2033 تک ٹیسلا کی نئی مائیکروچِپ انسان سے زیادہ ذہین ہوگی

2033 تک ٹیسلا کی نئی مائیکروچِپ انسان سے زیادہ ذہین ہوگی

آسٹن: ٹیسلا کی نئی مائیکرو چِپ 2033 تک انسانوں سے زیادہ ذہین ہوجائے گی۔اس وقت اس مائیکرو چِپ کے کام کرنے کی صلاحیت انسانی دماغ کے36 فی صد ہے۔

ایک کار اور وین لیزنگ کمپنی ویناراما کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابقD1 مائیکرو چِپ ایک سیکنڈ میں 362 ہزار ارب آپریشن کر سکتی ہے جبکہ انسان کا دماغ 10 لاکھ ہزار ارب آپریشن فی سیکنڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کمپنی نے یہ پیش گوئی ماضی اور موجودہ ٹیسلا چِپس کا تجزیہ کرتے ہوئے کی جس میں کمپنی کو معلوم ہوا کہ مائیکرو چپس کی صلاحیت میں ہر سال 486 فی صد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ویناراما کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی اس سال اپنی نئی D1 چِپ متعارف کرانے جا رہی ہے۔ یہ چِپ ڈوجو سُپر کمپیوٹر پلیٹ فارم اور ٹیسلا کےآٹو پائلٹ سیلف ڈرائیونگ سسٹم کا اہم حصہ ہوگی۔

سائنس دانوں کا کافی عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب مصنوعی ذہانت انسانی کی ذہنی صلاحیت سے سبقت لے جائے گی اگرچہ اس حوالے سے متعدد آراء پائی جاتی ہیں کہ ایسا کب ہوگا۔

ویناراما کا کہنا ہے کہ اس بات کو ماننا پاگل پن نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں میں ہی انسان سے زیادہ ذہین ہو جائے گی۔ فی الوقت مائیکروچِپس انسانوں کے دماغ کے سِناپسِز(اعصابی خلیوں کے درمیان جوڑ) کی طرح کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔