موجودہ حالات میں سب سے پہلی ترجیح معیشت کا تحفظ ہے : مخدوم ہاشم جواں بخت

مشکل حالات کے باوجود پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا کاروبار دوست اور پروگریسو بجٹ پیش کیا: وزیر خزانہ پنجاب

 موجودہ حالات میں سب سے پہلی ترجیح معیشت کا تحفظ ہے : مخدوم ہاشم جواں بخت

لاہور: تاریخ کے سب سے مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ کورونا کی شکل میں جس وباء کا سامنا ہے وہ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ موجودہ حالات میں سب سے پہلی ترجیح معیشت کا تحفظ ہے۔ مشکل حالات کے باوجود پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا کاروبار دوست اور پروگریسو بجٹ پیش کیا۔محصولات میں کمی کے باوجودترقیاتی پروگرام پر سمجھوتا نہیں کیا۔ بجٹ کا ایک اہم جزو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ہے جس کے لیے اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔

رواں مالی سال میں اتھارٹی کے تحت لاہور رنگ روڈسدرن لوپ تھری کے 10ارب سے زائد کے منصوبہ کی مفاہمتی دستاویز بھی دستخط کی جا چکی ہے۔ بجٹ 2020-21میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے منصوبہ جات کو 5سال تک محصولات سے مستثنیٰ قرار دیا جا رہا ہے۔   ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے آج پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت وسائل میں کمی کے باوجود عوامی اخراجات میں کمی نہیں کر رہی۔ صوبائی سطح پر معیشت کی بحالی اور روزگار میں اضافے کے لیے حکومتی سطح پر ٹیکس میں سہولت مہیا کی جا سکتی تھی اس کے لیے 56ارب  روپے   سے زائدکا ٹیکس ریلیف پیکج دیا۔

تعمیراتی صنعت کو اہمیت دی گئی کیونکہ اس کے ساتھ 16مزید صنعتیں وابستہ ہیں۔ بجٹ میں ایک نیا ڈویلپمنٹ پیرا ڈائم متعارف کروایا جسے آگے بڑھو پنجاب کانام دیا گیا ہے۔ آگے بڑھو پنجاب کے تحت کورونا سے نمٹنے کے لیے106ارب کا پیکج مخصوص کیا گیا ہے جو کورونا کے دوران صحت اور معیشت کو درپیش مسائل سے نبرد آزما ہونے میں معاونت فراہم کرے گا۔کورونا کے دوران غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کے دوران ہر ماہ اخراجات کا جائزہ لیا جائے گا۔ کورونا کے دوران آنے والی تمام سفارشات کو وباء کی روک تھام پر اضافی اخراجات کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔ پچھلے سال 9ہسپتالوں اور چھ یونیورسٹیوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس سال محض تقریر کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے نئے منصوبہ جات کا اعلان کرنے کی بجائے انھیں منصوبہ جات کو لے کر آگے بڑھا جائے گا اس مقصد کے لیے تعلیم اور صحت کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ میں کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے چھوٹے چھوٹے پروگرام متعارف کروائے گئے ہیں جن میں شجر کاری، بھل صفائی، سڑکوں کی لائننگ، نہروں کی لائننگ شامل ہے۔ ان پروگرامز کا مقصد کورونا سے متاثرہ غریب طبقہ کو روزگار کی فراہمی ہے۔

میڈیا کی جانب سے سوالات کے جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی طرز پرپنجاب میں بھی آئندہ مالی سال میں محصولات کے اہداف کم کر دئیے گئے ہیں۔ محصولات میں کمی سے وسائل کو پورا کرنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری سے چلنے والے منصوبہ جات کا دائرہ کار بڑھا یا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافے کو آئندہ مالی سال کے اہداف کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

میٹرو اورنج لائن ٹرین کے حوالے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے بتایا کہ اورنج لائن ٹرین کے لیے اس سال بجٹ میں 9ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں سے 4ارب سبسڈی جبکہ ساڑھے چار ارب ٹین کے لیے گئے قرض پر سود کی ادائیگی کے لیے رکھے گئے ہیں۔صوبائی وزیر خزانہ میٹرو اورنج لائن کو سفید ہاتھی قرار دیا جسے زندہ رکھنے کے لیے حکومت کو ہر سال اربوں روپے کی سبسڈی اور قرض ادا کرنا پڑے گا۔