد کو سمجھیں۔ جب اتحاد کا فلسفہ سمجھ میں آجائے گا تو جہاد کا جذبہ خودہی انگڑائی لے گا۔ ہمیں دنیا میں قیام امن کے لئے جنگ کے لئے اس طرح تیار رہنا چاہیے کہ دشمن پر دھاک بیٹھی رہے۔ عالم کفر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو اسلامی بم کے نام سے موسوم کرتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ایٹمی اثاثے اسلام کا اثاثہ ہیں۔ یہ اثاثہ ایران، ترکی اور سعودی عرب کے پاس بھی ہونا چاہیے۔ خدا را اُمہ دین سے دوری اختیار نہ کرے ۔مادی ترقی لازم ہے مگر مادی ترقی ، روحانی تنزل کاباعث نہیں ہونی چاہیے اگریہ رجحان برقرار رہا تو ہندوستان میں سنگھ پریوار اورفلسطین میں امریکہ کا حرامی بچہ اسرائیل ظالمانہ حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے اورملت اسلامیہ اسی طرح تہ تیغ ہوتی رہے گی جس طرح عصر حاضر میں ہورہی ہے ۔

ہمیں پرُامن رہنا چاہیے مگر چشم کشا اور سینہ سپررہنا چاہیے۔ عالمی حالات سے اگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے اوراس مسلمہ حقیقت کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ سربلند ہوکر زندہ وہی رہتا ہے جواللہ کی راہ میں ہروقت مرنے کے لئے تیار رہتاہے جو اللہ کی راہ میں جان ومال لٹانے سے گریز کرتے ہیں ان کے ایمان پر سوالیہ نشان لگ جاتاہے ہرکلمہ گو بھائی کو کوشش کرنی چاہیے کہ اس کے ایمان پریہ سوالیہ نشان نہ لگے۔ رہی بات ہندوستان سے مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کانام ونشان مٹانے والوں کی تو جو دوسروں کے لئے کنواں کھودتا ہے و ہ خود اسی میں گرتا ہے ۔اللہ کی زمین پر اللہ کی مخلوق پرعرصہ تنگ کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ خودہی نمٹ لیتاہے۔ اگر اللہ ابرہہ کے ہاتھیوں سے ابابیلوں پرکنکریاں برسا کر انہیں تباہ کرسکتا ہے تویہ مودی کے مشٹنڈے کیا حیثیت رکھتے ہیں؟ ظلم جب بڑھتا ہے تومٹ جاتاہے اللہ نے ہر دو ر کے فرعون کے لئے موسیٰ پیداکیا ہے ، اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے اس کے برسنے کی آواز نہیں آتی۔

مودی نے اس خطے کے ہندوﺅں کے لئے نفرت کے ایسے بیچ بود یئے ہیں کہ و ہ اس نفرت کی بدبو سے اٹھنے والے تعفن سے ہی سسک سسک کر مر جائیں گے۔ دُنیا بھر کے دانش وربھارت کے ٹوٹتے پر متفق ہیں ۔ ہمارا کام صرف اورصرف اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کررکھناہے اور کوشش کرناہے کہ و ہ ہمارے کسی عمل سے ہم سے غضب ناک نہ ہو۔ ہم پرخوش رہے۔ اگلی بات زبان ز د عام ہے کہ ”رب راضی نے سب راضی “ ہمیں اللہ کی راہ میں اپنے اپنے حصہ کی شمع جلا کر رکھنی چاہیے تاکہ سادہ لوح مسلمانوں کے قلب وذہن پرجہالت کے پردے نہ پڑیں۔ یہ ہمارا دینی فریضہ ہے۔ جس کی انجام دہی میں کوتاہی نہیں برتنی چاہیے ۔ بھارت کا سامان حرب وضرب جتنا بھی جدید ہے۔ ایک مسلمان کے جذبہ ایمانی کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ہمیں صرف اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اوراسی سے مدد مانگنی چاہیے۔