شہریوں کے ایس او پیز پر عملد رآمد نہ کرنے سے دوبارہ کورونا کی تیسری لہر میں شدت آرہی ہے صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کی فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی میں میڈیا سے بات چیت

شہریوں کے ایس او پیز پر عملد رآمد نہ کرنے سے دوبارہ کورونا کی تیسری لہر میں شدت آرہی ہے صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کی فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی میں میڈیا سے بات چیت

فیصل آباد۔:صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ شہریوں کی جانب سے ایس او پیز پر عملد رآمد نہ ہونے کے باعث دوبارہ کورونا کی تیسری لہر میں شدت آرہی ہے تاہم جوں جوں ویکسین دستیاب ہو رہی ہے اسی طرح شہریوں کو ترجیحی بنیادوں پر ویکسینیٹ کیا جا رہا ہے اوراب تک ایک لاکھ 16ہزار فرنٹ لائن ورکرز کو کورونا ویکسین دی جا چکی ہے جبکہ سائنو فارم نامی جو ویکسین استعمال کی جا رہی ہے وہ انتہائی محفوظ ہے اسی طرح دوسری در آمدہ ویکسینز کو بھی سیف ہونے پر ہی لگایا جائے گا نیز 60سال سے زائد عمر کے افراد کو رجسٹریشن پر ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے لہٰذا 60سال اور زائد عمر کے افراد سے گزارش ہے کہ وہ ویکسین کیلئے اپنے آپ کو رجسٹرڈ کروائیں جس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر رجسٹریشن کیلئے 1166پر میسیج کریں جس کے جواب میں انہیں جس سنٹر پر بلایا جائے وہاں جا کر اپنی ویکسینیشن کروا لیں کیونکہ فیصل آباد سمیت صوبہ بھر کے تمام 9ڈویژنز میں کل 114ویکسینیشن سنٹرز بنائے گئے ہیں جن میں بوقت ضرورت اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

پیر کی دوپہر فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی میں سنڈیکیٹ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ کورونا کے پھیلاؤ کے باعث اپوزیشن لانگ مارچ سے گریز کرے کیونکہ اگر لوگوں کی زندگیاں محفوظ رہیں گی تو لانگ مارچ بھی ہو تے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا یہ کہنا افسوسناک ہے کہ جب وہ کسی لانگ مارچ یا احتجاجی تحریک کا اعلان کرتی ہے تو اسی وقت حکومت کورونا کے پھیلاؤ کا واویلہ شروع کر دیتی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے ایک دن بھی کورونا کے بارے میں واویلہ بند نہیں کیا اور ہر روز لوگوں کو بتایاجا رہا ہے کہ کورونا کی وبا ابھی ختم نہیں ہوئی اسلئے وہ احتیاط کا دامن تھامے رکھیں کیونکہ ہم سب نے مل کر کورونا وائرس کی دو لہروں کے بعد تیسری لہر کا بھی مقابلہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر باعث تشویش ہے کہ فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، سرگودھا، لاہور اور راولپنڈی سمیت بڑے شہر کورونا کی زد میں ہیں اسلئے اگر احتیاط نہ برتی گئی تو خدا نخواستہ پورا ملک اس کی زد میں آسکتا ہے۔وزیر صحت نے کہاکہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی نئی اقسام داخل ہو چکی ہیں جو بہت تیزی سے پھیلتی ہیں اسلئے حکومتی ہدایات کے مطابق شہری خود کو محفوظ رکھنے کیلئے احتیاط سے کام لیں اور ایس او پیز پر عملدر آمد یقینی بنائیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاکہ حکومت نے اپوزیشن کومذاکرات کی دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ اپوزیشن اگر انتخابی اصلاحات چاہتی ہے اور اسے موجودہ انتخابی طریقہ کار پر اعتراض ہے تو مل بیٹھ کر بات کریں تاکہ ایسی انتخابی اصلاحات لائی جا سکیں جس پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔انہوں نے کہا کہ لانگ مارچز اور جلسے جلوسوں کے نام پر شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنا کوئی عقل مندی نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاکہ ہمارے پاس ویکسین کی کوئی کمی نہ ہے تاہم اگلے 2روز میں مزید وسیع مقدار میں ویکسین پہنچ جائے گی اور اس ویکسین میں سے ہر کسی کو برابر کا حصہ ملے گا اور جوں جوں ویکسین آ تی رہے گی توں توں شہریوں کو ویکسینیٹ کیا جاتا رہے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت فرنٹ لائن ورکرز،ہیلتھ سٹاف، پولیس،انتظامیہ اور صحافیوں کو بھی ترجیحی بنیاد پر کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگا رہی ہے اسلئے جو صحافی 60سال یا اس سے زائد عمر کے ہیں وہ فوری ویکسین لگوا سکتے ہیں تاہم جب نئی ویکسین آئے گی تو دیگر تمام صحافیوں اور فرنٹ لائن ورکرز کو ترجیحی بنیادوں پر کوٹہ فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی آج بھی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر سے بات ہوئی ہے جنہوں نے یقین دلایا ہے کہ آئندہ ایک دو روز میں مزید ویکسین آنے پر وافر مقدار میں اس کی فراہمی ممکن بنائی جا ئے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگائی جا سکے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاکہ وہ وزیر صحت کی حیثیت سے اپوزیشن سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ ابھی لانگ مارچ اور جلسے جلوسوں سے گریز کرے تاکہ کورونا کا مزید پھیلاؤ روکا جا سکے۔ویکسینیشن سنٹرز پر سہولیات کی کمی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر صحت نے کمشنر فیصل آباد اور سی ای او ہیلتھ سمیت دیگر حکام کو ہدائت کی کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور جہاں بوڑھے لوگوں کو ویکسین لگائی جا رہی ہے وہاں تمام انتظامات مکمل رکھے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ سے ترجیحی بنیادوں پر ویکسین لگانے کا سلسلہ بھی شروع کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں 9فیصد، لاہور میں 11، راولپنڈی میں 6فیصد،ملتان میں 6جبکہ گوجرانوالہ میں 9فیصد کی شرح سے کورونا کا پھیلاؤ دیکھنے میں آرہا ہے جس میں کمی کیلئے وہاں خصوصی احکامات جاری کئے گئے ہیں جن کے تحت میرج ہالز، مارکیز،کمیونٹی سنٹر ز کو 29مارچ تک بند، تمام سرکاری و نجی دفاتر میں 50فیصد سٹاف کی حاضری اور کاروباری مراکز شام 6بجے بند کرنے کا حکم بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں مجموعی طور پر 8فیصد کورونا پازیٹو مریض سامنے آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور،جہلم و دیگر اضلاع میں مشاہداتی طور پر 300افراد کے کورونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں جن میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ نئی لہر برطانوی وائرس سے پھیل رہی ہے جو پہلے وائرس سے 70فیصد زیادہ خطرناک ہے۔انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیاں محفوظ بنانے کیلئے حکومت سے بھر پور تعاون اور کورونا ایس او پیز پر عملدر آمد یقینی بنائیں۔اس موقع پر کمشنر فیصل آباد ثاقب منان، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق احمد سپرا،وائس چانسلر فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر ظفر اقبال چوہدری اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔