ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا بچی نے قرآن حفظ کرکے دنیا کو حیران کردیا

ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا بچی نے قرآن حفظ کرکے دنیا کو حیران کردیا

عمان: اردن میں پیدائشی طور پر جنیاتی بیماری ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا بچی نے اپنی ماں کی مدد سے 7 سال کی شبانہ روز لگن کے ساتھ قرآن حفظ کر لیا۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اردن سے تعلق رکھنے والی بیوہ خاتون عواطف جابر نے ایک ایسا کارنامہ انجام دے دیا جسے بلاشبہ معجزہ کہا جا سکتا ہے۔ 4 بیٹیوں اور ایک بیٹے کی بیوہ ماں نے ڈاؤں سنڈروم کی شکار اپنی بیٹی کو قرآن حفظ کرا کے اس بیماری میں مبتلا پہلی حافظ قرآن بنا دیا۔ترک میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں ُپرعزم ماں نے بتایا کہ جب روان دویک پیدا ہوئی اور مجھے پتہ چلا کہ میری بچی ایک جنیاتی بیماری کا شکار ہے جس کےباعث اس کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں عام بچوں سے کم ہوں گی اور ذہنی بالیدگی کی رفتار نہایت سست رہے گی۔عواطف جابر کا کہنا تھا کہ اسی لمحے میں نے اپنے رب سے وعدہ کرلیا تھا کہ اس بچی کو کلام اللہ حفظ کراؤں گی۔ شروع میں تو میں نے چھوٹی سورتیں یاد کرائیں اور اس دوران مجھے اندازہ ہوگیا کہ بچی کا حافظہ بہت اچھا ہے اور یہی سے منزل کی جانب سفر شروع ہوگیا۔وہ کہتی ہیں کہ روان دویک جب 6 سال کی ہوئی تو اسکول میں داخلہ کروایا اور صرف ایک سال میں ہی اس کا تلفظ بہترین ہوگیا لیکن پھر اس نے اسکول جانے کے بجائے گھر میں ہی تعلیم جاری رکھنے میں دلچسپی ظاہر کی تو میں نے بھی منع کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

عواطف جابر کا مزید کہنا تھا کہ اسکول سے رخصت کو غنیمت جانتے ہوئے میں روان کو اپنے ساتھ قرآن سینٹر لے جانے لگی، جہاں میں بھی سورتیں یاد کرتی تھی۔ جب میں نے سورۃ البقرہ کے 4 صفحات یاد کیے اس وقت روان کی استاد نے بتایا کہ آپ کی بیٹی تو اس سورہ کا پہلا حصہ حفظ کرچکی ہے۔روان کی والدہ نے کہتی ہیں کہ اگلے سات برس تک میری بیٹی نے باقاعدگی سے حفظِ قرآن جاری رکھا اور گزشتہ رمضان کے 29 ویں روزے کو قرآن کا حفظ مکمل کرلیا۔

واضح رہے کہ ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا بچے بڑھتی عمر کے ساتھ ذہنی بالیدگی حاصل نہیں کرپاتے یہی وجہ ہے کہ جوانی یا بڑھاپے تک بھی پہنچنے کے باجود ان کی سوچ اور حرکات بچوں جیسی ہی رہتی ہیں اور انہیں اپنا نام، پتہ اور موبائل نمبر یاد رکھنے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔ ایسی صورت حال میں روان دویک کا قرآن حفظ کرلینا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔