وزیراعظم عمران خان 16 تا 17 ستمبر تاجکستان کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے

وزیراعظم عمران خان 16 تا 17 ستمبر تاجکستان کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے

اسلام آباد :وزیراعظم عمران خان تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف کی دعوت پر 16 تا 17 ستمبر تاجکستان کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے، ایک اعلیٰ سطحی وزارتی وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوگا۔ وزیر اعظم کا وسطی ایشیا کا یہ تیسرا دورہ ہوگا جس سے خطے کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی عکاسی ہوتی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے20 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس سے قبل انہوں نے13 اور 14 جون 2019 کو کرغز جمہوریہ کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ ایس سی او کے سربراہی اجلاس اور 10 نومبر 2020 کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے روس کی میزبانی میں سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی۔ شنگھائی تعاون تنظیم ایک 8 رکنی مستقل بین الحکومتی علاقائی تنظیم ہےجسے 15 جون 2001 کو شنگھائی میں قائم کیا گیا تھا۔ پاکستان 2005 میں ایس سی او کا مبصر اور جون 2017 میں آستانہ سربراہ اجلاس میں تنظیم کا مکمل رکن بن گیا۔

روس ، چین ، بھارت ، ازبکستان ، قازقستان ، کرغز جمہوریہ اور تاجکستان ایس سی او کے دیگر رکن ممالک ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران، منگولیا، بیلاروس اور افغانستان مبصر جبکہ آذربائیجان، آرمینیا، کمبوڈیا، نیپال، ترکی اور سری لنکا ڈائیلاگ پارٹنرز کی حیثیت سے شامل ہیں۔ وزیراعظم شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر دیگر شریک رہنماوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے بعد وزیر اعظم تاجک صدر کے ساتھ ملاقات کریں گے، دونوں رہنمائوں کی بات چیت دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرے گی جس میں علاقائی رابطے پر خصوصی توجہ کے ساتھ تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو بڑھانا خاص طور پر شامل ہے۔ دونوں ممالک اس سے قبل باضابطہ اسٹریٹجک شراکت داری میں داخل ہونے کے مضبوط عزم کا اظہار کرچکے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان پاکستان تاجکستان بزنس فورم کے پہلے اجلاس کا افتتاح بھی کریں گے جس کے لیے پاکستانی تاجروں کا ایک گروپ دوشنبے کا دورہ کرے گا۔ جوائنٹ بزنس فورم بڑھتے ہوئے تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو متحرک کرے گا اور دونوں اطراف کی تاجر برادری کے درمیان کاروباری روابط کو فروغ دے گا۔

اس موقع پر پاکستان تاجکستان مشترکہ بزنس کونسل کا اجلاس بھی ہوگا۔ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان مشترکہ عقیدے ، تاریخ اور ثقافت کے رشتوں پر مبنی قریبی برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک خطے میں معاشی ترقی ، امنوسلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ خیالات اوریکساں خواہش رکھتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کا یہ دورہ وسطی ایشیا کے ساتھ ”ویژن سینٹرل ایشیا“ پالیسی کے تحت پاکستان کے گہری تعلقات کا حصہ ہے جس میں سیاسی تعلقات، تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی اور رابطے کے علاوہ سکیورٹی اوردفاع کے پانچ اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے