اخبارات بچاو تحریک نے حکومت پنجاب کی میڈیا پالیسی 2020کےخلاف احتجاج

 اخبار بچا ﺅ تحریک کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ ہم نے آج حکومت کو پیغام دیا ہے کہ اگر اس نے آزادی صحافت کو اے پی این ایس کے پاس گروی رکھنے کی روش ترک نہ کی تو وزیر اعلیٰ ہاوس اور صوبائی اسمبلی سمیت اہم دفاتر کا گھیراوبھی کیا جائے گا

اخبارات بچاو تحریک نے حکومت پنجاب کی میڈیا پالیسی 2020کےخلاف احتجاج

 لاہور: اخبارات بچاو تحریک نے حکومت پنجاب کی میڈیا پالیسی 2020کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ڈی جی پی آرکی تالہ بندی کی اور دھرنادیا،جس میں اخبار مالکان اور قلم مزدوروں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔مظاہرین نے میڈیا پالیسی کے ظالمانہ اور یکطرفہ ا قدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے آزاد صحافت پر حملہ قرار دیا۔مظاہرین سے خطاب کر تے ہو ئے اخبار بچا ﺅ تحریک کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ ہم نے آج حکومت کو پیغام دیا ہے کہ اگر اس نے آزادی صحافت کو اے پی این ایس کے پاس گروی رکھنے کی روش ترک نہ کی تو وزیر اعلیٰ ہاوس اور صوبائی اسمبلی سمیت اہم دفاتر کا گھیراوبھی کیا جائے گا۔

اس موقع پر قائد تحریک مدثر اقبال بٹ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آزاد صحافت کا مقدمہ لڑنے کے لئے نکلے ہیں،یہ مظاہرہ کسی خاص ایجنڈے یا گروہ کے مفادات کے لیے نہیں بلکہ اس تحریک کا مقصد آزاد صحافت کے لیے تمام اخبارات کو یکساں مواقع اور اشتہارات کی تقسیم کے عمل کو شفاف اور منصفانہ بنانا ہے۔بیو ورو کریسی علا قائی اور مقامی زبانو ں میں شائع ہونے والے اخبارات کے خلاف اپنی متعصبانہ پالسیا ں ترک کر ے اور اپنے تمام اقدامات کو آئین پاکستان کی روح کے تابع رکھنے کی روش اپنائے۔

دھرنے سے خطاب کر تے ہو ئے این پی اے کے کنوینرقاضی طا رق عزیزکا کہنا تھا کہ اس کامیاب دھرنے نے اے پی این ایس کے پٹھووںاور حکومتی گماشتوں کے مکروہ گٹھ جوڑ کو بے نقاب کردیا ہے۔ تحریک کے قائد مدثر اقبال بٹ جب حکم دیں گے ہم آزاد صحافت کے خلاف سازشوں کا گڑھ بننے والے دفا تر کا نا صرف گھیرا ﺅ کریں گےبلکہ ان عناصر کو اوقات یاد دلانے کے لیے ان کی خدمت گندے انڈوں اور بدبودار ٹماٹروں سے کریں گے۔اخبار ات بچا ﺅ تحریک کے مرکزی رہنما راﺅشاہد اقبال کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت اپنا قبلہ درست کرے، سرکا ری وسائل ایمانداری سے برو ئے کار لا ئےاور اشتہارات کی مد میںپہلے سے را ئج کو ٹہ سسٹم کو ختم کرنے کی بجا ئے اسے بہتر بنائے۔ بصور ت دیگرہم اپنے حقوق کے حصول کے لئے ہر محاذ پر جنگ لڑیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت میں بیٹھے لوگ بالخصوص فیاض الحسن چوہان جیسے کردار اسی شاخ کو کاٹ رہے ہیں جس پر ہونے سے ان کی عزت اور وقار ہے۔یہ تحریک انصاف کی آستینوں میں پلنے والے وہ سانپ ہیں جو خود اسی کو ڈس رہے ہیں۔عمران خان کو ایسے لوگوں کا نوٹس لینا ہوگا جو انہی کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔رانا ساجد اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے سرگودھا میں وزیر اطلاعات کا گھیراو کیا اور اسے یہ باور کروایا کہ ہم اصولوں کی جنگ لڑنے والے لوگ نہ تو حکومت وقت کی ظالمانہ پالیسیوں سے مرعوب ہونے والے ہیں اور نہ ہی اپنے جائز حقوق کسی کو ہڑپ کرنے کی اجازت ہی دیں گے۔ صادق آباد پریس کلب کے صدر شکیل احمد جتالہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی میڈیا پالیسی 2020صحافیو ں کا معاشی قتل ہے،اسے واپس نہ لیا گیا توہر ضلع اور ہر شہر میں حکومتی بنچوں پر بیٹھنے والوں کا گھیراو کیا جائے گا۔

سرگو دھاسے تعلق رکھنے والے سینئرصحافی شاہین فاروقی کا کہنا تھا کہ اس پالیسی سے90فیصد سے زا ئد عوام کی ترجمانی کرنے والے اخبارات بند ہو جا ئیں گے جس سے آزادی صحافت پر تو قدغن لگے گی ہی اس کے ساتھ لاکھوں قلم مزدوروں کے چولہے بھی ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ اس کی تمام ذمہ دار ی عثمان بزدار اورفیا ض الحسن چو ہان سمیت اس میڈیا پا لیسی کے تخلیق کارو ںپر ہو گی۔معروف صحافی اور کالم نگار شہزاد شیرازی کا کہنا تھا کہ بیو رو کریسی اور پنجاب حکومت نے مل کر یہ شرمناک پالیسی تشکیل دی ہے جس کا مقصد وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو عدم استحکام کا شکا ر کر نا ہے،اگر یہ پالیسی فی الفور واپس نہ لی گئی تو آزادی صحافت کا علم اٹھانے والے اسے سرنگوں نہیں ہونے دیں گے۔

تحریک کے رہنماجاوید بٹ کا کہنا تھا کہ بیس سال سے تبدیلی کی ڈفلی بجانے والو ں نے ستر سال سے موجوداخبا ری مافیا کا سا تھ دیکر تبدیلی کے تا بوت میں آخری کیل ٹھونک دیا ہے۔سینئر صحافی قیصر غفور نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج اخبار مالکان اور قلم مزدور ایک محاذ پر اکٹھے ہوئے ہیں اور ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ آزاد صحافت جو کسی بھی ریاست کا چوتھا ستون ہوتی ہے اسے زندہ رکھا جائے۔ سینئر صحافی احمد نقیبی کا کہنا تھا کہ ہم جنوبی پنجاب میں ہمیشہ سے محروم طبقے کی نمایندگی کا فرض نبھاتے آئے ہیں،ہم نے ہمیشہ ظالم طبقے کے اوچھے ہتھکنڈوں کا سامنا کیا لیکن جس قدر اوچھی حرکتیں موجودہ حکومت کا محکمہ اطلاعات کررہا ہے ہم نے نہیں دیکھیں۔

ہم ان کا سامنا بھی کریں گے اور انہیں راہ ِ راست پر بھی لائیں گے۔میاں شہباز احمد ارائیں نے کہا کہ ہم اپنی قیادت کے قدم سے قدم ملاکر اس جنگ کو جیتیں گے۔ہم اس مافیا کو اپنا حق ہڑپ نہیں کرنے دیں گے جو ہمیشہ سے وسائل پر قابض ہے۔دھرنے کے اختتام پر شرکا نے حکومت پنجاب کو ظالمانہ میڈیا پالیسی واپس لینے کے لیے دس روز کا نوٹس دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد ہر شہر اور ہر ضلعے میں دما دم مست قلندر ہوگا۔