راجہ بشارت کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں کابینہ کمیٹی برائے قانون کا 31 واں اجلاس

جس میں صوبائی وزراء میاں محمود الرشید، تیمور احمد خان،راجہ یاسر ہمایوں اور حافظ ممتاز احمد، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈیشنل آئی جی داخلہ، سیکریٹری قانون اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے. کمیٹی نے متعدد آئینی ترامیم اور قانونی مسودوں کی منظوری دی

 راجہ بشارت کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں کابینہ کمیٹی برائے قانون کا 31 واں اجلاس

لاہور:صوبائی وزیر قانون،پارلیمانی امور و سوشل ویلفیئر راجہ بشارت کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں کابینہ کمیٹی برائے قانون کا 31 واں اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء میاں محمود الرشید، تیمور احمد خان، راجہ یاسر ہمایوں اور حافظ ممتاز احمد، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈیشنل آئی جی داخلہ، سیکریٹری قانون اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے. کمیٹی نے متعدد آئینی ترامیم اور قانونی مسودوں کی منظوری دی. منظور کی جانے والی تجاویز میں جنوبی پنجاب میں غربت کے خاتمے کے لیے جاری منصوبہ کی توسیع کے معاہدے اور محکمہ خواندگی اور الائٹ پاکستان کے مابین ''ایک بچہ پڑھاؤ'' منصوبے کے ایم او یو پر دستخط کرنے کی تجاویز شامل تھیں.

کابینہ کمیٹی نے نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کے لیے سرکاری زمین دینے کی پالیسیوں میں نرمی کی تجویز اورپنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی ایفورڈیبل ہاؤسنگ رولز 2019 کے مسودہ کی منظوری دے دی. پنجاب کے محکمہ ایکسائز اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مابین معلومات کے تبادلے کے لیے ایم او یو کے مسودہ اور منشیات پر قابو پانے کے لئے پنجاب کنٹرول آف نارکاٹکس ایکٹ 2020 کے مسودے سے کمیٹی نے اتفاق کا اظہار کیا. محکمہ بلدیات کی جانب سے پیش کی جانے والی ٹاؤن کمیٹی کنگن پور اور میونسپل کمیٹی ڈنگہ کی بلدیاتی حدود کے تعین کی تجویز منظور کرتے ہوئے کابینہ کمیٹی نے کوٹلی ستیاں، مری اور چکوال میں چھ سرکاری گیسٹ/ریسٹ ہاؤسز کی منتقلی اور سیاحوں کے لیے خدمات بہتر بنانے کے حوالے سے محکمہ سیاحت کے مروجہ قوانین کی مجوزہ ترامیم کی تجاویز کی منظوری دے دی۔