بھارت سرحدی خلاف ورزیاں بند کرے اور دوبارہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہونے کو یقینی بنائے، چینی وزیر خارجہ

بھارت گلوان واقعات کی مکمل تحقیقات کرائے اور واقعات کے ذمہ داروں کو سخت سزا دے: وانگ ای

 بھارت سرحدی خلاف ورزیاں بند کرے اور دوبارہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہونے کو یقینی بنائے، چینی وزیر خارجہ

چینی وزیرخارجہ وانگ ای نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت گلوان واقعات کی مکمل تحقیقات کرائے اور واقعات کے ذمہ داروں کو سخت سزا دے۔ چینی وزیرخارجہ وانگ ای اور بھارتی وزیرخارجہ سبرامنیئم جے شنکر میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔  بھارت سرحدی خلاف ورزیاں بند کرے اور دوبارہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہونے کو یقینی بنائے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت چین کے علاقائی خودمختاری کے عزم کو ہلکا نہ لے اور موجودہ صورتحال کو غلط رخ نہ دے۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق بھارتی وزیرخارجہ نے سرحدی تنازعات پر بات چیت اور پُرامن حل کا کہا ہے ۔ چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ واضح رہے کہ چینی اور بھارتی فوج کے درمیان  لداخ میں کشیدگی برقرار  اور مسلسل جھڑپوں کے واقعات بھی ہورہے ہیں۔ 

چینی اور بھارتی افواج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق خود بھارتی اخبار نے کی۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی اور چینی افواج کے درمیان جھڑپیں کئی گھنٹوں تک جاری رہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جھڑپوں میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہیں۔

اس حوالے سے برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے، تاہم اس نے صرف بھارتی فوجیوں پر سرحد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھارتی میڈیا نے صرف تین فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ دوسری جانب چین نے متنازع علاقے لداخ میں فوجی تصادم کا ذمہ دار بھارت کو قرار دے دیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے ایک روز قبل سرحد کی خلاف ورزی کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد کی خلاف ورزی کے دوران بھارتی فورسز نے چینی فوجی اہلکاروں پر حملہ کیا اور اشتعال انگیزی پھیلائی۔