مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح

'فاطمہ جناح مادرملت یعنی قوم کی ماں۔ ہمارے ماہرین تاریخ وسیاست نے مادر ملت کو قائد اعظم کی بہن کے حوالے سے بہت بلند مقام دیا لیکن انہوں نے قیام پاکستان اور خصوصاً 1965ءکے بعد کے سیاسی نقشے پر جو حیرت انگیز اثرات چھوڑے ہیں

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح

تالیف: 

' فاطمہ جناح مادرملت یعنی قوم کی ماں۔ ہمارے ماہرین تاریخ وسیاست نے مادر ملت کو قائد اعظم کی بہن کے حوالے سے بہت بلند مقام دیا لیکن انہوں نے قیام پاکستان اور خصوصاً 1965ءکے بعد کے سیاسی نقشے پر جو حیرت انگیز اثرات چھوڑے ہیں ان کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی۔ یہ ایک معنی خیز امر ہے کہ قائد اعظم کی زندگی میں مادر ملت ان کے ہمر اہ موثر طور پر 19سال رہیں یعنی 1929ءسے 1948ءتک اور وفات قائد کے بعد بھی وہ اتنا ہی عرصہ بقید حیات رہیں یعنی 1946ءسے 1967ءتک لیکن اس دوسرے دور میں ان کی اپنی شخصیت کچھ اس طرح ابھری اور ان کے افکارو کردار کچھ اس طرح نکھر کر سامنے آئے کہ انہیں بجا طور پر قائد اعظم کی جمہوری بے باک اور شفاف سیاسی اقدار کو ازسر نو زندہ کرنے کا کریڈیٹ دیا جا سکتا ہے جنہیں حکمران بھول چکے تھے۔اس سلسلے میں مادر ملت نے جن آرا ءکا اظہار کیا ان سے عصری سیاسیات و معاملات پر ان کی ذہنی گرفت نا قابل یقین حد تک مکمل اور مضبوط نظر آتی ہے۔ 1965ءکے صدارتی انتخاب کے موقع پر ایوب خاں کی نکتہ چینی کے جواب میں مادر ملت نے خود کہا تھا کہ ایوب فوجی معاملات کا ماہر تو ہو سکتا ہے لیکن سیاسی فہم و فراست میں نے قائد اعظم سے براہ راست حاصل کی ہے ۔

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ہم سے جدا ہوئے 52 سال بیت گئے، مادر ملت 31جولائی 1893 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، بچپن میں ہی ماں باپ کی شفقت سے محروم ہوگئیں، بڑے بھائی قائد اعظم محمد علی نے فاطمہ جناح کو ابتدائی تعلیم کے لیے ہائی اسکول کھنڈالہ میں داخل کرادیا۔انیس سو دس میں میٹرک اور انیس سو تیرہ میں سینئر کیمرج کا امتحان پرائیویٹ طالبہ کی حیثیت سے پاس کرنے کے بعد انیس سو بائیس میں ڈینٹسٹ کی تعلیم مکمل کی اور اگلے ہی سال بمبئی میں ڈینٹل کلینک کھول کر پریکٹس شروع کردی، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے گھریلو اور سیاسی زندگی میں قائد اعظم محمد علی کا ساتھ دینا شروع کردیا۔قائداعظم کا ساتھ دیتے ہوئے انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی۔ محترمہ فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم کا ساتھ دیا اور انہی کی بدولت برصغیر کے گلی کوچوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی تحریک میں سرگرم ہوئیں۔ 1940ءمیں اس تاریخی اجلاس میں شرکت کی جس میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔ 7اگست 1947 کو محترمہ فاطمہ جناح 56 سال کے بعد دہلی کو الوداع کہہ کر کراچی منتقل ہو گئیں اور قائداعظم کی وفات کے بعد کئی برسوں تک بھائی کی جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ 25 دسمبر 1955 کو محترمہ فاطمہ جناح نے خاتون پاکستان کے نام سے کراچی میں اسکول کھولا، اس اسکول کے لئے حکومت کی جانب سے تقریباً 13 ایکڑ زمین دی گئی۔ 1962 میں اس اسکول کو کالج کا درجہ دیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح ہر مقام اور ہر میدان میں خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ دیکھنے کی خواہاں تھیں وہ جب تک زندہ رہیں تب تک انہوں نے خواتین کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں لازوال کردار ادا کرتے ہوئے برصغیر کی مسلم خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کی بدولت برصغیر کی خواتین بھی تحریک پاکستان میں شامل ہوئیں۔قیام پاکستان کے لیے انتھک کوششوں پر قوم نے انہیں مادر ملت کا خطاب دیا۔ 9جولائی 1967 کو 76سال کی عمر میں ایک عظیم بھائی کی عظیم بہن کا انتقال ہوگیا اور انہیں کراچی میں سپرد خاک کیا گیا۔

تحریک پاکستان میں مادر ملت فاطمہ جناح کی خدمات ناقابل فراموش ہیں،آپ نے جدوجہد آزادی میں حصہ لینے کے لئے برصغیر کی مسلم خواتین کو بیدار کیا اور انہیں منظم کرکے ان سے ہراول دستے کاکام لیا۔ آپ ہی کی بدولت برصغیر کے گلی کوچوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی تحریک میں سرگرم ہوئیں۔ اسی پر اکتفاء نہیںبلکہ آپ نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی خدمت کی صورت اور تحریک پاکستان میں عملی طور پر حصہ لے کر عظیم خدمات سر انجام دیں۔جوں جوں قیام پاکستان کی منزل قریب آرہی تھی قائداعظم پورے ملک کے دورے کررہے تھے، اس موقع پر آپ ان کے ساتھ ہوتی تھیں، بھائی کو اگر امت مسلمہ کی محرومی و غلامی بے چین کئے رکھتی تھی تو بہن اس عظیم بھائی کے بے چین دل کو سکون و راحت پہنچانے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرتی تھی۔آپ نے دن رات قائداعظم کے آرام و سکون کا خیال رکھا،قائد اعظم جدوجہد آزادی میں اس قدر مصروف تھے کہ انہوں نے اپنی گرتی ہوئی صحت کی بھی پروانہ کی ،اس وقت محترمہ فاطمہ جناح ان کی گرتی ہوئی صحت کیلئے بے حد فکر مندرہتیں اور خیال رکھتیں،اور محمد علی جناح اپنے کام میں محنت و لگن سے مصروف عمل رہتے۔وہ سیاسی بصیرت میں اپنے بھائی قائداعظم کی حقیقی جانشین تھیںایک ایسی بہن جس نے اپنی زندگی کو بھائی کی خدمت اور تحریک آزادی کے لیے وقف کر دیا تھا جو قوم کی ماں کا لقب ” مادر ملت“ حاصل کر کے سرخرو ہوئیں۔ مجید نظامی (مرحوم) نے ایک محفل میں کہا تھا کہ ”مادرملت کا شمار پاکستان بنانے والوںمیں ہوتا ہے۔ آپ نے قائداعظم کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کی دیکھ بھال کی، اگر آپ یہ خدمات انجام نہ دیتیں تو شاید پاکستان معرض وجود میں نہ آتا“۔ ایک موقع پر خود قائداعظم نے اپنے سیکرٹری کرنل برنی سے اپنی عظیم بہن محترمہ فاطمہ جناح کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ”وہ اپنی بہن کی سالہا سال کی پرخلوص خدمات اور مسلمان خواتین کی آزادی کیلئے انتھک جدوجہد کی وجہ سے ان کے انتہائی مقروض ہیں۔“ایک اور موقع پر قائداعظم نے اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ”جن دنوں مجھے برطانوی حکومت کے ہاتھوں کسی بھی وقت گرفتاری کی توقع تھی تو ان دنوں میری بہن ہی تھی جو میری ہمت بندھاتی تھی۔ جب حالات کے طوفان مجھے گھیر لیتے تھے تو میری بہن میری حوصلہ افرائی کرتی۔“ محترمہ فاطمہ جناح کی سیاسی خدمات کا اعتراف ان کے بھائی قائداعظم محمد علی جناح کی زبان سے ہونے کے بعدمذید کسی وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

محترمہ فاطمہ جناح کی خدمات

محترمہ فاطمہ جناح نے مسلم لیگ کی مالی اعانت کے لئے خواتین سے کہا کہ وہ مینا بازاروں کا اجتماع کریں، اس طرح آپ کی تحریک پر مسلم خواتین نے مینا بازار لگانے شروع کردیئے۔ ان مینا بازاروں سے جو آمدن ہوتی تھی وہ مسلم لیگ کے فنڈ میں جمع کروادی جاتی تھی۔ اپریل 1944ءمیں محترمہ فاطمہ جناح نے لاہور میں ایک مینا بازار کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا کہ ”مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ لوگوں نے ایک مینا بازارقائم کیا ہے، اس طرح عورتیں بھی اپنے مسلمان بھائیوں کا ہاتھ بٹاسکتی ہیں۔ اور ہمارا یہ فرض ہے کہ قوم کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کے' لئے ہم ان کی مدد کریں، ہاتھ بٹائیں اور حوصلہ افزائی کریں۔

مجھے پختہ یقین ہے کہ ہماری بہنیں قوم کی اقتصادی حالت سدھارنے کیلئے ان کی مدد کریں گی “ اور پھر وقت اجل آپہنچا، وہ 8اور 9جولائی 1967ءکی درمیانی شب تھی جب محترمہ فاطمہ جناح سابق وزیر اعلیٰ حیدرآباد دکن لائق علی کی بیٹی کی شادی میں شرکت کے بعد گھر واپس آئیں تو گھریلو ملازم سلیم کے بیان کے مطابق محترمہ اس روز بھی حسب معمول بہت خوش تھیں انہوں نے کہا کہ وہ کھانا نہیں کھائیں گی لیکن کچھ پھل کھائے اور پھر قصر فاطمہ کی بالائی منزل پر سونے چلی گئیں ، محترمہ کا اصول تھا کہ وہ روز صبح اٹھ کر چابیاں نیچے برآمدے میں پھینکا کرتیں تھیں جس سے ملازم کمروں کے تالے کھولتے۔ 9 جولائی کے روز مقررہ وقت تک چابیاں نہ آئیں تو گھر کا ملازم پریشان ہو ا، اس کو تشویش لاحق ہوئی اسی اثنا میں ان کی دھوبن بھی پہنچ گئی جس نے کہا کہ خدا نخواستہ محترمہ کی طبیعت خراب نہ ہو، وہ فوری بھاگتی ہوئی قصر فاطمہ کے نیچے والے کمرے میں گئیں جہاں چابیوں کا گچھا تھااتفاقاً ان میں سے ایک چابی محترمہ کے کمرے کو لگ گئی دیکھا تو محترمہ اس دنیا دار فانی سے رخصت ہو چکی تھیں۔اس طرح 9 جولائی 1967ءکو محترمہ فاطمہ جناح 73 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ سبز ہلالی پرچم میںجب ان کا جسد خاکی قصر فاطمہ سے پولو گراﺅنڈ پہنچا تو وہاں پہلے سے ہی لاکھوں افراد کا مجمع موجود تھا ، جبکہ مزیدلوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا، جوان ،بوڑھے بچے ، خواتین زار و قطار اپنے ملک کی ماں کا آخری دیدار کرنے کو ترس رہے تھے۔

تقریباً 12بج کر 35منٹ پر ایچ خورشید اور ایم اے ایچ اصفہانی نے اپنے لرزتے ہاتھوں سے محترمہ کی میت کو قبر میں اتارا تو اس وقت لوگوں کی تعداد تقریباً 6لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ یوں محترمہ فاطمہ جناح لاکھوں سوگواروں اور قوم کو یتیم کر کے منوں مٹی تلے سوگئیں۔ محترمہ فاطمہ جناح کو ان کی وصیت کے مطابق مزار قائد میں ہی دفن کیا گیا ان کی قبر سردار عبدالرب نشتر اور لیاقت علی خان کی قبروں کے درمیان، قائد اعظم محمد علی جناح سے تقریباً 120فٹ کے فاصلے پر ہے۔ مادر ملت کی قومی خدمات کے صلے میں پاکستانی عوام اپنی اس ماں کو بطورمحسن ملت ہمیشہ یاد رکھے گی۔