پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ چلے گی یا نہیں؟ معاملہ لٹک گیا

کورونا کے حوالے سےایس او پیز پر عمل کرنے کو تیار ہیں لیکن 10فیصد سے زیادہ کرائےکم نہیں کرسکتے

پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ چلے گی یا نہیں؟ معاملہ لٹک گیا

پنجاب حکومت اور پبلک ٹرانسپورٹ مالکان کے درمیان کرایوں میں کمی کے معاملے پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا، ٹرانسپورٹرز نے آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کورونا کے حوالے سےایس او پیز پر عمل کرنے کو تیار ہیں لیکن 10فیصد سے زیادہ کرائےکم نہیں کرسکتے۔ پبلک ٹرانسپورٹ اونر زایسوسی ایشن کے صدر ندیم ملک نے لاہور میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دو سال سے کرائے نہیں بڑھے ہیں، لاک ڈاؤن کے باعث اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز 10 فیصد کرائے کم کرنے کوتیار ہیں لیکن حکومت کا اصرار ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باعث کرایوں میں 40 فیصد کمی کی جائے۔ ترجمان ٹرانسپورٹرز حافظ جہانگیر کا کہنا ہے کہ ایس اوپیز کے مطابق بسوں میں 50فیصد کم مسافر سوارہوں گے، انہیں بسوں کو ڈس انفیکٹ کرنا ہے، مسافروں کوسینی ٹائزر اور ماسک بھی مہیا کرنے ہیں، اڈا فیس، ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کو ادائیگیاں بھی کرنا ہیں، اس کے بعد کرایوں میں 40 فیصدکمی کیسے کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی کاروبار بھی 90 فیصد خسارے سے نہیں چل سکتا،ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹول ٹیکس اور بھاری جرمانے کم اور کرایوں میں 40 فیصد کمی کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ دوسری جانب حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھنے پر کرائے تو بڑھا دیے جاتے ہیں اب قیمتیں کم ہونے کا فائدہ بھی مسافروں کو ملنا چاہیے۔ واضح رہے کہ وزیر ٹرانسپورٹ سندھ اویس قادر شاہ نے گزشتہ روز سندھ میں پبلک ٹرانسپورٹ چلانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم کے حکم کا احترام اپنی جگہ، مگر کورونا کیسز میں روزانہ اضافہ ہورہا ہے، مارکیٹیں کھولنے کا نتیجہ سب کے سامنے ہے، نہ عوام ایس او پیز پر عمل کررہے ہیں نہ دکاندار اور اگر ایسے میں ہم نے ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دی تو پاکستان میں اٹلی اور ووہان جیسی صورتحال کا اندیشہ ہے۔