خبر دار ہوشیار کر ونا ابھی گیا نہیں

ابھی تک کو ئی یہ دعوی نہیں کر سکا کہ کرونا وائرس درحقیقت ہے کیا اس کی مکمل علامات کیا ہیں اس سے بچاو کے طریقہ کار کیا ہیں ویکسین کی ایجاد تو ابھی بہت دو ر کی بات ہے ابھی تک کو ئی قوم اس پر مکمل قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکی

خبر دار ہوشیار کر ونا ابھی گیا نہیں

دنیاپچھلے سات ماہ سے کرونا سے نبرد آ زما ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ابھی تک کرونا کا کوئی سر پیر نہیں ملا ساری دنیا ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے۔ ابھی تک کو ئی یہ دعوی نہیں کر سکا کہ کرونا وائرس درحقیقت ہے کیا اس کی مکمل علامات کیا ہیں اس سے بچاو کے طریقہ کار کیا ہیں ویکسین کی ایجاد تو ابھی بہت دو ر کی بات ہے ابھی تک کو ئی قوم اس پر مکمل قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہمارے پاس صرف واحد مثال چین کی ہے جنھوں نے اس کو بڑے پیمانے پرپھیلنے سے روکا لیکن وہاں بھی اب کرونا دوبارہ سر اٹھا رہا ہے اس کے مختلف فیز ز ہیں جہاں مریضوں کی تعداد کم ہونا شروع ہو تی ہے لوگ یہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں کہ انھوں نے کنٹرول کر لیا ہے ۔

لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ابھی تک بین الاقوامی سطح پر لاک ڈاون کا فارمولا چہرے کو ڈھانپنا ، ہاتھ دھونا اور سینی ٹائز کر نا ہی اس سے بچنے کے اقدامات قرار دیے گئے ہیں لیکن یہ اقدامات بھی کافی نہیں کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ماہر ترین ڈاکٹرز تمام تر حفاظتی انتظامات فالو کر نے کے باوجود اس مرض میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہا ر چکے ہیں جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ حفاظتی اقدامات ابھی تک نامکمل ہیں کرونا کے پھیلنے کے کچھ اور سبب بھی ہیں جس تک ابھی پہنچنا باقی ہے۔ کرونا دنیا کو کہاں تک لے جائے گا۔ اس کی تباہ کاریاں کب ختم ہو ں گی اس کی اثرات کب تک چلیں گے ان کے بارے میں تاحال کو ئی کچھ نہیں بتا سکتا۔

انسان بنیادی طور پر پابند یوں کا قائل نہیں آزاد منش ہے اس لیے لاک ڈاون سے دنیا بھر کے انسان اب بیزار ہو چکے ہیں اس میں پڑھے لکھے، کم پڑھے لکھے، ان پڑھوں ، مہذب معاشروں اور اجڈ معاشروں کی بات نہیں ہے۔ بیزاری پوری دنیا میں ایک جیسی ہی ہےپوری دنیا کے حکمرانوں اور قیادتوں کے لیے یہ امتحان ہے کہ وہ اپنے عوام کو خود ساختہ قید میں رکھیں نر می پیدا کر یں یا مکمل آ زادی فراہم کریں کیونکہ کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ یہ وبا ان کے اقدام سے کیا شکل اختیار کرلے اور ان کے لیے کئے جانے والے اقدامات تاریخ میں کہیں انھیں قوم کو مارنے والے یا محفوظ بنا نے والے کے طور پر کس طرح جان سکے گی لہذا جہاں قومیں افراد تذبذب کا شکار ہیں وہیں قیادتیں بھی کنفویژ ہیں اس حوالے سے پاکستان کا نہ تینوں میں نہ تیرہ میں کہیں شمار نہیں ہو تا جن ملکوں کے پاس صحت کی بہت اچھی سہولتیں تھیں وہ بھی ہاتھ کھڑے کر چکے ہیں ہمارے ہاں تو روٹین کی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے انتظامات نہیں ہم مریضوں کو اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ کر صرف کرونا سے نبرد آزما ہیں 

اس میں بھی علاج کرنے والا سٹاف سب سے زیادہ متاثرہو رہا ہے طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والے متاثرین کا تناسب پاکستان میں بہت زیادہ ہے جو کہ ہمارے اقدامات پر ایک سوالیہ نشان ہے اوپر سے ملک بھر میں لاک ڈاون میں نرمی کی صرف بات ہو ئی ہے حکومت نے مکمل لاک ڈاون نہیں کھولاصرف چند شعبے کھولے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوگ سڑکوں بازاروں میں ایسے آمڈ آ ئے ہیں جیسے سو سالہ قید کے بعد رہائی ملی ہو ہمارے50دن کے لاک ڈاون نے لوگوں کو کچھ نہیں سیکھا یا ۔ کسی ایس او پی پر عمل نہیں کیا جا رہابازاروں رش والی جگہوں پر دھکم پیل معمول سے بڑھ کر ہے نہ سماجی فاصلوں کو مد نظر رکھا جا رہا ہے نہ ماسک کا استعمال کیا جا رہا ہے نہ دوکانوں میں سینی ٹائزر رکھے گئے ہیں بلکہ حال ہمارا یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں جہاں خصوصی ، حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے ۔ اور انتظامیہ نے حفاظتی انتظامات میں کو ئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی وہاں بھی اجلاس میں کئی ارکان اسمبلی بغیر ماسک پہنے شریک تھے۔

سپیکر کی بار بار ہدایات کے کہ ایک نشت چھوڑ کر بٹیھا جائے لیکن ممبر ان پارلیمنٹ آ پس میں گپیں لگا تے رہے اور سماجی فاصلوں کو نظر انداز کر تے رہے اس طرح سڑکوں پر بھی رش بہت زیادہ تھا لا ک ڈاون میں نرمی کو ہم نے لاک ڈاون کے مکمل خاتمے کی طرح لیا اور یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ شاید کرونا پاکستان میں ختم ہو چکا ہے خدارا یہ سمجھنے کی بات ہے اگر حکومت نے کسی حد تک آ زادی دی ہے تو اسے طے کردہ قواعد وضوابط کے مطابق استعمال کریں جان ہے تو جہان ہے ۔ خبر دار ہو شیار کرونا ابھی گیا نہیں موجود ہے اور تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے اس لیے احتیاط بہت زیادہ ضروری ہے۔