صنفی امتیازی رویے اور تشدد پر قابو پانے کے لیے موثر میکانزم کے تعین کے حوالے سے دوروزہ تربیتی ورکشاپ

ورکشاپ میں جن چیلنجزاور مسائل کی نشاندہی کی گئی اور پیش کردہ تجاویزہمارے لیے بہت اہم ہیں ہم ان پر کام کریں گیاور انہیں آگے بھی پہنچائیں گے:صوبائی وزیر ویمن ڈویلپمنٹ آشفہ ریاض

 صنفی امتیازی رویے اور تشدد پر قابو پانے کے لیے موثر میکانزم کے تعین کے حوالے سے دوروزہ تربیتی ورکشاپ

لاہور :صوبائی وزیر ویمن ڈویلپمنٹ آشفہ ریاض نے صنفی امتیازی رویے اور تشدد پر قابو پانے کے لیے موثر میکانزم کے تعین کے حوالے سے دوروزہ تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صنفی تشدد سے متاثرہ خواتین اور بچیوں کو سروسز کی فراہمی سے متعلق پیکج کی لانچنگ کا انعقاد محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ پنجاب اور UNFAکے زیر اہتمام کیا گیاہے صوبائی وزیر نیشرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صنفی توازن کے قیام کے لیے محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ تمام متعلقہ اداروں میں کوارڈینیشن آف ایمپلیمینٹیشن کی مشترکہ چھتری تلے لانے کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ورکشاپ میں جن چیلنجزاور مسائل کی نشاندہی کی گئی اور پیش کردہ تجاویزہمارے لیے بہت اہم ہیں ہم ان پر کام کریں گیاور انہیں آگے بھی پہنچائیں گے۔

محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ خواتین کو صنفی امتیازی اور پرتشدد رویوں کی بھرپور حوصلہ شکنی کے لیے اہم اقدامات کرریا ہے۔وزیر ویمن ڈویلپمنٹ نے کہا کہ محکمہ WDD پولیس صحت سمیت دیگر تمام سٹیک ہولڈراداروں کے باہمی اشتراک سے لائحہ عمل مرتب کیا جاء گا۔آشفہ ریاض نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبائی ضلعی تحصیل اور یوسی کی سطح تک اداروں کی جانب سے پریکٹیکل رسپانس میں تیزی اور بہتری لائی جارہی ہے۔

تمام اداروں کو صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے فرنٹ لائن پر کام کرتے ہوئے جینڈر فوکل ٹیمیں تشکیل دے کر خودکار سوشل جسٹس کے فارمولے کو فعال بنانے کی ضرورت ہیانہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں اور معاشرتی سطح پر صنفی تشدد کی شکارخواتین کو نفسیاتی معاشی سماجی کونسلنگ اور سپورٹ دینے کے لیے اپنی اپنی جگہ پرقابل عمل میکانزم ترتیب دینا اور اس پر عملدرآمد انسانی اخلاقی و سماجی فرض ہے۔آشفہ ریاض کا کہنا تھاہمیں صنفی تشدد سے متاثرہ عورت اور اسکے خاندان کوتمام اداروں کی مشترکہ پلیٹ فارم سے انصاف کی فراہمی سے متعلق بھی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔

وزیر ویمن ڈویلپمنٹ نے مزید کہاکہ سوشل میڈیا پر اس طرح کے کیسز سے متعلق آئی ٹی کالجز اور یونیورسٹیز کے ذریعے کیمپین چلانا ہونگی ہمیں اپنی نئی نسل کو بتانا ہے کہ سوشل میڈیا پربھی اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھنا کتنا ضروری ہے۔اس موقع پر سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ عنبرین رضا، ڈائریکٹر سجیلہ نوید،نبیلہ مالک،اسسٹنٹ عثمان اعجاز باجوہ ہیڈ گائناکالوجسٹ سروسز ہسپتال روبینہ سہیل، تمام شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی خواتین اور سرکاری و غیرسرکاری اداروں کے نمائندگان موجود تھے۔