ماضی میں مسلم لیگ ن نے دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کی طرف توجہ نہ دی: فیاض الحسن چوہان

وزیراعظم عمران خان اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں موجودہ حکومت جنوبی پنجاب صوبے کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے پوری نیک نیتی کے ساتھ کام کر رہی ہے: وزیرِ اطلاعات پنجاب

ماضی میں مسلم لیگ ن نے دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کی طرف توجہ نہ دی: فیاض الحسن چوہان

لاہور : وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں موجودہ حکومت جنوبی پنجاب صوبے کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے پوری نیک نیتی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ماضی میں مسلم لیگ ن نے دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کی طرف توجہ نہ دی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی آدھی وزارتیں اپنے پاس رکھنے والے ظالمِ اعلیٰ شہباز شریف نے بطور وزیرِ اعلیٰ عوام کو بہاولپور صوبہ اور سرائیکی صوبہ میں الجھائے رکھا تا کہ اقتدار ان کے ہاتھ سے چھن نہ جائے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں جنوبی پنجاب سے صدر، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، وزیرِ خارجہ اور گورنر منتخب ہونے والے عوامی نمائندے بھی جنوبی پنجاب کے لیے وہ کام نہ کر سکے جو وزیرِ اعظم عمران خان اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کر دکھایا ہے۔ان خیالات کا اظہار وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے پنجاب کابینہ کے 34 ویں اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کے حوالے سے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب کابینہ نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے قبل از وقت اقدامات پر عمل کرتے ہو ئے سولہ اہم محکمہ جات کے ایڈیشنل سیکرٹریز اور ایڈیشنل آئی جی پولیس کو جنوبی پنجاب میں تعینات کر دیا ہے۔

ان ایڈیشنل سیکریٹریز اور ایڈیشنل آئی جی کے پاس سیکرٹریز کے تمام اختیارات ہونگے گے تا کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور لاہور نہ آنا پڑے۔ وزیرِ اطلاعات نے مزید بتایا کہ بقیہ محکموں کے سیکرٹریز کو بھی آئندہ تین ماہ میں جنوبی پنجاب تعینات کر دیا جا ئے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ان اقدامات سے جنوبی پنجاب صوبہ بننے کے بعد قیمتی وقت کے ضیاع سے بچا جا سکے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سرکاری وسائل اور افرادی قوت کے بہتر استعمال کے لیے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں پیپرلیس ورکنگ پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب کابینہ نے اٹھارویں ترمیم کے بعد گزشتہ حکومت کی جانب سے دانستہ نظر انداز کی گئی ایڈورٹائزمنٹ پالیسی میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دی ہے جسکی تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی تہتر سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ سپیشل افراد کے لیے وزیر برائے سپیشل ایجوکیشن چوہدری اخلاق کی سربراہی میں سپیشل ایجوکیشن پالیسی پیش کی گئی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی اٹھارہ عدالتوں کی ریشنلائزیشن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ کی سفارشات کی روشنی میں انسداد دہشت گردی کے مقدمات میں کمی کے باعث چھ عدالتوں کے ججز اور سٹاف کو دیگر ضروری جگہوں پر تعینات کیا جا رہا ہے۔

گنے کے کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کو مدِنظر رکھتے ہوئے پنجاب کابینہ نے شوگر ملز کنٹرول ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے شوگر مل مالکان کو قیمت، تاریخ اور دیگر معلومات پکی رسیدوں پر درج کرنے کا پابند بنایا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گنے کے کاشتکاروں کا استحصال روکنے کے لیے گنے کی کرشنگ میں دانستہ تاخیر کرنے والی شوگر ملوں کو روزانہ کی بنیادوں پر پچاس لاکھ تک جرمانے کیے جا سکیں گے۔