ای پی اے پنجاب نے مختلف نئے قوانین و قواعد متعارف کرائے ہیں:صوبائی وزیرمحمد رضوان

صوبائی وزیر تحفظ ماحولیات محمد رضوان کی اہم پریس کانفرنس خواہاں ہیں کہ اپنی آنیوالی نسلوں کیلئے آلودگی سے پاک ماحو ل کی فراہمی یقینی بنائیں  تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر اسموگ سے نمٹنے کے لئے جامع حکمت عملی اپنا رہے ہیں

ای پی اے پنجاب نے مختلف نئے قوانین و قواعد متعارف کرائے ہیں:صوبائی وزیرمحمد رضوان

لاہور: صوبائی وزیر برائے تحفظ ماحولیات محمد رضوان نے کہا ہے کہ 2012 کے بعد سے ابتک وفاقی قوانین کو اپنایا جا رہا تھا جبکہ ای پی اے پنجاب کے لیئے مطلوبہ قواعد و ضوابط وضع نہیں کیے گئے تھے تاہم ای پی اے پنجاب نے اب مندرجہ ذیل قواعد / ضوابط تیار کیے ہیں جن میں مسودہ پنجاب ماحولیاتی تحفظ (جرائم کی انتظامی سزا) قواعد 2020، پنجاب میں (انتظامات اور ہینڈلنگ) رولز 2020، پنجاب ابتدائی جائزہ ماحولیات اور ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے ریگولیشن جبکہ یہ تمام قواعد عوامی مشاورت کے بعد تیا ر کیئے گئے اور بہت جلد حتمی منظوری کے لئے کا بینہ میں پیش کیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ 06ماہ قبل کہا تھا کہ بہت جلد تبدیلی لانے کی کوشش کریں گے اور بڑے فخر کی بات ہے کہ سیکرٹری ماحولیات زاہد حسین کے ہمراہ پوری ٹیم نے انتھک محنت اور پورے خلوص کے ساتھ کام کرتے ہوئے ای پی اے میں نئے رولز تیار کر لیئے ہیں جنکی وجہ سے سسٹم میں مزید شفافیت اور این او سی کے حصول میں نمایاں تبدیلی محسوس کی جا سکے گی۔اپنے دور میں EPA/EIAکا اسپیشل آڈٹ کروایا ہے جبکہ ون ونڈو سسٹم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے اور عید الاضحی کے بعد تمام تر متعلقہ ڈیٹا آن لائن کرنے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی درخواست گزار اپنے گھر میں ہی بیٹھ کر تمام مراحل سے آگاہ رہ سکے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے محکمہ ماحولیات کے کمیٹی روم میں ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران کیا جبکہ اس موقع پر سیکرٹری ماحولیات زاہد حسین،ڈی جی ارشد عباس اور دیگر متعلقہ افراد بھی موجود تھے۔

صوبائی وزیر نے مزید بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ماضی کی حکومت کی نالائقیوں کی وجہ سے پنجاب میں بیشتر یونٹس / انڈسٹری این او سی کے بغیر کام کررہی تھیں اور شدید آلودگی کا باعث بن رہی تھیں جبکہ ان میں زیادہ یونٹس ٹیکس چوری میں بھی شامل تھے تاہم جن یونٹس نے این او سی / منظوری حاصل کی ہوئی ہے ان کو بھی ماحولیاتی معیارات کو برقرار رکھنے کیلئے پابند کیا جائیگا۔ چھوٹے ریسورس ریکوری یونٹس کیلئے ایس او پیز تیار کیئے جا رہے ہیں جبکہ ایل جی اینڈ سی ڈی ڈی، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ای پی اے ملکر نادہندگان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گی تاہم اس سلسلے میں ایندھن میں ملاوٹ کرنیوالوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیاجائیگا اور ہفتہ وار رپورٹس چیف سیکر ٹری پنجاب کو جمع کروائی جائیں گی۔صوبائی وزیر نے مزید کہاکہ ہسپتالوں کے فضلہ جات کو غیر قانونی اور ناجائز طریقے سے ٹھکانے لگانے کی وجہ سے پھیپھڑوں کا کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جسکی روک تھام بہت ضروری ہے تاہم مضر صحت ایندھن وغیرہ استعمال کرنیوالوں کے خلاف کریک ڈاؤن بھی شروع کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم پاکستان کے حکم کے مطابق صرف یورو 5 ایندھن ہی استعمال کیا جاسکے گا کیونکہ غیر معیاری ایندھنوں سے انجنوں وغیرہ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور زہریلی گیسوں کے اخراج سے ماحول آلودہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ محکمہ ہیلتھ،محکمہ ماحولیات اور اسپیشل برانچ ملکر ہسپتالوں وغیرہ کے فضلہ کو غیر قانونی طور پر ضائع کرنیوالوں کے خلاف ایکشن لیں گے جبکہ تمام ڈسٹرکٹس کو پابند کیا جا چکا ہے کہ این او سی کے بغیر کوئی بھی یونٹ آپریشنل نہیں ہو سکے گا۔ڈینگی کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ پچھلے سال بھی وزیراعلیٰ پنجاب نے محکمہ کی کاوشوں کو خوب سراہا تھا جبکہ اس سال بھی اسی عزم سے کام کرہے ہیں تاہم 2017میں کچھ اختیارات کمشنرز کو دیئے گئے تھے جبکہ اس سال ڈپٹی کمشنرز کو اختیارات کی منتقلی سے امید کی جاسکتی ہے کہ این اوسی کے حصول میں درپیش رکاوٹوں کا ختم کیا جاسکے گا۔