ای۔لرننگ کو تقویت دینے کے لیے حکومتوں کو پالیسی سطح پر اقدامات کرنے ہوں گے

 حکومتی اقدامات سے تعلیمی اداروں کی کاوشوں کو تقویت حاصل ہو گی، ملکی اور غیر ملکی تعلیمی اداروں سے منسلک ماہرین کا اظہار خیال

ای۔لرننگ کو تقویت دینے کے لیے حکومتوں کو پالیسی سطح پر اقدامات کرنے ہوں گے

اسلام آباد:  کورونا وبا کے بعد ای۔ لرننگ کے فروغ کے لیے اہم ڈھانچہ جاتی اور پالیسی سطح کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے جس کے لیے مختلف ممالک کی حکومتوں کو اپنی حکمت عملی مرتب کرنی چاہئے۔تعلیمی اداروں کی جانب سے نئے حالات کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تا ہم حکومتی اقدامات سے اس عمل کو تقویت حاصل ہوگی۔پاکستان اور بیرون ملک کے اہم تعلیمی اداروں سے وابستہ ماہرین تعلیم و تدریس نے ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی)  کے زیر اہتمام ’کورونا وبا اور اعلیٰ تعلیم و سیکھنے کے فاصلاتینظام کے لیے چیلنجز‘ کے زیر عنوان آن لائن مکالمے کے دوران اپنی گفتگو میں کیا جس کا انعقاد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔

سویڈن سے تعلق رکھنے والے ای۔ لرننگ کی ماہرڈاکٹر السٹیر کریلمین نے اس موقع پر درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بھی کئی طرح کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکھنے کے آن لائن طریقوں کے مؤثر استعمال کو سمجھنا ہو گااور اس کے لیے طلبہ اور تدریسی عملے کے درکار ہنر سکھانے ہوں گے۔ انہوں نے سکھانے اور سیکھنے کے لیے مؤثرمعاون مواد کی ضرورت پر زور دیا۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء القیومنے کہا کہ کورونا کے بعد ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے، ان سے نمٹنے کے طریقوں پر توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں طلبہ کو رسائی کے جن مسائل کا سامنا ہے، انہیں پیش نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار قائم رکھنے کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔اوپن یونیورسٹی آف ہانگ کانگ، چین کی ڈاکٹر چیونگ لی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ وبا سے قبل طلبہ اور اساتذہ ای۔ لرننگ سے کم آشنا تھے۔ ہم نے اس چیلینج کامقابلہ کرنے کے لیے مختلف اقدامات کئے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال وغیرہ شروع کیا۔

 فاطمہ جناح ویمنز یونیورسٹی راولپنڈی کی وائس چانسلر ڈاکٹر صائمہ حامدکا کہنا تھا کہ کورونا کے بعد روایتی تعلیم کے طریقوں سے ٹیکنالوجی کی بنیاد پر طریقوں کے استعمال کے عمل میں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکھنے کے عمل کے حوالے سے یونیورسٹیوں کو باہمی تعاون کے فروغ پر توجہ دینی چاہئے۔ یمبا یونیورسٹی کالج، سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ ہم  اپنے ادارے کی سطح پرطلبہ اور اساتذہ کی استعداد سازی پر توجہ دے کر اس چیلنج سے عہدہ برآ ہونے کی سعی کر رہے ہیں۔

ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر عمران خالد نے زور دیا کہ ہمیں ان طلبہ کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے جنہیں انٹر نیٹ اور دوسرے وسائل تک مؤثر رسائئ حاصل نہیں ہے۔ قبل ازیں ایس ڈی پیآئی کے شاہد منہاس نے کورونا وبا کے بعد ایلرننگ کے لیے چیلنجز اور مواقع کے مختلف پہلوؤں کی تفصیل پیش کی