وزیر اعظم عمران خان کا نوشہرہ میں زیتون کی شجر کاری مہم کے آغاز پر تقریب سے خطاب

زیتون کی کاشت سے زرمبادلہ کی بچت اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر 10 ممالک میں شامل ہے، وزیر اعظم عمران خان

وزیر اعظم عمران خان کا نوشہرہ میں زیتون کی شجر کاری مہم کے آغاز پر تقریب سے خطاب

نوشہرہ۔:وزیر اعظم عمران خان نے فوڈ سکیورٹی ، بڑھتی ہوئی آبادی،روزگار کی فراہمی، موسمیاتی تبدیلی ، آلودگی اور زرمبادلہ کی کمی کو ملک کے لئے بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان گندم اور چینی درآمد کررہا ہے، زیتون کی کاشت سے زرمبادلہ کی بچت اور روزگار کے مواقع ملیں گے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر 10 ممالک میں شامل ہے، سارے ملک میں پھلدار درختوں کی کاشت کے لئے علاقے مختص کئے جائیں گے، بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے فوڈ سکیورٹی حکومت کی ذمہ داری ہے، نوجوانون اور طلبا کو بلین ٹر ی سونامی شجر کاری مہم میں بھر پور حصہ لینا چاہیے،پاکستان میں اگر ہم زیتون کی کاشت پر توجہ دیں تو سپین کے مقابلے میں زیادہ خوردنی تیل برآمد کرسکیں گے ۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیر کو یہاں زیتون کی شجر کاری مہم کے آغاز پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم ، گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان ، وزیرا علیٰ خیبر پختونخوا محمود خان بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں زیتون کی کاشت پر گورنر شاہ فرمان کی کوششووں کو سراہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ زیتون کی پیداوار سے نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک پر مثبت اثرات پڑیں گے۔ ملک کو اس وقت بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں سے ایک فوڈسکیورٹی ہے۔ ایک وقت تھا پاکستان گندم برآمد کرتا تھا۔ پچھلے دو سال کے دوران 30 لاکھ ٹن گندم درآمد کی گئی اور زرعی ملک ہونے کے باوجود رواں سال 40 لاکھ ٹن گندم درآمد کی ہے۔ اس کے علاوہ بھی چینی بھی ہمیں درآمد کرنی پڑی ہے۔ خوردنی تیل اور پام آئل پہلے ہی درآمد کررہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے فوڈ سکیورٹی بڑاچیلنج ہے۔ حکومت کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنائے۔ ملک کا دوسرا مسئلہ زرمبادلہ کی کمی کا ہے۔ ماضی میں پاکستان کو ریکارڈ تجارتی خسارے کا سامنا رہا ہےاور ہماری درآمدات 60 ارب ڈالر اور برآمدات صرف 20 ارب ڈالر تھیں۔ اب برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق میں کمی آئی ہے۔

وزیرا عظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی بھی پاکستان کے لئے بڑا چیلنج ہے اور پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ملکوں میں شامل ہے۔ ہماری آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملکی آبادی کی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہیں روزگار فراہم کرنا بھی چیلنج ہے۔ آلودگی بھی ایک اور بڑ ا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹین بلین منصوبے کا مقصد آنے والی نسلوں کو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنانا ہے۔ نوجوانون ، طلبا اور والدین کو بلین ٹر سونامی شجر کاری مہم میں بھر پورشرکت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ زیتون کی کاشت سے نہ صرف ماحول سرسبز ہو گا بلکہ خوردنی تیل کی درآمد نہیں کرنی پڑے گی اور زرمبادلہ کی بچت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کوہ سلیمان اور قبائلی علاقے زیتون کی کاشت لئے موزوں ہیں۔ بلوچستان اور پنجاب میں بھی زیتون کی کاشت کی جا رہی ہے۔ زیتون کا درخت کئی سو سال تک پھل دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے 12 موسم دیئے ہوئے ہیں لیکن ان موسموں سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ زیتون کی کاشت والے علاقوں میں پراسیسنگ اور دیگر اقدامات سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ نوجوانوں کو اس سلسلہ میں نگہبان بنایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپین زیتون کا تیل بہت زیادہ برآمد کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی زیتون کی کاشت کی بڑی گنجائش ہے ، اگر ہم زیتون کاشت کریں تو سپین سے زیادہ زیتون کا تیل برآمد کرسکیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آلودگی کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے شہروں میں میاواکی ایک ایسا طریقہ ہے جس سے 30 سال کی بجائے جنگل 10 سال میں اگایا جا سکتا ہے۔ لاہور میں 50مقامات پر یہ منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ پشاور میں بھی بہت آلودگی ہے۔ یہاں پر بھی میاواکی طرز کے جنگل کے منصوبے کے ذریعے پودے اگائے سکتے ہیں ۔ آنے والی نسلوں کی صحت کے لئے اس طرف توجہ دینا ہو گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پھلدار پودے بھی اس شجر کاری مہم میں شامل کئے جائیں گے۔ اس سے لوگوں کی آمدنی بڑھے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ زیتون اور ایواکارڈو کے پودے لگاکر لاکھوں روپے کی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سارے ملک میں زون بنائیں گے اور لوگوں کو یہ بتایا جائے گا کہ کون سے علاقے میں کون سا پھل لگایا جائے جس سے آمدنی بھی زیادہ ہو۔قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر شاہ فرمان نے خیبر پختونخوا میں زیتون کی شجر کاری کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات سے وزیراعظم اور تقریب کے شرکا کو آگاہ کیا۔