پاک ازبک تجارتی روابط سے خطے میں ترقی وخو شحالی کی نئی راہیں کھلیں گی، پاکستان وسطی ایشیا کو دیگر دنیا کے ساتھ ملانے اور تجارت کا محور بنے کی بھرپور صلاحیت کا حامل ہے، وزیراعظم عمران خان

پاک ازبک تجارتی روابط سے خطے میں ترقی وخو شحالی کی نئی راہیں کھلیں گی، پاکستان وسطی ایشیا کو دیگر دنیا کے ساتھ ملانے اور تجارت کا محور بنے کی بھرپور صلاحیت کا حامل ہے، وزیراعظم عمران خان

تاشقند :وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور ازبکستان کےصدیوں پرانے تاریخی، ثقافتی اور روحانی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور دوطرفہ روابط کے مزید فروغ سے خطے میں ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی، پاکستان وسطی ایشیا کو دیگر دنیا کے ساتھ ملانے اور تجارت کا محور بننے کی بھرپور صلاحیت کا حامل ہے،

پاکستان ازبکستان کو اپنی بندرگاہوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک رسائی دے سکتا ہے ، ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارت سے لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو گا، افغانستان میں پرامن سیاسی حل کے خواہاں ہیں، افغانستان میں امن خطے کے لئے اہم ہے، افغانستان میں حالات بہتر ہونے سے پاکستان، افغانستان ،ازبکستان ریلوے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے ان خیالات کااظہار جمعرات کو یہاں ” وسطی اور جنوبی ایشیا 2021 ؛ علاقائی رابطوں کے چیلنجز اور مواقع ” کے موضوع پر پاکستان ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں ازبکستان کے دورے سے دلی مسرت ہوئی ہے۔

پاکستان اور ازبکستان کے تاریخی ، ثقافتی اور روحانی روابط ہیں۔ پاکستان اورا زبکستان کے عوام کے صدیوں پرانے تعلقات ہیں ۔ازبکستان کے وزیراعظم اور کاروباری برادری کو یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے یہ تعلقات ابھی آغازہیں۔ ہم پر امید ہیں کہ یہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں اس دورے کی اہمیت اور جوش و جذبے کااندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے جب وہ طیارے میں سوار ہو رہے تھے تو بڑی تعداد میں پاکستانی کاروباری شخصیات ان کے موبائل فون پر دورے کے لئےمدعو نہ کئے جانے کا شکوہ کر رہی تھیں ۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے کاروباری اور تجارتی تعلقات کاانحصار اس بات پر ہے کہ ہم کتنا جلدی ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کو عملی طورپر فروغ دیتے ہیں۔ افغانستان کے راستے ریلوے منصوبہ پاکستان اور ازبکستان دونوں ممالک کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ منصوبہ ازبکستان کو پاکستان کے 22 کروڑ افراد کے ساتھ ملائے گا اور پھر ہماری بندر گاہوں کے ذریعے افریقہ اور مشرق وسطی ٰ سے بھی آگے بڑی مارکیٹوں تک رسائی کاموقع میسر آئے گااور پاکستان ازبکستان کے رستے وسطی ایشیا سے منسلک ہو گا جو کہ وسطی ایشیا کی بڑی ریاست ہے اور ازبکستان ہمیں وسط ایشیا اور اس سے آگے تک رسائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

وزیرا عظم نے کہا کہ ازبکستان کے صدر بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور اسی طرح کی دلچسپی ہمیں بھی ہے کہ افغانستان میں امن ہو اور ہم واہاں پر سیاسی حل کے لئے پر امید ہیں کیونکہ افغانستان کے رستے رابطے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا۔ کاروباری طبقہ اس سے مستفید ہو گا اور لوگوں کا معیار زندگی بھی بلند ہو گا۔

وزیراعظم نے کہاکہ ان کے زمانہ طالب علمی میں جب یورپی یونین کا قیام عمل میں آیاتو جوممالک بھی یورپی یونین کاحصہ بنے وہاں کے لوگون کامعیار زندگی بلند ہو گا۔ جب ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارت بڑھتی ہے تو لوگوں کو معیار زندگی بھی بلند ہوجاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دور ہمارے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان اور ازبکستان کی کاروباری برادری کے درمیان روابط کو فرو غ ملے گا۔ کل دونوں ممالک کے کاروباری شعبوں بالخصوص ٹیکسائل کے شعبے میں معاہدے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب یہ رابطے بڑھیں گے تو اس سے فضائی رابطے بھی بڑھیں اور ہم ازبکستان کے لئے پروازوں کی تعداد بڑھانے کے خواہاں ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ان کے دورے کاایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ وہ بخارا اور ثمر قند جانے کے منتظر ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے وہ ازبکستان کی تاریخ سے ازبکستان کے لوگوں سے بھی زیادہ واقفیت رکھتے ہیں۔ ہم پر امید ہیں کہ افغانستان میں حالات بہتر ہونے سے ریلوے کے بڑےمنصوبے کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

قبل ازیں ازبکستان کے وزیراعظم عبداللہ عارفوف نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے وسیع مواقع ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے دورے کے دوران مختلف معاہدوں اورمفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کئے جائیں.