یورپین یونین میں آج سے اندرونی سرحدیں کُھلنا شروع

بیلجیئم، فرانس، جرمنی، چیک ریپبلک، ڈنمارک اور یونان آج سے اپنی سرحدیں کھول رہے ہیں

یورپین یونین میں آج سے اندرونی سرحدیں کُھلنا شروع

یورپین یونین میں آج سے اندرونی سرحدیں کھلنا شروع ہوگئی ہیں، جس کے بعد کئی یورپی ممالک کے شہری اپنے پڑوسی ممالک میں بلا رکاوٹ داخل ہو سکیں گے۔ اس حوالے سے دستیاب اطلاعات کے مطابق یورپین کمیشن کی ہدایت پر اس سال مارچ کے مہینے میں عالمی وباء کوروانا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے لگائی جانے والی سفری پابندیاں اٹھائی جارہی ہیں۔

اس ہدایت کے تحت سب سے پہلے یورپ کی اندرونی سرحدیں کھولی جارہی ہیں تا کہ نارمل زندگی اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی ممکن ہو سکے۔ بیلجیئم، فرانس، جرمنی، چیک ریپبلک، ڈنمارک اور یونان آج سے اپنی سرحدیں کھول رہے ہیں۔ اس حوالے سے کورونا وائرس سے سب سے پہلے اور زیادہ متاثر ملک اٹلی نے پہل کی اور اس نے 3 جون کو ہی اپنے پڑوسی ممالک سمیت تمام یورپین سیاحوں کے لئے سرحدیں کھول دی تھیں۔

اسی طرح بلغاریہ، کروشیا، ہنگری، لیٹویا، لتھوینیا، اسٹونیا، سلواکیہ اور سلوینیہ نے بھی پڑوسی ممالک کے لئے سفری پابندیوں میں نرمی کا آغاز کر رکھا ہے۔ آسٹریا 16 جون سے 31 ممالک کیلئے اپنی سرحدیں کھول رہا ہے۔ اس دوران کچھ ممالک کی پالیسی یہ بھی ہے کہ ان ممالک کے ساتھ آمد و رفت کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں جو انہیں بھی یہی سہولت دیں۔ کیونکہ اندرون یورپ ہی کچھ ممالک ایسے ہیں جن کے بارے میں ابھی یہ خدشات موجود ہیں کہ وہاں کورونا وائرس پر پوری طرح قابو نہیں پایا جاسکا۔

یاد رہے کہ یورپ میں یہ سیاحت کا سیزن ہے۔ یورپ میں چھوٹی بڑی ملاکر 23 لاکھ کمپنیاں سیاحت کے کاروبار سے منسلک ہیں جس کے ذریعے 12 اعشاریہ 3 ملین افراد روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ 2018 میں سیر و سیاحت کا شعبہ یورپین جی ڈی پی کا 3 اعشاریہ 9 فیصد کا حصہ فراہم کر رہا تھا۔ لیکن اگر اس شعبے کو دیگر شعبوں کے فائدے سے ملاکر دیکھا جائے تو مجموعی طور پر یہ یورپین جی ڈی پی کا 10 اعشاریہ 3 فیصد بنتا ہے جسکے ذریعے 27 اعشاریہ 3 ملین افراد کا روزگار وابستہ ہے۔

اس شعبے کی یورپ کیلئے اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 2017 میں دنیا بھر میں 1.32 بلین افراد نے سیاحت کی۔ جن میں سے 671 ملین افراد نے یورپ کا سفر کیا۔ ورلڈ ٹورزم آرگنائزیشن (UNWTO) کی جانب سے جاری ایک تحقیق کے مطابق یورپ 2030 تک سیر و سیاحت کرنے والے افراد کے 41.1 فیصد کی توجہ کا مرکز ہوگا۔ گویا 744 ملین افراد سیاحت کیلئے یورپ کا رخ کریں گے۔ ایک اندازے کے مطابق یورپ میں برطانیہ سمیت 684700 ہوٹل ہیں۔ جن کا زیادہ کاروبار سیاحت کے بل بوتے پر ہی جاری رہ سکتا ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق یورپ میں جن ممالک کے سیاح زیادہ آتے ہیں ان میں امریکا اور چین سرفہرست ہیں۔