چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور صنعتوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، ماہرین

کورونا وائرس کی وجہ سے کاروبار اور صنعتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں، ٹیکسوں کی مدد میں چھوٹ دی جائے، ماہرین

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور صنعتوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، ماہرین

اسلام آباد:  چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور صنعت کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے ٹیکس کی مد میں چھوٹ اور کاروباری لاگت میں کمی آئیندہ مالی سال کے بجٹ  کے حوالے سے حکومت کی اہم ترجیح ہونی چاہئے۔مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اقتصادی ماہرین نے ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی)  کے زیر اہتمام’خواجہ سرا کمیونٹی اور کووڈ۔19،  سماجی تنہائی میں مزید اضافہ‘ کے زیر عنوان آن لائن مکالمے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

پاکستان بزنس کونسل کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر سعود بنگش زیرو ریٹنگ سہولت کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کم ازم ٹرن اوور ٹیکس کو ختم کیا جائے جو چھوٹے کاروباروں کو سخت نقصان پہنچا رہا ہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ اینڈسٹریز ( کے سی سی آئی) کے نمائیندے ابراہیم کوسمبی نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں کا فائدہ صارف کو پہنچایا جائے اور بجلی کی قیمت کم کی جائے۔ ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ آدہ بجٹ میں کاروبار و صنعت کے لیے کووڈ 19 کے ضمن میں 1.5کھرب  روپے کی معاونت متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر غذائی قلت اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ روکنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔

سندھ ریونیو بورڈکی نمائیندہ مونا محفوظ نے آن لائن کاروباروں کو فروغ دینے کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے اس کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ پروسسنگ زونز کی استعداد کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائیندہ شاہد خان نے کہا کہ مرکزی بینک نجی شعبے کو درکار رقوم کے حوالے سے نجی بینکوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے جائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر وقار احمد نے اس موقع پر ادارے کی جانب کی جانے والی تحقیق کی جزئیات پیش کرتے ہوئے کہا کہ  کاروبار وصنعت کے درمیانی مدت کیلیے ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے ڈیجیٹل  طرز پرکاروبارکی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ مارکیٹنگ کی لاگت میں کمی لانے کے لیے حکومت مختلف خدمات پر سبسڈی کی سہولت  دینی چاہئے۔

اس موقع پر فراز خان،  ڈاکٹر عمران خالد اور دوسرے شرکاء نے بھی کووڈ19کے پیش نظر درپیش چیلنجزپر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک میں معاشی سرگرمیوں کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور صنعتوں کے تحفظ کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔