ارطغرل غازی میں حلیمہ بننے والی اداکارہ کی تصویر پر پاکستانیوں کا 'اخلاقیات' کا درس

جیسے اگر کوئی ولن کا کردار نبھائے تو لوگ اسے منفی ہی سمجھنے لگتے ہیں یا کوئی اپنے کسی پروجیکٹ میں مظلوم بنے تو مداح سمجھتے ہیں کہ یہ اصل زندگی میں بھی ایسا ہی ہوگا

ارطغرل غازی میں حلیمہ بننے والی اداکارہ کی تصویر پر پاکستانیوں کا 'اخلاقیات' کا درس

فلموں یا ڈراموں میں عموماً دیکھا جاتا ہے کہ اداکار جو کردار ادا کرتے ہیں، انہیں بعدازاں ان ہی کرداروں سے منسلک کردیا جاتا ہے اور لوگ ان کی اصل شخصیت کو بھولنے لگتے ہیں۔ جیسے اگر کوئی ولن کا کردار نبھائے تو لوگ اسے منفی ہی سمجھنے لگتے ہیں یا کوئی اپنے کسی پروجیکٹ میں مظلوم بنے تو مداح سمجھتے ہیں کہ یہ اصل زندگی میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ حالانکہ مداح بھول جاتے ہیں کہ اداکار جو کردار نبھارہا ہے وہ صرف اسکرین کی حد تک محدود ہے اور اس کی اصل شخصیت کچھ اور ہی ہے۔ ایسے میں کئی بار مداح اپنے پسندیدہ اداکاروں کی اصل شخصیت کو دیکھتے ہیں جو اگر ان کی سوچ سے متضاد ہو تو یہ بات ان کے لیے قابل قبول نہیں ہوتی۔

ایسا ہی کچھ پاکستان میں آج کل دکھائے جانے والے ترکی کے مشہور ڈرامے 'دیریلیش ارطغرل یا ارطغرل غازی' کی ایک اداکارہ کے ساتھ ہوا، جن کی ایک تصویر پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔ ’دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اس ڈرامے میں ارطغرل کی بیوی حلیمہ خاتون کا کردار ترک اداکارہ اور ماڈل اسرا بیلگیج نے نبھایا ہے جن کے کام کو خوب پسند کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں بھی اسرا بیلگیج کے کام کو بےحد پسند کیا گیا تاہم ان کے مداح یہ بھول گئے کہ وہ اصل زندگی میں حلیمہ خاتون نہیں ہیں۔ پاکستانی مداحوں نے اسرا بیلگیج کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کردہ ایک تصویر پر کمنٹس کرکے ان کے لباس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا شروع کردیا جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تصویر اداکارہ نے ابھی نہیں بلکہ رواں سال 25 مارچ کو شیئر کی تھی۔