نفرت انگیز تقاریر ،کم علمی اورجعلی خبروں کی وجہ سے چلنے والی اسلامو فوبیا کی لعنت، پوری دنیا میں مسلم اقلیتوں کیلئے ناقابل تصور مصائب کا باعث بن رہی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

 نفرت انگیز تقاریر ،کم علمی اورجعلی خبروں کی وجہ سے چلنے والی اسلامو فوبیا کی لعنت، پوری دنیا میں مسلم اقلیتوں کیلئے ناقابل تصور مصائب کا باعث بن رہی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد : پاکستان نے کہا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر ،کم علمی اورجعلی خبروں کی وجہ سے چلنے والی اسلامو فوبیا کی لعنت، پوری دنیا میں مسلم اقلیتوں کیلئے ناقابل تصور مصائب کا باعث بن رہی ہے۔وزیر اعظم عمران خان بڑھتے ہوئے منظم اسلامو فوبیا کے سنگین نتائج کے بارے میں شعور بیدار کرنے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے کوشاں ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے پیر کو او آئی سی کی جانب سے منائے جانے والے اسلام فوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق پاکستان نے15 مارچ کو نیامی میں منعقدہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے 47 ویں اجلاس میں اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا بین الاقوامی دن منانے کی قرارداد پیش کی تھی۔ او آئی سی عالمی سطح پر اس دن کو منانے کے لئے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

اس بارے او آئی سی کی متفقہ حمایت دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے جذبات کی عکاس ہے۔ پاکستان ،آج او آئی سی ارکان کیساتھ مل کر پہلی بار ’اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن‘ منا رہا ہے ، اس موقع پر ، او آئی سی گروپ 17 مارچ کو نیویارک میں ایک اعلیٰ سطحی تقریب منعقد کرے گا۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامو فوبیا نے متعدد شکلیں اختیار کی ہیں جن میں منفی پروفائلنگ ، امتیازی قوانین ، با حجاب خواتین پر حملے ، میناروں پر پابندی ، منفی پروپیگنڈہ، دائیں بازو کی جماعتوں کے منشور ، اسلامی علامتوں کی دانستہ توڑپھوڑ مقدس مقامات کی بیحرمتی ، اور اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوششیں شامل ہیں۔ اس طرح کی حرکتیں ایک پرامن دنیا اور ہم آہنگی کے لئے ہماری مشترکہ امنگوں کو متاثر کرتی ہیں

۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ثقافتوں اور تہذیبوں کے مابین پل کا کردار ادا کرنے کے لئے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ اس دن کو منانے کے ذریعہ ، ہم اسلام اور اسلامی احکام کے بارے میں بہتر افہام وتفہیم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم پر امن بقائے باہمی کے ساتھ ساتھ بین المذاہبی اور ثقافتی ہم آہنگی کی اقدار کو فروغ دینے کے لئے پرعزم ہیں۔