امریکی حکومتی سسٹمز پر سائبر حملہ، الزام روس پر لگادیا

امریکا کے کامرس ڈپارٹمنٹ نے سائبر سیکیورٹی توڑنے کے لیے ہونے والی اس مبینہ کوشش کی تصدیق کی ہے، تاہم یہ حملہ کہاں ہوا اس کی تفصیلات نہیں بتائیں: غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ

امریکی حکومتی سسٹمز پر سائبر حملہ، الزام روس پر لگادیا

امریکا کے حکومتی، سیکیورٹی ایجنسیز اور نجی کمپنیوں کے سسٹمز پر سائبر حملہ ہوا ہے جس کا الزام واشنگٹن نے ماسکو پر لگادیا۔  غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے کامرس ڈپارٹمنٹ نے سائبر سیکیورٹی توڑنے کے لیے ہونے والی اس مبینہ کوشش کی تصدیق کی ہے، تاہم یہ حملہ کہاں ہوا اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔  ڈپارٹمنٹ نے اپنے سائبر سیکیورٹی کے لوگوں سمیت امریکا کی صف اول کی تحقیقاتی ایجنسی (ایف بی آئی) کو بھی آگاہ کردیا اور معاملے میں ہوشیار رہنے کی بھی ہدایت کی ہے۔  رپورٹس کے مطابق ہیکرز نے سب سے پہلے سولر ونڈز نامی کمپنی کی سیکیورٹی کو توڑتے ہوئے اس تک رسائی حاصل کی۔ 

سولر ونڈز نامی یہ کمپنی امریکا کے سرکاری اداروں سمیت دنیا بھر میں اپنی ریموٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز فراہم کرتی ہے۔  ادھر فرانسیسی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی سائبر سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر ایجنسی (سی آئی ایس اے) نے وفاقی اداروں کو انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ سولر ونڈز نامی اس کمپنی کی فراہم کردہ پروڈکٹس کا استعمال فوری طور پر بند کریں۔ اس حوالے سے سولر ونڈز کمپنی کے سی ای او کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے معاملے کی حساسیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ہم فائر آئی ( سائبر سیکیورٹی کمپنی)، ایف بی آئی، انٹیلیجنس کمیونیٹی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے میں ہیں اور اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔