میاں اسلم اقبال کی ڈی جی پی آر آفس میں صفائی آپریشن کے حوالے سے پریس کانفرنس

لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے زیر اہتمام جاری صفائی آپریشن کے تحت شہر سے 85 فیصد کوڑا کرکٹ اٹھا لیا گیا ہے جبکہ 15 جنوری کی شام تک زیر ویسٹ کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا

میاں اسلم اقبال کی ڈی جی پی آر آفس میں صفائی آپریشن کے حوالے سے پریس کانفرنس

لاہور:صوبائی وزیر صنعت وتجارت میاں اسلم اقبال نے کہاہے کہ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے زیر اہتمام جاری صفائی آپریشن کے تحت شہر سے 85 فیصد کوڑا کرکٹ اٹھا لیا گیا ہے جبکہ 15 جنوری کی شام تک زیر ویسٹ کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔2009 ء میں لاہور کی صفائی پر ایک ارب 5کروڑ روپے خرچ ہورہے تھے۔ن لیگ کی حکومت نے دو بیرونی کمپنیوں کو شہر کی صفائی کا ٹھیکہ دیا تو 2010 میں صفائی پر 7 ارب روپے خرچ ہونے لگے اور 2018 میں یہ اخرجات 14 ارب روپے تک پہنچ گئے۔

خصوصی موقعوں پر دی جانے والی سپیشل گرانٹس اس کے علاوہ تھیں۔ ان کمپنیوں سے 7 سال کے لئے 320ملین ڈالر کا معاہدہ کیا گیا اور 70  فیصد ادائیگی ڈالروں میں کی گئی۔ سکل ہپ اور سلیمان اینڈ کمپنی کے ذریعے ان غیر ملکی کمپنیوں کے لئے ورک چارج ملازمین ہائر کیے جاتے تھے۔ گزشتہ 8 سالوں میں ان کمپنیوں کو کروڑوں روپے سے نواز گیا۔ غیر ملکی کمپنیوں سے صفائی کے حوالے سے کیے گئے معاہدوں میں بھی ابہام تھا اور ان کی فرانزک آڈٹ رپورٹ بھی آچکی  ہے۔

آر ایف پی کے تحت معاہد ہ ختم ہونے پر ساری  مشنری ایل ڈبلیو ایم سی کی ملکیت ہونا تھی۔ جب اسے معاہدے کی شکل دی گئی تو اس وقت کی حکومت کے نمائندوں نے غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ مل کر معاہدے میں تبدیلی کی۔ اس طرح ن لیگ کی حکومت نے صفائی کے نام پر غریب قوم کی جیبوں کی صفائی کی۔ معاہدے کے ا ختتام پر جب ایل ڈبلیو ایم سی نے مشنری حاصل کی تو 35 فیصد آپرشنل جبکہ 65 ن فیصد نان آپرشنل تھی اس طرح سابقہ حکومت کے کارندوں نے شہر لاہور کی صفائی کے نظام کو خراب کیا۔ ہماری حکومت صفائی کے نظام کو بہتر بنائے گی۔ صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار آج ڈی جی پی آر آفس میں صفائی آپریشن کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فرودوس عاشق اعوان بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ لاہور کی سڑکوں کے میکنیکل سویپ کے نام پر بھی وسائل کو لوٹا گیا۔ میکنکل سوپیر پر ٹریکر لگانے کی بجائے پرائیویٹ گاڑیوں پر ٹریکر لگا کر وصولیاں کی گیں۔ آڈٹ رپورٹ میں ان کمپنیوں سے 7 ارب روپے کی وصولیوں کا کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صفائی نصف ایمان ہے اور اہم اپنے صفائی کے لئے بھی غیر ملکی کمپنیوں کو ٹھیکہ دیتے رہے۔ دھلے کی کرپشن نہ کرنے کے دعوے داروں کی اربوں روپے کی لوٹ مار سامنے آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے 2 جنوری کو مجھے صفائی مہم کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی تو اس وقت شہر میں 25 ہزار ٹن کوڑاکرکٹ موجود تھاا ور روزانہ کی بنیاد پر 5 ہزار ٹن کا اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آج کے دن تک1200 ٹن کوڑا کرکٹ رہ گیا ہے جو کل تک اٹھا لیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے میڈیا کے نمائندوں کے سولات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ صفائی کے ٹھیکوں کے بارے میں فرانزک آڈٹ رپورٹ آچکی ہے جو پبلک آکاوئنٹس کمیٹی میں جائے گی اور یہ معاملہ نیب میں بھی موجود ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ شہریوں کے مسائل نچلی سطح پر حل کرنے کے لئے بلدیاتی نظام ضروری ہے اور یہ پی ٹی آئی حکومت کے منشور میں بھی شامل ہے۔

کورونا وباء کے باعث بلدیاتی انتخابات نہیں ہوپارہے جیسے ہی این سی او سی نے بلدیاتی انتخابات کرانے کی اجازت دی تو کرا دیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ جن لٹیروں کا احتساب ہورہا ہے۔ وہ کوئی عام لوگ نہیں بلکہ جادوگر ہیں اور ان کا جادو چل جاتا ہے۔ یہ شعبد ہ باز ہیں اور صفائی کے ٹھیکوں میں بھی ان کے شعبدہ بازی چل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل ڈبلیوایم سی نے لاہور کی صفائی کا آپریشن شروع کیاہے۔ اور صفائی کے حوالے سے قوم کے 5 ارب روپے بچائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں میاں اسلم اقبال نے کہا کہ ہم اداروں کی مضبوطی پر یقین رکھتے ہیں۔ ادارے مضبوط ہوں گے تو بہتر نتائچ ملیں گے۔ سابقہ حکومتوں نے سیاسی بھرتیوں کے ذریعے اداروں کو کمزور اور سسٹم کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کی اب ایسا نہیں ہوگا۔